ڈاکٹر عبد القادر شمس قاسمی کچھ یادیں کچھ باتیں

ڈاکٹر عبد القادر شمس قاسمی کچھ یادیں کچھ باتیں

تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

 ڈاکٹر محمد اجمل قاسمی

جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی

میں 1998 میں علی گڑھ سے ایم اے کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دہلی آ گیا اور ذاکر نگر واقع گلی نمبر 12 میں قیام پذیر ہوا۔ مولانا اسرار الحق قاسمی مرحوم کے زیر نگرانی ملی کونسل سے وابستہ ہو گیا ۔ انہیں دنوں مولانا عبد القادر شمس قاسمی صاحب پٹنہ سے دہلی تشریف لائے اور ملی کونسل کے دفتر میں ان سے ملاقات ہوئی۔ یہ ہماری ان سے آمنے سامنے سب سے پہلی ملاقات تھی ورنہ میں ان سے ملی اتحاد میگزین کےطفیل سے واقف ہو گیا تھاکہ وہ اس کے معاون مدیر تھے ۔ اور اب دہلی منتقل ہو گئے تھے ، پہلی ہی ملاقات میں ہم شیر وشکر ہو گئے ، نہایت ہی خوش مزاجی سے ملے، اپنے پن کا اظہار اس طرح کرنے لگے جیسےوہ مجھے کافی دنوں سے جانتے تھے اور ایسا محسوس ہو رہاتھا کہ دونوں کبھی ایک ساتھ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو جانتے اور پہنچانتے ہیں۔میں جے این یو میں ایم فل کا طالب علم تھاوہ بہت خوش ہوئے کہ دار العلوم سے فراغت کے بعد تعلیمی سلسلہ جاری رکھا ہے، انہوں نے بھی خواہش ظاہر کی کہ اس مرحلے میں کیا کر سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کرنا چاہتا ہوں، میں نے انہیں جامعہ ملیہ کا حوالہ دیا کہ ملی کونسل میں رہتے ہوئے جامعہ سے بہتر اور کون سی یونیورسٹی ہو سکتی ہے، بہر حال وہ دن بھی کچھ اپریل اور مئی کے ہی تھے دونوں لنچ کے وقفے میں خراماں خراماں غفور نگر ہوتے ہوئے جامعہ چلے گئے اور منصور علی خاں پٹودی اسپورٹس اسٹیڈیم کے پاس بنے کاؤنٹر سے ایک عدد فارم لے آئے۔ فارم تو لے آئے سہی، اس دوران میں بھی بھول گیا کہ فارم بھر کر جمع کیا گیا یا نہیں اتفاقا میں نے ایک روز استفسار کر ڈالا کہ جامعہ کا فارم آپ نے جمع کردیا برادرم، وہ چونک کر بیٹھ گئے، پھر ذرا ٹھہر کر کہنے لگے مصروفیات اور ذمہ داریاں اتنی زیادہ ہیں، شاید میں مزید تعلیم کے لئے اپنے آپ کو تیار نہیں کر پاؤں گا، میں نے کہا آپ کل فارم دفتر لے آیئے گا کہ دونوں مل کر فارم بھر لیں گے، فارم جمع کرنے کےلئے دو روز باقی تھے۔ آناً فاناً میں فارم جمع ہو گیا اور پھر انہوں نے داخلہ بھی لے لیا۔ کچھ روز گذرنے کے بعد میں نے ان کے لئے جے این یو کے اردو ماس میڈیا کورس کا فارم لے آیا اور وہ بھی انہوں نے آخری دم میں جمع کیالیکن اس کورس کو انہوں نے بڑی سنجیدگی سے مکمل کیا ۔ ملی کونسل میں ڈاکٹر عبد القادر شمس حاٖفظ نوشیر احمد اور میں ثالث ثلاثہ تھے ہم تینوں کی ایک ساتھ نشست و برخاست ہوتی تھی۔ یہاں کی تفصیلات کسی اور موقعے پر ضبط تحریر میں لاؤں گا ان شاء اللہ۔

میں ان چند اشخاص میں سے ہوں جنہیں ڈاکٹر عبد القادر شمس نے اپنے ہاتھوں سے صحافت کی باریکیاں سکھائی ہیں۔ انہوں نے مجھےہفت روزہ نئی دنیا میں حالات حاضرہ سے متعلق مختلف موضوعات پر مراسلے لکھوائے ان کی تصحیح کی اور خوب حوصلہ افزائی کی۔ جب انہوں نے روزنامہ راشٹریہ سہارا جوائن کیا تو تقریبا ہر ہفتے مجھ سے مراسلے لکھواتے تھے اور اسی طرح لکھتے لکھتے میں تجزیاتی مقالے لکھنا شروع کر دیا۔ آج جو بھی مجھےذرا سی صحافت کی سد ھ بدھ ہے تو انہی کی مرہون منت ہے۔

