ممنوعہ خواب

ممنوعہ خواب

ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی
خوف اور شرمندگی کے احساس کے ساتھ اچانک نسرین کی آنکھ کھل گئی۔ ارد گرد اس نے نظر دوڑائی اور جان لیا کہ وہ ایک خواب دیکھ رہی تھی۔ خوف کا احساس اسے اس لیے تھاکہ یہ خواب کہیں سچ نہ ہو ۔۔۔۔۔ اور شرمندگی کا احساس اس لیے کیونکہ خواب میں دکھائی دینے والا شخص اسے چاہتا تھا اور وہ بھی اسے چاہتی تھی ۔ لیکن یہ خواب نسرین کو بہت برا لگا۔ اسے  یاد آیا کہ اس نے یہ خواب شاید پہلی بار نہیں دیکھا تھا۔  ایک ہی شخص کے ساتھ پیار کرتے ہوئے یہ دوسری بار تھا اور وہ شخص کوئی اور نہیں شاہد تھا۔ شاہد جو اس کے شوہر کا دوست تھا ۔۔۔۔۔
نسرین اچھل کر بستر پر بیٹھی سوچنے لگی۔ ذہن پر خواب اب بھی تو تازہ تھا۔ اس نے اپنے بازوؤں سے زانوں کو گھیر رکھا تھا۔ وہ خوف وہراس سے معمور تھی۔ وہ اس احساس کو برداشت نہیں کر پارہی تھی۔ وہ چلّانا چاہتی تھی۔ مگر ڈر کے مارے اس پر سکتہ طاری تھا۔ وہ آہستہ آہستہ بستر سے اٹھی تاکہ اس کا شوہر نہ جاگ جائے۔ بے جان جسم کو اٹھائے کسی طرح کھڑکی کے قریب گئی۔ افراتفری کے عالم میں اس نے پوری کھڑکی کھول دی۔ صبح کے پپوٹے رات کی تاریکی، دُھند اور سناٹے کو ختم کر رہے تھے۔ اچانک سردی کے ایک جھٹکے نے اس کے جسم میں  کپکپی پیدا کر دی۔ اس کے پورے بدن میں لرز طاری ہوگیا۔ ہلکی ہواؤں نے اس کے بالوں کو یوں بکھیرا کہ اس کی شکل کسی آوارہ بادل کی طرح چاند کو ڈھک دیا ہو۔

تھوڑی دیر بعد اس نے کھڑکی بند کر دی پھر مڑ کے جونہی قدم بڑھایا کہ یکایک اس نے اپنے شوہر کو سامنے پایا۔ 

حیرت سے شوہر نے پوچھا :

“اس وقت تم کیوں جاگ رہی ہو؟! کیا بات ہے جو تم یہاں؟!”

تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟

اس سے پہلے کہ نسرین شوہر کے سوالوں کا جواب دیتی۔ اس کے ہونٹ کانپنے لگے اور آواز حلق میں پھنسنے لگی۔

ہکلاتے ہوئے نسرین نے کہا:

“میں نے ایک خواب دیکھا ۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں ایسا عجیب و غریب خواب دیکھا ۔۔۔۔۔۔ اس لیے آنکھ کھل گئی اور اس کے بعد دوبارہ سو نہیں پائی”

شوہر نے برجستگی سے کہا:

“ایک خواب! اچھا ۔۔۔ مجھے بتاؤ تم نے اس خواب میں کیا دیکھا ہے؟ جس کی وجہ سے تم نیند سے محروم ہو !! “

نسرین نے شوہر کو خواب بتانے کی بابت کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کیا وہ  یہ خواب بتانے کے قابل ہے بھی یا نہیں لیکن وہ اسے بتانے سے نہیں ہچکچائی۔

نسرین شوہر کو خواب کی تفصیلات بتاتے وقت بہت پریشان تھی ۔۔۔۔۔ 

خواب کو بتانے کے بعد نسرین کے شوہر نے نسرین کو سخت ڈانٹنا شروع کیا۔

“اچھا ۔۔۔۔ اس خواب  کا کیا مطلب ہے۔ شاہد کو کال کرو۔ اس سے کہو کہ تم نے اپنے خواب میں کیا دیکھا ہے ”

نسرین نے کہا:

“کیا تم تو پاگل ہو گئے؟! میں کیوں اس طرح کروں؟”

“تمہیں اس بات کو بتانا ضروری ہے۔۔ کیونکہ اس خواب کی وجہ سے تم بہت پریشان ہو۔ اگر تم شاہد کو بتاؤ تو مجھے لگتا ہے کہ یہ خواب تم کو مزید پریشان نہیں کرے گا۔”

نسرین نے جھنجھلا کر کہا: 

“واقعی تمہارا دماغ خراب ہو گیا۔ ! خدارا! ایسا نہ کہے”

شوہر نے کہا: “ میری بات سنو! یہ بات تمہارے فائدے کے لئے یہ میں کہہ رہا ہوں تاکہ تمہیں نفسیاتی طور پر آرام ملے اور اس خواب سے تمہارا دل بوجھل نہ ہو۔ اور اگر شاہد کو تمہارا خواب اچھا لگے تو تم دونوں مل کر اس خواب کو حقیقت میں بدل ڈالو۔”

نسرین کا بدن تھر تھر کانپ رہاتھا۔ اس نے سسکتے ہوئے کہا: 

“کیا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تم کیا کہہ رہے ہو! اللہ نہ کرے کہ میں ایسا کروں ۔۔۔۔۔اس کام کو کرنے سے بہتر موت ہے۔ مجھے تو خود کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیوں یہ خواب مجھے آئے۔ مہربانی کر کے آپ اس موضوع پر مزید بات چیت نہ کرے۔۔ اور مجھے سونے دو”۔ اچانک نسرین کے شوہر نے نسرین کو طمانچے پر طمانچے مارنے  شروع کر دئیے۔اور چلّا چلّا کر کہنے لگا:

“ہاں! بلا شبہ سؤ، سو جاؤ۔ دیکھیں گے کہ اس بار تمہارے خواب میں کون آئے گا؟ شاہد آئے گا یا کوئی اور مرد  آئے گا۔ مجھے تو شک تھا لیکن یقین ہے کہ تمہارے پاس مردوں کی ایک فہرست ہے۔

شوہر کے طعنے اور اس بات سے نسرین کے ہونٹ کانپنے لگے، اس کا جسم پسینے سے بھیگ گیا اوراس کا جی بیٹھا جا رہا تھا۔ گویا کہ اس کے شوہر کے الزام سے ایک طوفان اس وقت اس کے ذہن میں برپا تھا۔ 

وہ دونوں اس وقت تک خاموشی سے بیٹھے رہے جب تک نسرین عالمِ سکوت سے نکل آئی اور اس نے خود سے بات شروع کرتے ہوئے کہا: “نیست و نابود ہو وہ دن جس دن میں میں پیدا ہوئی۔” 

اور وہ اپنے بوجھل جسم و جاں کو لیے اٹھ کر کمرے کے اندر چلی گئی۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے قدم گویا کہ بھاری زنجیروں سے جکڑی ہوئی ہوا اور وہ اپنے بھاری جسم کو گھسیٹ رہی ہے ۔ اس کے کندھے جھکے ہوئے تھے، اس کی جسمانی حرکت منجمد  اور اسے خوف سا محسوس ہو رہاتھا۔ کمرے میں پہنچتے ہی اس نےدروازہ بند کر لیا۔ اسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے اپنے ہاتھ اپنے گردن پر رکھا ہوا تھا اور کمرے میں شتر مرغ کی طرح ایک کونے سے دوسرے کونے دوڑ رہی تھی، اور سرگوشی کر رہی تھی۔

“ایسا کیوں ہوتا؟ آہ میں کیا کروں؟ میرے پاس کیا تدبیر ہے؟

اسے چین نہیں مل رہا تھا، وہ کبھی  بستر پر لیٹتی، تو کبھی الماری کھولتی تو کبھی کرسی پر بیٹھتی۔ 

“اے اللہ! کیا کروں؟ کیا خود کو مار ڈالوں ؟”

اس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو بہہ رہے تھے جس کا شاید اسے اندازہ نہ تھا۔ وہ اس قدر روئی کہ اس کے آنسو  فرش پر گرنے لگے۔وہ اپنے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھام کر کافی  دیر تک روتی رہی۔ تبھی وہ دھیمے لہجے میں اور روتے ہوئے معمور آواز میں بولی: “ہاں ایک خواب تھا!! جسے میں شاید سمجھنے  سے قاصر ہوں اور میں اسے میں سمجھ بھی نہ پاؤنگی۔ تو کیوں میں  خود خواب کے لئے جوابدہ ٹھہراتی ہوں؟”

یہ کہہ کر نسرین اور رونے لگی۔ رونے کی شدت سے اس کا جسم لرز اٹھا۔

“غلطی میری تھی، مجھے ایسی بات شوہر کو نہیں بتانا تھا۔ مجھے یہ خواب اپنے سینے میں دفن کرنا تھا۔ اصل خطاوار تو میں ہوں، بھول گئی کہ میں ایک عورت ہوں۔ عورت بھی کیا ہے؟ عورت کو بھی خواب دیکھنا میسر نہیں ہوتا۔ عورت انسان نہیں ہے۔ کیا میرا حق نہیں کہ میں خواب دیکھوں!!

اس نے کیوں مجھ سے یہ بات کہی؟ وہ مجھ پر کیسی تہمت لگا رہا ہے؟ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ میں ایک شریف عورت ہوں اور میرا رویہ اچھا ہے ۔۔۔۔ میں بھی خود کو جانتی ہوں کہ اس کے سوا میرے ذہن اور دل میں ہمیشہ کوئی اور نہیں ہوتا۔ لیکن وہ جب میرے پاس ہوتا تب کیوں  کوئی اور میرے خواب میں آتا!!!

کیوں مرد خدائی طریقہ اختیار کرتا ہے؟! کیوں ظلم ڈھاتا ہے؟! 

یا اللہ ہم کس دنیا میں رہتے ہیں ؟!

یہ کیسی زندگی ہے؟ کیا یہ ایک ایسی زندگی ہے جس میں کوئی بھی شخص زندہ رہنے کا مستحق نہیں ہوتا ہے؟!

کیا یہ ایک ایسی زندگی ہے جس میں خواب پر بھی مرد کا قبضہ ہے؟!

خواب ایک دنیا ہے جس پر انسان کو کوئی اختیار نہیں ۔۔  جس پر دنیا کنٹرول نہیں کر سکتی ۔۔ دنیا کا خواب تک پہنچنا نا ممکن ہے ۔۔۔۔

خواب ایک ایسا عالم ہے جس میں ہم اپنی مرضی کے مطابق کام کرتے ہیں ۔۔۔۔ ایک ایسا عالم ہے جس میں ہم اکیلے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ کوئی بھی ہمیں نہیں دیکھتا کہ ہم کیا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس عالم میں ہم خوش ہوتے ہیں ، تکلیف اٹھاتے ہیں ، ہمارا دم گھٹتا ہے ، چلّاتے ہیں ۔۔۔۔ تو کبھی عیش و عشرت میں پھنس جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ پُر اسرار چیزوں کی خواہش کرتے ہیں جو ہم نہیں جانتے یہ چیزیں کیا ہیں؟ 

ہم اشخاص کی خواہش کرتے ہیں جو ہم بذات خود نہیں جانتے کہ کیوں ہم ان کو چاہتے ہیں ۔۔ ہم جذبات میں بہہ کر ان کو حاصل کرنے کی خواہش کرتے ہیں ، ہمیں نہیں پتہ کہ ایسا کیوں ہوتا ۔۔ خواب بے ہوشی کی آواز ہے نہ کہ ہوش کی ۔۔۔۔۔۔۔

نسرین ابھی انہی تانوں بانوں میں الجھی تھی کہ اس کے شوہر نے اسے جگا کر کہا: اٹھو تمہیں بچوں کو اسکول لے جانے میں دیر ہورہی ہے۔

نسرین آنکھیں پھاڑے کمرے کی چھت کو تک رہی تھی۔ اس نے ایک لمبی سانس لی _ اب وہ سمجھ گئی کہ یہ ایک خواب تھا ۔۔ ایک ممنوعہ خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

★ ایسو سی ایٹ پروفیسرعین شمس یونیوڑسٹی  قاہرہ، مصر

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *