افتخار گیلانی
پچھلے سال اگست میں جب بھارتی حکومت نے کشمیر میں مواصلاتی لاک ڈاؤن نافذ کردیا، انٹرنیٹ سمیت موبائل اور لینڈ لائن فون کی سروس بھی بند کردی، تو شمالی کشمیر کے بارہمولہ قصبہ میں بھارتی فوج کی 19ویں ڈویژن کے ہیڈکوارٹر کے باہر جموں و کشمیر بینک کی اے ٹی ایم مشین سے ایک سپاہی روز ہی پیسے نکالنے آتا تھا۔ خواجہ باغ علاقے میں واقع اس اے ٹی ایم مشین کا چوکیدار تجسس میں تھا، کیونکہ سپاہی روز ہی مقررہ وقت پر آکر نہایت ہی معمولی رقم نکالتا تھا۔کشمیر میں کسی سپاہی سے سوال کرنے کیلئے خاصی جرأت اور بہادری چاہئے۔ ایک دن جب اے ٹی ایم کے باہر اور بھی لوگ لائن میں کھڑے تھے، چوکیدار نے جرأت کرکے سپاہی سے پوچھ ہی لیا، کہ آخر وہ روز، روز اے ٹی ایم پر آکر اتنی معمولی رقم کیوں نکالتا ہے؟ تو سپاہی نے بتایا کہ وہ اتر پردیش کے کسی گاؤں کا رہنے والا ہے اور مواصلاتی رابطوں کے منقطع ہونے کی وجہ سے وہ کئی ماہ سے اپنے گھر بات نہیں کر پارہا ہے۔ چونکہ اس کا بینک اکاونٹ ، اس کی بیوی کے موبائل نمبر سے منسلک ہے، اس لئے وہ اے ٹی ایم سے پیسے نکالتا ہے، تو بینک کے سسٹم سے ایس ایم ایس سے گاؤں میں اس کی بیوی کے موبائل پر پہنچتا ہے۔’’ جس سے اس کو میری خیریت معلوم ہوتی رہتی ہے اور یہ پتہ چلتا ہے کہ میں زندہ ہوں۔ ‘‘ مواصلاتی رابطوں کے مسدود ہونے یہ ایک بھارتی سپاہی کی حالت تھی، تصور کیجئے کہ عام آدمی کا کیا حال ہوا ہوگا۔
آج کی دنیا میں تصور کرنا بھی محال ہے کہ بس چند دہائی قبل کس طرح موبائل اور انٹرنیٹ کے بغیر لوگ زندگی گذارتے تھے۔ بھارت کے وزیر اطلاعات و نشریات پرکا ش جاویڈکر نے پچھلے سال ایک بار کابینہ کی بریفنگ کے دوران کسی دوسرے معاملے کو لیکر بتایا تھا کہ آج کے دور میں سب سے بڑی سزا اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی کسی شخص کو مواصلات سے دور رکھنا ہے۔ ستم ظریفی تو یہ تھی کہ اسی وقت کشمیر کی تقریباً 12ملین آبادی اس سزا کو جھیل رہی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دہائی قبل جب میں دہلی کے تہاڑ جیل میں سرکاری مہمان تھا، تو سزا کے طور پر کسی قیدی کو جب قصوری سیل میں بند ہونا یا پٹائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کیلئے کہا جاتا تھا، تو اکثر قیدی پٹائی کو ہی ترجیح دیتے تھے۔ قصوری سیل میں قید تنہائی میں 24 گھنٹے بند ہونے سے اوسان خطا ہو جاتے تھے۔ کسی آدم یا آدم زاد کی آواز سننے کیلئے کان ترس جاتے تھے۔
انسانی حقوق کی تنظیم جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی یعنی جے کے سی سی ایس نے کشمیر میں گزشتہ ایک برس سے زائد مواصلاتی رابطوں پر حکومتی بندشوں کی عوامی زندگی پر اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ اپنی ایک جامع رپورٹ میں تنظیم نے موبائل انٹرنیٹ خدمات پر جاری پابندی کو اجتماعی سزا کی علامت قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ میانمار کے بعد کشمیر میں دنیا کا طویل ترین انٹرنیٹ لاک ڈاون نافذ تھا۔ میانمار میں پھر بھی دیگر نیٹ ورک بند نہیں تھے۔ لہذا مواصلاتی رابطوں کو بند کرنے میں کشمیر دنیا کی تاریخ میں پہلی مثال ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال رواں کے ماہ جنوری میں جب ٹو جی موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال کی گئیں، تب سے بھی 70 بار عارضی طور پر اس کو معطل کرنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ مزید ماہرین کا حوالہ دیکر بتایا گیا ہے کہ 12.25 ملین کی آبادی کو 3.5 بلین گھنٹے کی انٹرنیٹ ترسیل روک دی گئی۔
پچھلے سال 5 اگست کو جب بھارتی پارلیمان نے ریاست کو تحلیل کرکے ضم کر دیا، تو اکثر علاقوں میں عوام کو کئی روز تک پتہ ہی نہیں چل سکا کہ آخر کونسی آفت ٹوٹ پڑی ہے۔ کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد بھی حکام کے دل نہیں پسیجے۔ ڈاکٹر اور اسپتال اس قدر معذور تھے کہ وہ اس وبا سے نپٹنے کیلئے ضروری مواد اور ہدایات کو ڈاؤن لوڈ نہیں کر پارہے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فاسٹ انٹرنیٹ کی عدم موجوگی کی وجہ سے اسپتالوں میں ڈاکٹر پیچیدہ کیسز یا آپریشن کا فیصلہ لینے سے قبل سینئر ڈاکٹروں سے مشورہ نہیں کر پاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اکثر مریضوں کے علاج یا آپریشن کرنے کا وہ رسک نہیں لیتے ہیں۔ آج کی دنیا میں انٹرنیٹ اور تجارت اس قدر مربوط ہو چکی ہے کہ ان کو الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پچھلے سال اگست اور دسمبر کے درمیان انٹرنیٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے کشمیری معیشت کو 178.8 بلین روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ انڈین کونسل فار ریسرچ آن انٹرنیشنل اکنامک ریلیشنز کے مطابق کشمیر پہلے ہی مختلف قسم کے لاک ڈاون جھیل رہا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق 2012 سے 2017 تک حکومت کی طرف سے وقفہ وقفہ سے عائد لاک ڈاون کی وجہ سے کشمیر ی معیشت کو 40 بلین روپے کا نقصان پہلے ہی اٹھانا پڑا تھا۔ اس دوران بینکوں کا کیا حال ہوگیا ، جے کے سی سی ایس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دیگر بینکوں یا اپنی ہی دیگر شاخوں کے ساتھ لین دین کیلئے ان کو ہرکاروں کا سسٹم بحال کرنا پڑا۔ اپنے گاہکوں تک پہنچے اور ان کو کوئی اطلاع دینے کا کوئی ذریعہ ہی نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق کشمیر میں تقریباً ڈھائی لاکھ ہنر مند دستکاری کے پیشہ سے وابستہ ہیں، ان میں 60 سے 70 ہزار بے روزگار ہو چکے ہیں۔ اگست اور ستمبر کے دوران اکثر دستکار دنیا کے مختلف حصوں سے آرڈر انٹرنیٹ پر وصول کرتے ہیں۔ صرف اسی شعبہ کو ہی 10 بلین روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مواصلاتی ناکہ بندی کے ابتدائی 120 دنوں میں ہی سیاحت کے شعبہ کو 91.91 بلین روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ ہر سال کشمیر سے تقریباً دو لاکھ میٹرک ٹن سیب بر آمد ہوتے ہیں۔ ہارٹیکلچر انڈسٹری کہ وجہ سے ہر سال تقریباً 80 سے 90 بلین روپے خطے میں گردش کرتے ہیں۔ شوپیان کے ایک باغبان شاہنواز کے مطابق پچھلے سال اس کے باغ میں سیبو ں کی عمدہ فصل ہوئی تھی۔ چونکہ دہلی کی آزاد پور فروٹ منڈی میں کمیشن ایجنٹوں سے اس کا رابط ، فون کے ذریعے ہی ہوتا ہے، وہ وقت پر فصل بھیج پایا نہ ہی اس کے واجب دام وصول کر پایا۔ سیب اگانے والوں کیلئے حکومت نے ڈپٹی کمشنر دفاتر میں لینڈ لائن فون کی سہولت فراہم کی تھی۔ جب شاہنواز فون کرنے کیلئے دفتر پہنچا تو وہاں اتنی لمبی لائن لگی تھی، کہ تین دن بعد ہی وہ دہلی فون کر پایا۔ کمیشن ایجنٹ نے 1200 روپے کا سیبوں کا بکس 500روپے میں ہی بیچ دیا۔
مواصلاتی رابطوں کے منقطع ہونے سے ٹرانسپورٹر بھی دستیاب نہیں تھے۔ جہاں ایک بکس پر دہلی لے جانے کیلئے 60 سے 70 روپے کا کرایہ ہوتا ہے ، شاہنواز کو 180روپے فی بکس دینے پڑے۔ چند برس قبل بھارت میں حکومت نے کئی مقامی ٹیکسوں کو ضم کرنے ایک ملک ایک ٹیکس کے نام پر گڈز اینڈ سروس ٹیکس یعنی جی ایس ٹی لاگو کر دیا، جو تاجرو ں کو مرکزی حکومت کو انٹرنیٹ کے ذریعے ہر ماہ دینا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں سرینگر کے ایک تاجر اقبال احمد گنائی کا تذکرہ ہے کہ 600 کلومیٹر دور پنجاب بارڈر کراس کرکے مادھو پور میں گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی کرکے وہ اپنے موبائل انٹر نیٹ سے یا کسی انٹرنیٹ کیفے سے ٹیکس کی ادائیگی کرکے واپس سرینگر آتا تھا۔ اس کام کیلئے اس کو تین دن لگتے تھے۔ دو دن سفر میں اور ایک رات جموں میں ہوٹل میں قیام کرنا پڑتا تھا۔ ماحولیاتی آلودگی سے نسبتاً پاک ہونے کی وجہ سے کئی سالوں سے حکومت کشمیر میں سافٹ ویر اور کمپوٹر ہارڈ ویر انڈسٹری کو بڑھاوا دینے کی کوششیں کر رہی تھی۔ مگر اس نوزائدہ انڈسٹری کی کمر ہی مواصلاتی رابطوں کے منقطع ہونے کے وجہ سے ٹوٹ گئی ہے۔ انٹرنیٹ اس انڈسٹری کی جا ن ہے۔
پچھلے سال ایک آئی ٹی کمپنی کے ایک سی ای او کو گرفتار کرکے ایک ہفتے تک انٹروگیشن سینٹر میں محبوس رکھا گیا ۔ اس کا قصور تھا کہ مواصلاتی لاک ڈاؤن کا اعلان ہونے کے ایک گھنٹہ کے بعد بھی اس نے مواصلاتی لائن بحال رکھی تھی۔ یہ شخص امریکہ میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی ملازمت چھوڑ کر حکومت کی کال پر کشمیر میں آئی ٹی یونٹ کھولنے کیلئے آیا تھا۔ اس کی کمپنی میں 150 افراد کام کرتے تھے۔ اور ایک قلیل عرصے میں ہی اس انڈسٹری نے 25,000 ہزار افراد کو ملازمت فراہم کی تھی۔ جے کے سی سی ایس کی رپورٹ کے مطابق اس سی ای او نے بتایا کہ کشمیر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا سیکٹر اب ختم ہو گیا ہے۔
پچھلے سال اگست میں ریاست جموں کشمیر کی خصوصی آئینی پوزیشن کو ختم کرتے وقت بھارتی حکومت نے دنیا کو بتایا کہ اب کشمیر میں تعمیر و ترقی کے نئے باب رقم ہونگے، کیونکہ اس کے بقول خصوصی پوزیشن آڑے آرہی تھی۔ مگر حالت اب یہ ہے کہ اس ایک سال ہی میں کشمیر میں صنعت و تجارت کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ جے کے سی سی ایس کی رپورٹ کے مطابق کشمیریوں کی ایک طرح سے اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور مواصلاتی نظام منقطع کرنا عصبیت کی بدترین مثا ل ہے۔

Leave a Reply