ڈاکٹر عبد القادر شمس قاسمی کو واقعی مرحوم لکھنے کے لئے دل آمادہ نہیں ہو رہا ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ موت کا ایک دن معین ہے آج ان کی تو کل ہماری باری ہے، اس حقیقت سے کون راہ فرار اختیار کر سکتا ہے اس کے باوجود دل و دماغ یقین کرنے سے قاصر ہے کہ ڈاکٹر شمس قاسمی اتنی جلدی ہمیں دائمی داغ مفارقت دے کر چلے جائیں گئے۔ ان کے ساتھ نشست و برخواست کا ایک ایک لمحہ اپنے دل کے نہا خانے میں اس طرح پیوست ہے کہ اس کو فراموش کرنا بہت مشکل ہوگا۔ڈاکٹر شمس قاسمی کے ساتھ گذرے ہوئے لمحات ہر اس وقت یاد آئیں گے جب بھی قرطاس و قلم ہاتھ میں ہوں گے اور کچھ لکھنے کا ارادہ کیا جا رہا ہو گا۔

ڈاکٹر مولانا عبد القادر شمس قاسمی نہایت ہی منکسر المزاج، متواضع ، حشاش بشاش شخصیت کے مالک تھے، ان کی شخصیت میں تکبر و غروور وگھمنڈ کا ذرہ برابر بھی شائبہ نہیں تھا جیسا کہ عموما لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ میری کسی چھوٹی سی کامیابی پر اتنے خوش ہوتے جیسا کہ وہ کارنامہ خود ہی انجام دیے ہوں اور میر ی ذرا سی پریشانی اور تکلیف سے اتنے رنجیدہ ہوتے گویا اس تکلیف اور پریشانی سے خود نبرد آزما ہیں۔ ایسا بے ضرر انسان ، مجھے فخر ہے کہ وہ میرے مربی ، بھائی اور دوست تھے۔ ایسی انکساری ، مجھے یاد نہیں کہ کبھی وہ میرا نام لے کر پکارے ہوں۔مجھے نہیں لگتا کہ ان سے کبھی کسی کو کوئی تکلیف پہنچی ہو گی اس کے ساتھ ساتھ وہ بے حد محنتی تھے اپنی ذاتی مصروفیات کے باوجود دوسروں کے کاموں کے لئے ہمہ تن تیار رہتے تھے خواہ اس میں ان کے اپنے کام ہی خطرے میں پڑ جائیں۔

زندگی کی صرف اڑتالیس بہاریں دیکھیں مگر اتنی کم مدت میں بڑے کارنامے انجام دیے۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ملی اتحاد سے اپنی صحافت کا آغاز کیا اور شروع سے انتہا تک اس کے اداریےکے کالم لکھتے رہے۔2002 میں سہارا میڈیا کا ہفتہ وار میگزین عالمی سہارا جوائن کیا اور اخیردم تک اس کے سینئر سب ایڈیٹر رہے اس میگزین کے التوا میں چلے جا نے کے بعد روزنامہ راشٹریہ سہارا میں منتقل ہو گئے اور تا حیات اس کے اداریے کے مضامین لکھتے رہے اس طرح سہارامیڈیا میں مسلسل 18برس تک اپنی صحافتی خدمات انجام دیے اور مختلف تاریخی، سماجی، معاشی، تعلیمی ، سیاسی اور نامور شخصیات پرمقالے تحریر کئے۔

