محمد شارب ضیاء رحمانی
اس سوال کا جواب کوئی نہیں دیتا کہ اگر مسلم قیادت کی توسیع ضروری ہے اور سیاسی وسعت ضروری ہے تو، تلنگانہ مین سات آٹھ پر کیوں لڑتے ہیں اور جب مہاراشٹر ، یوپی ، بہار ، جاتے ہیں تو توسیع کا ڈھکوسلہ کیوں ؟ یہی دوہرے رویے مجلس کو مشکوک بناتے ہیں۔
تلنگانہ والا فارمولہ بہار میں کیوں نہیں ؟
اگر جواب یہ ہے کہ بہار میں فرضی سیکولروں کو سبق سکھانا ضروری ہے تو دلیل صحیح ہے ، لیکن تلنگانہ کے کے سی آر بھی فرضی سیکولر بلکہ حقیقی فرقہ پرست ہیں ان کے خلاف وسیع امیدوار کیوں نہیں اتارتے ؟ جو نرسمہا راؤ کے پریم میں گرفتار ہیں اور مساجدکی شہادت کے مجرم ہیں، اسمبلی میں مجلس کے شیروں کے رہتے ہوئے بھارت رتن کی تجویز منظور ہوجاتی ہے ۔
بہار اور مجلس کے لیے یہی بہتر ہے کہ تلنگانہ فارمولے پر کم امیدوار اتاریں ۔ پندرہ بیس پر محنت کریں ؛ دس بھی جیت گئے تو سیکولروں کو ڈرانے کے لیے کافی ہے ۔ اگر دس پندرہ جیت گئے تو کنگ میکر کی حیثیت میں ہوں گے ۔ ہم بھی چاہتے ہیں اور لاکھوں مسلمانوں کی دلی خواہش ہے کہ مجلس جیتے لیکن زیادہ جوش میں اور زیادہ فوائد کے چکر میں کہیں ہم زیادہ نقصان کی طرف تو نہیں بڑھ رہے ہیں ؟ مگدھ ، متھلانچل کی طرف بڑھنے اور پچاس ساٹھ سیٹوں پر لڑنے کا فیصلہ غلط ہے ۔ اگر ان پچاس سیٹوں پر سہ رخی لڑائی ہوئی تو فائدہ کس کا ہوگا ، یہ ہرشخص سمجھ سکتا ہے ۔ اور ان سیٹوں بلکہ پورے بہار میں ماحول بنانے میں آسانی ہوگی ۔ مسلمان، مسلم پارٹی کو ووٹ دے رہے ہیں، اب سب ہندو ہمیں ووٹ دو ۔ انہیں تو ماحول بنانے کا موقع ملنا چاہیے ۔ اگر ایسا ہوا تو یقیناً بی جے پی ایجنٹ کہا جائے گا ، پھر برا نہیں ماننا چاہیے۔

Leave a Reply