بھوپال: اتر پردیش کی یوگی حکومت کی طرز پر مدھیہ پردیش حکومت کی شیوراج حکومت بھی جبری تبدیلی مذہب کے خلاف بل لے کر آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں ’ایم پی فریڈم آف ریلیجن بل 2020‘ (ایم پی آزادی مذہب بل 2020) کو منظوری دی گئی۔
مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے کہا، ’’نئے ایم پی آزادی مذہب بل 2020 کے تحت نابالغوں، خواتین، ایس سی اور ایس ٹی سے متعلق لوگوں کی جبری تبدیلی مذہب کرانے کا قصوروار پائے جانے پر 2 سے 10 سال کی قید اور کم از کم 50 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
Under the new MP Freedom of Religion Bill 2020, forced conversion of a minor, woman or a person from Scheduled Caste or Scheduled Tribe, would draw a minimum jail term of 2-10 years with a minimum penalty of Rs 50,000: Madhya Pradesh Home Minister Narottam Mishra https://t.co/yYErFH85fH pic.twitter.com/rJM0lfZU3p
— ANI (@ANI) December 26, 2020

Leave a Reply