ناگہانی حادثات نے ان کا کبھی پیچھا نہیں چھوڑا، زمانہ طفولیت میں ہی والدگھریلو اختلافات سے پیدا شدہ حادثہ کا شکار ہو گئے جس کی وجہ سے خانوادے کی ساری ذمہ داری ان کے کندھے میں آن پڑی ، چھوٹے بھائی عبد الواحد رحمانی کی تعلیم و تربیت کی ، پھر شادی ہوئی تو اہل و عیال کی دیکھ بھال اور بچوں کی پرورش و پرداخت میں محنت کشاں رہے۔ 2013 کے دہلی ہائی کورٹ میں ہوئے بم دھماکے میں اپنی جان سے بال بال بچے لیکن دھماکے کی گونج سے اہلیہ کے کانوں کو شدید نقصان پہنچا جس کی وجہ سے ان کی سماعت میں اب بھی اس کا اثر پایا جاتا ہے۔ پھر 2017 میں آفس سے واپسی میں اپنی موٹر سائیکل سے روڈ ایکسیڈنٹ کا شکار ہوئے تو بایاں پیر مکمل طور پر تھچکا ہو چکا تھا تقریبا سات آٹھ مہینے تک گھر بیٹھنا پڑا مگر اپنے فریضے کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا بلکہ گھر سے آفس کا سارا کام انجام دیتے رہے ۔اتنی قربانیاں، فرائض منصبی کے لئے اتنے ایثار، بلاشبہ وہ فرشتہ صفت انسان تھے کہ تھکنا ان کے مقدر میں نہیں لکھا تھا۔ ڈاکٹر عبد القادر شمس ہم سے جدا گئے، ان کی واپسی اب کبھی نہیں ہوگی ہاں لیکن خواب و نیند میں ضرور ملاقات ہوگی، گلے شکوے ہوں گے، منت و سماجت ہوگی ، خواب میں ہی ساغر و مینا کی بات کریں گے ، بہار کے دنوں کو شکوے کا موقع نہیں ملے گا کیونکہ ملاقات کا ایک راستہ تو ہے کہ خوابوں سے مستعار لے کر ان سے ملاقات کا شرف حاصل کریں گے۔

ویراں ہے مے کدہ غم و ساغر اداس ہیں

تم کیا گئے کہ روتھ کئے دن بہار کے

ڈاکٹر عبد القادر شمس عوامی اور رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔اپنی تنظیم ادارہ دعوت القرآن ٹرسٹ کے تحت اپنے علاقے ڈوبا، ضلع ارریا میں مختلف رفاہی خدمات انجام دے رہے تھے ،مکتب کے ساتھ ساتھ ایک ہاسپیٹل بھی چل رہا ہے جس کے وہ صدر تھے۔ 2018 کے ہلاکت خیز سیلاب میں اپنی ٹرسٹ ادارہ دعوت القرآن کے ذریعہ متاثرین کو اشیائے خوردنی کے علاوہ لباس مکان وغیرہ بہم فراہم کئے۔

اپنی چار اولاد، ایک لڑکا عمار جامی جس کو دارلعلوم ندوۃ العلماء سے عالمیت کی تعلیم دلائی پھر دار العلوم دیوبند سے فضیلت کے ڈگری کے بعدوہ ملک کی مشہور یونیورسٹی جواہر لال نہرو یونیورسیٹی میں اعلی تعلیم دلا رہے تھے۔ عمار جامی اس وقت جے این یو میں بے اے عربی سیکنڈ ایئر کا طالب علم ہے۔بڑی لڑکی حنا شاہین جامعہ ملیہ سے گریجویشن کرنے کے بعد الفلاح یونیورسٹی فرید آباد سے ڈپلومہ ان ایجوکیشن کر رہی ہیں جبکہ منجھلی بیٹی صبوحی فاطمہ جامعہ ملیہ میں ٹرکش اسٹڈیز میں گریجویشن کی طالبہ ہیں اور سب سے چھوٹی لڑکی عظمی پروین جامعہ ملیہ میں ہی بارہویں کی طالبہ ہیں۔

ان کی بیماری کی خبر سننے کے بعد، میں مسلسل عمار جامی سے رابطے میں تھا،عمار کی آواز میں تھر تھراہٹ تھی، گھبرایا ہوا محسوس ہو رہا تھا، میں نے دلاسہ دیا، گھبرانے کی بات نہیں وہ ان شاء اللہ وہ اس بیماری کی جنگ کو ضرور جیتیں گے ، جلد ہی صحتیاب ہوکر آئیں گے۔ لیکن اللہ تعالی کومنظور وہی تھا جو تقدیر میں لکھا تھا کہ ان کا ٹائم پورا ہو چکا تھا ، انہوں نے اپنی رب کی آواز کو لبیک کہا اور اپنی جان جان آفریں کے حوالے کردی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

اللہ تعالی ان کی تمام اچھائیوں کو قبول فرمائے، ذرہ ذرہ ان کی مغفرت کرے ، بروز قیامت ان کو صدیقین شہداء صالحین کی صفوں میں جمع کرے اور ان کے تمام اعزاء و اقارب دوست و احباب، خصوصا ان کے برادرعزیز عبد الواحد رحمانی، عمار جامی، اہلیہ اور بیٹیوں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور انہیں ہر بلا ، آفت و مصیبت سے حفاظت کرے اور صحت و تندرستی کے ساتھ رکھے۔ آمین

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *