بہار کے موتیہاری میں ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جو کبھی کبھی ہی نظر آ تا ہے۔ بہار کی نائب وزیر اعلی اور مرکزی وزیر کو ڈیڑھ گھنٹے تک وائس چانسلر کی خاطرداری کو برداشت کرنا پڑا۔
موتیہاری میں بی آر اے بہار یونیورسٹی کی ایک تقریب میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہنومان پرساد پانڈے بہار کی پہلی خاتون نائب وزیر اعلی پر بھاری پڑ گئے۔ یہ اس وقت ہوا جب تقریب میں موجود نائب وزیر اعلی رینو دیوی اور سابق مرکزی وزیر رادھا موہن سنگھ ڈیڑھ گھنٹے تک اسٹیج پر ان کا انتظار کرتے رہے۔
شائع خبر کے مطابق نائب وزیر اعلی رینو دیوی اور بی جے پی کے قومی نائب صدر و رکن پارلیمنٹ رادھا موہن سنگھ وائس چانسلر کا انتظار کر تے رہے۔ قریب ڈیڑھ گھنٹے بعد وائس چانسلر ہنومان پرساد پانڈے کالج پہنچے تو وہ اسٹیج پر جانے کے بجائے پرنسپل کے کمرے میں چلے گئے اور وہاں سبھی لوگ وائس چانسلر کا استقبال کرنے میں اتنے مشغول رہے کہ وہ نائب وزیر اعلی کو بھول ہی گئے۔ وائس چانسلر کے آنے کے بعد بھی اسٹیج پر نائب وزیر اعلی ان کا انتظار کرتی رہیں اور جب اپنے استقبال کے بعد وائس چانسلر اسٹیج پر پہنچے تب جا کر اسٹیج پر تقریب شروع ہو پائی اور پھر نائب وزیر اعلی سمیت سب مہمانوں کا استقبال ہوا۔
ویسے خبروں کے مطابق پرنسپل نے ذرائع ابلاغ کے لوگوں کو ساری تقریب میں رکاوٹ بننے کے لئے کھری کھوٹی بھی سنا دی۔ شائع خبر کے مطابق بی جے پی کے ریاستی ترجمان اکھیلیش پرساد سنگھ نے اس سارے معاملہ پر کہا کہ یہ سب اچھا نہیں ہے۔ وائس چانسلر اور یونیورسٹی کی تقریبات میں طلباء موجود ہوتے ہیں جن پر ان سب چیزوں کی چھاپ چھوٹ جاتی ہے اور وائس چانسلر کو وقت کی پابندی کرنی چاہیے تھی۔
(بشکریہ نیوز-18)

Leave a Reply