پھلوار ی شریف: امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی نے ویشالی ضلع کے دیسری تھانہ میں واقع رسول پور حبیب میں ہوئے خونیں حادثے پر اپنے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے ، انہوں نے اس واقعہ پر اپنے غم و غصہ کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ملک کی بیٹیاں ایسے درندوں سے محفوظ نہیں ہوں گی تب تک ’’بیٹی بچاؤ ‘‘کا نعرہ سچا نہیں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹیوں کی عصمت اور ان کی جان کے دشمن درندوں پر جب تک بروقت اورانصاف کے ساتھ کارروائی نہیں ہو گی اور مذہب و ذات سے بالاتر ہو کر مجرم کو مجرم سمجھ کر سزا نہیں دی جائے گی تب تک ملک کی بیٹییاں اور بہنیں یوں ہی ظلم و ستم کا شکار ہو تی رہیں گی ۔ انہوں نے اس واقعہ کودرندگی ،حیوانیت اور انسانیت کو شرمسار کرنے والاواقعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ ایک بیٹی کو اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کی پاداش میں زندہ جلا دیا گیا اور پولیس اس واقعہ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتی رہی ، پولیس کے اس رول کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور انہیں جتنی سزا دی جائے کم ہے ۔
قائم مقام ناظم امارت شرعیہ نے حکومت بہار کے معزز وزیر اعلیٰ ، ہوم سکریٹری ،ڈی ایم ویشالی اور ایس پی ویشالی کو خط لکھ کر نیز ڈی ایم و ایس پی ویشالی کو فون کر کے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد مجرموں کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہونچایا جائے ااور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی درندہ صفت کسی بھی بیٹی کی طرف بھوکی نگاہیں نہ ڈ ال سکے۔انہوں انتظامیہ کی لا پرواہی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پولیس والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے جنہوں نے اتنے دنوں تک معاملہ کا دبائے رکھا اور مجرموں کے خلاف ایکشن نہیں لیا، جب معاملہ میڈیا میں ہائی لائٹ ہواتو17دنوں کے بعد ایک مجرم گرفتار ہوا ، جبکہ اصل مجرم ابھی بھی پولیس کی گرفت سے باہر ہے اور مقتولہ کے گھر والوں کو دھمکی دے رہا ہے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد سبھی مجرموں کی گرفتاری ہو اور اسپیڈ ی ٹرائل کے ذریعہ انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے اور مظلوموں کو انصاف فراہم کیا جائے، انہوں نے مقتولہ کے اہل خانہ کی مالی مدد کرنے او ر ان کو مناسب معاوضہ دینے کا بھی سرکار سے مطالبہ کیا۔
واقعہ یہ ہے کہ بہار کے ضلع ویشالی میں دیسری تھانہ کے ایک گاؤں رسول پور حبیب کی رہنے والی ایک یتیم لڑکی گل ناز جس کی عمر بیس سال تھی جس کے والد مختار کا انتقال ہوچکاہے ، ماں سمنا خاتون سلائی کا کام کرکے گھر چلاتی تھی، باپ کے سایہ سے محروم گل ناز کے پیچھے گاؤں کا ہی ایک منچلااور عیاش ستیش کمار نے پڑ گیا اوراس کا جینا حرام کردیا، اس کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر کئی بار لڑکی نے لڑکے کے گھر والوں سے فریاد کی لیکن انہوں نے بجائے لڑکے پر کارروائی کرنے کے الٹا لڑکی کو ہی دھمکی دینی شروع کر دی۔اور ستیش کمار بھی بے سہارا بچی کو مسلسل ٹارچر کرتا رہا اور دھمکی دیتا رہا کہ اگر تو میرے ہوس کی شکار نہ بنے گی تو جان سے ہاتھ دھونا پڑےگا۔ 30 اکتوبر کو شام5 بجے گل ناز کسی کام سے گھر کے باہر نکلی، بدمعاش غنڈہ ستیش اپنے ساتھی غنڈوں سکل دیو اور چندن کمار کے ساتھ ملکر اسے پریشان کرنے لگا، گل ناز نے مزاحمت کی، ستیش نے غصے میں آکر دونوں غنڈوں کے ساتھ ملکر گل ناز پر کراسن کا تیل چھڑکا اور زندہ جلا دیا، گل ناز 15دنوں تک زندگی اور موت کے درمیان اذیت ناک جنگ لڑتی رہی اور پھر اس کی موت ہوگئی ۔
واقعہ کے 15 دنوں تک پولیس نے معاملہ کو دبائے رکھااور درندگی کی شکاروہ معصوم بچی موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہی ، جب وہ مر چکی اور اس کے گھر والوں نے لاش کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کرنے کے لیے مظاہرہ کیا اوریہ معاملہ سوشل میڈیا پر آیا تو انتظامیہ کی آنکھ کھلی اور 17 دنوں کے بعد ایک مجرم گرفتا ر ہو سکا ہے ، اصل مجرم ابھی بھی باہر ہے، پولیس ابھی بھی ڈھیل دے رہی ہے، مظلوم خاندان کو دھمکی بھی مل رہی ہے او رمجرم آزاد دندناتا پھر رہا ہے ، جب تک جرم اور مجرم کو مذہب کی عینک سے دیکھا جا تا رہے گا ،بیٹیا ں یوں ہی جلتی رہیں گی اور انصاف کا خون ہوتا رہے گا۔وزیر اعلیٰ حکومت بہار جناب نتیش کمار کو اس معاملہ میں ذاتی دلچسپی لے کر واقعی انصاف کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

Leave a Reply