سمندر میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ جو ہوا اس کے بارے میں سو چا بھی نہیں جاسکتا

سمندر میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ جو ہوا اس کے بارے میں سو چا بھی نہیں جاسکتا

خبر در خبر (650)

شمس تبریز قاسمی

چھ مہینہ تک سمندر کا سفر ۔ راستے میں کھانے پینے کا کوئی جگار نہیں ۔ پانی بھی میسر نہیں ۔ پیاس بجھانے کیلئے پیشاب پینا پڑا ۔ منزل کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں کہ جانا کہاں ہے ۔ صرف زمین کے ایک ایسے ٹکرے کی تلاش جہاں ٹینٹ لگاکر اپنی زندگی گزار سکیں ۔ یہ کہانی ہے ان تین سور روہنگیا مسلمانوں کی جو بھکٹے بھکٹے انڈونیشا پہونچے ہیں ۔

چھ مہینہ تک سمندروں کا سفر کرنے کے بعد روہنگیا سے تین سو کے قریب پناہ گزین اور مہاجرین 5 ستمبر 2020 کو انڈونیشیا پہنچ گئے ہیں۔ وہاں کی پولیس کا کہنا ہے کہ مچھیروں نے سماٹرا کے شمالی ساحل پر کئی میل کی مسافت سے ایک لکڑی کی کشتی کو دیکھا ۔ سمندر میں وہ کشتی چل رہی تھی ۔ مچھیرے کشتی کے قریب گئے جو ان پناہ گزینوں کو روہنگیا سے لے کر آ رہی تھی۔ اس کشتی میں 297 افراد سوار تھے جن میں 14 بچے بھی شامل ہیں۔

یہ سب میانمار سے اپنی جان بچاکر نکلے تھے اور باقی زندگی سلامتی کے ساتھ گزار نے کیلئے کشتی میں سوار تھے ۔ میانمار میں پچھلے پچاس سالوں سے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم وستم جاری ہے اور 2015 سے اس ظلم کی انتہاء ہوچکی ہے ۔ لاکھوں مسلمان قتل کئے جاچکے ہیں اور دنیا کے مختلف ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں ۔ صرف بنگلہ دیش میں ایک ملین سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین ہیں اور یہ ملک روہنگیا مہاجرین کا سب سے بڑا مرکز ہے ۔

ابھی بھی میانمار میں کچھ روہنگیا مسلمان موجود ہیں ۔ پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں ۔ پولس تلاش کرکے مارتی ہے۔ ان کے گھروں کو جلادیتی ہے ۔ ان کے پاس موجود سبھی روپیہ پیسہ چھین لیتی ہے اور پھرزندہ جلادیتی ہے ۔ مار دیتی ہے اور کبھی سب کچھ چھین کر پولس کہتی ہے کہ یہاں سے فوراً نکل جاؤ اور پھر اس وقت ان کے پچاس اپنی جان بچانے کیلئے اور راستہ نہیں ہوتاہے ۔ وہ پہلے بنگلہ دیش کی طرف جاتے ہیں ۔ وہاں ٹھکانہ تلاش کرتے ہیں ۔ وہاں کوئی ٹھکانہ نہیں ملتا ہے تو پھر کشتی میں سوار ہوکر سمندر میں سفر کرنے لگتے ہیں ۔ کبھی انڈونیشیا جاتے ہیں ۔ بھی ملیشا جاتے ہیں اور کبھی راستے میں اسمگلر انہیں گرفتار کرلیتے ہیں ۔ کبھی ان کی کشتی سمندر میں ہلاک ہوجاتی ہے اور سبھی کی موت ہوجاتی ہے ۔نہ کسی کو پتہ چلتاہے اور نہ کوئی ان کی خبر لینے والا ہوتاہے ۔ بنگلہ دیش میں کئی بڑے بڑے اسمگلر بھی موجود رہتے ہیں ۔ وہ روہنگیا مسلمانوں کو انڈونیشیا اور ملیشیا پہونچانے اور یہاں ٹھہرانے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن راستے میں وہ انسانی ڈاکو ان سبھی کو ماردیتے ہیں ۔اور ان کے جسم کا اعضاء جیسے دل ، گردہ ، آنکھ وغیرہ نکال بیچتے ہیں ۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 25 اگست 2017 سے 354 روہنگیا دیہاتوں کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر نذر آتش کر دیا گیا۔ انسانوں کی تعداد ان گنت ہے ۔

روہنگیا بحران پر کام کرنے والے ایک این جی او کی ڈائریکٹر کرس لیوا کا کہنا ہے کہ 2015 سے انڈونیشیا میں روہنگیا پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مہاجرین نے ملائیشیا کے لیے اپنے سمندری سفر کا آغاز مارچ کے آخر اور اپریل کے آغاز سے جنوبی بنگلہ دیش سے کیا تھا۔ مگر انھیں ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے حکام نے کورونا وائرس کی پابندیوں کی وجہ سے واپس بھیج دیا تھا۔انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان پناہ گزینوں کو ساحل پر چھوڑنے سے قبل ا سمگلروں نے سمندر میں مزید پیسے دینے کا مطالبہ کر کے کچھ عرصے سے روک رکھا ہو گا۔ ان روہنگیا مہاجرین میں سے ایک شخص سوموار کو علاج کی غرض سے ہسپتال بھی گیا۔ مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کی افسر اوکتینا کا کہنا ہے کہ اس وقت بہت سے مہاجرین کی صحت خراب دکھائی دے رہی ہے۔

انڈونیشیا مقامی افراد ان مہاجرین میں خوراک اور پہننے کے کپڑے تقسیم کررہے۔ ایک مقامی خاتون عائشہ نے نیوز ایجنسی رائٹر سے کہا کہ یہ ہماری طرح کے انسان ہیں، اس وقت انھیں انسانی بنیادوں پر مدد کی اشد ضرورت ہے۔

اسی سال جون میں سو کے قریب روہنگیا مہاجرین انڈونیشا پہونچے تھے جن میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی اس علاقے میں دو گروپوں میں آئے تھے۔۔ان کے مطابق وہ چار ماہ کا سمندری سفر طے کرنے کے بعد یہاں تک پہنچے تھے۔ اس دوران راستے میں انھیں ا سمگلروں نے گرفتار کرلیا ۔ بے دردی اور سفاکی کے ساتھ مارا پیٹا۔ پانی بھی پینے کیلئے نہیں دیا اور زندہ رہنے کے لیے انھیں اپنا پیشاب پینے پر مجبور کیا ۔کرس لیوا کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ان تمام روہنگیا مہاجرین نے، جن کی مجموعی تعداد آٹھ سو تک بنتی ہے، اس سال کے آغاز سے جنوبی بنگلہ دیش سے اپنے سفر کا آغاز کیا ہو۔ ان میں سے 30 مہاجرین کی سمندر میں ہی موت واقع ہوئی ہے۔

جنوری 2018 میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں میانمار نے کہاتھا کہ وہ ہر مہینہ پندرہ سو روہنگیا کو اپنے یہاں آنے کی اجازت دے گا لیکن ابھی تک ایک بھی روہنگیا کو باہرسے میانمار نے قبول نہیں کیا ہے ۔ جو پہاڑوں اور جنگلوں میں چھپ چھپاکررہ رہے ہیں انہیں بھی وہاں سے ایک ایک کرکے نکالا جارہا ہے ۔

یہ روہنگیا کون ہیں اور کیوں ان پر اتنا ظلم ہورہا ہے ۔

وکی پیڈیا پر روہنگیا افراد کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں: ’روہنگیا افراد انڈو آریان بولنے والے بے ریاست افراد ہیں جن کا تعلق میانمار کی ریاست رخائن سے ہے۔ تاریخی سچائی کے مطابق یہ لوگ برسوں سے رخائن کے شہری ہیں اور وہاں آباد ہیں ۔ روہنگیا مسلمان میانمار میں مسلمانوں کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں ۔ 1950 کی دہائی کے بعدمیانمار کی حکومت انھیں شہریت دینے سے انکار کرنا شروع کردیا ۔ 2014 کی مردم شماری میں بھی ان کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ یہ بودھ اکثریتی ملک ہے اور اقلیتوں پر اب سب سے زیادہ کیلئے یہ ملک جانا جاتا ہے ۔ میانمار کی حکومت کا کہناہے کہ روہنگیا میانمار کے اورینجل شہری نہیں ہیں۔ یہ سبھی بنگلہ دیش کے غیرقانونی مہاجرین ہیں جو یہاں برسوں سے آکر آباد ہیں ۔ دوسری طرف بنگلہ دیش بھی روہنگیا افراد کو اپنا تسلیم نہیں کرتا ہے ۔ بنگلہ دیش کے مہاجرین کیمپوں میں پیدا ہونے والے روہنگیا بچوں کو پیدائش کے سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیے جاتے ہیں ۔ ان کی حیثیت وہاں ایک مہاجر کی ہے ۔

(مضمو ن نگار ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر اور پریس کلب آف انڈیا کے ڈائریکٹر ہیں)

stqasmi@gmail.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *