زرعی قوانین کے خلاف تحریک چلا رہے کسانوں کی حمایت میں بہار میں آر جے ڈی کی قیادت والے مہاگٹھ بندھن کی ہفتہ کے روز انسانی زنجیر بنائی اور حکومت سے کسانوں کے مطالبات قبول کرنے کی اپیل کی
پٹنہ: زرعی قوانین کے خلاف تحریک چلا رہے کسانوں کی حمایت میں بہار میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی قیادت والے مہاگٹھ بندھن کی ہفتہ کے روز انسانی زنجیر بنائی اور حکومت سے کسانوں کے مطالبات قبول کرنے کی اپیل کی۔
آر جے ڈی نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے لئے دہلی کی سرحد پر تحریک چلا رہے کسانوں کی حمایت میں سنیچر کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 73ویں برسی پر بہار میں انسانی چین بنانے کی اپیل کی تھی۔ اس چین کو مہاگٹھ بندھن کے دیگر اتحادی کانگریس اور بائیں بازوں کی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔
بہار اسمبلی میں اپوزیشن اور آر جے ڈی کے لیڈر تیجسوی پرساد یادو، کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ لیننسٹ (ایم ایل) کے قومی جنرل سکریٹری دیپنکر بھٹاچاریہ، مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کے اودھیش کمار، سی پی آئی کے رام بابو کمار اور کانگریس کے ریاستی سطح کے لیڈروں کے ساتھ راجدھانی پٹنہ میں بدھ اسمرتی پارک کے نزدیک بنی چین میں موجود رہے۔ ساتھ ہی بہار کانگریس کے ایکزیکیوٹیو صدر شیام سندر سنگھ دھیرج، لیجسلیٹیو کونسلر ڈاکٹر سمیر کمار سنگھ، پریم چندر مشر اور رکن اسمبلی اظہرالحسین کی قیادت میں لیڈر اور کارکنوں نے پارٹی کے ہیڈ کوارٹر صداقت آشرم کے نزدیک انسانی چین بنائی۔
گیا سے یہاں موصولہ رپورٹ کے مطابق ضلع کے تمام 24 بلاکوں میں کارکن سڑکوں پر کھڑے نظر آئے۔ اس دوران گیا شہر کے مقامی گاندھی میدان، جی بی روڈ، پنچاییتی اکھاڑا، بیلاگنج، گروا، گرارو، وزیر گنج سمیت تما م مقامات پر مہا گٹھ بندھن کے کارکنوں کی طرف سے انسانی زنجیر بنائی گئی۔ اس دوران مہاگٹھ بندھن میں شامل کارکنوں نے زرعی قوانین کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔
اپوزیشن کے لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کہا کہ ریاست میں انسانی زنجیر کامیاب رہی۔ انہوں نے کہاکہ آج کی انسانی زنجیر میں پوری ریاست سے بڑی تعداد میں کسان اور مزدور شامل ہوئے۔
دریں اثنا، ویشالی کے مہوا میں سابق وزیر شیو رچندر رام اور مہوا کے رکن اسمبلی ڈاکٹر مکیش روشن انسانی زنجیر میں بیل گاڑی سے انسانی زنجیر میں شامل ہونے کے لئے پہنچے۔ شیو چندر رام نے اس دوران روٹیوں کی مالا پہن رکھی تھی۔
گیا میں انسانی چین میں شامل گرووا اسمبلی سے آر جے ڈی کے رکن اسمبلی ونے یادو نے کہاکہ کسانوں کے لئے لائے گئے سیاہ قوانین کو بلاتاخیر واپس لیا جائے۔کاشت کاروں کے خلاف اس طرح کے قوانین لانا ٹھیک نہیں ہے۔ مرکزی حکومت تمام چیزوں کے پرائیویٹائزیشن لگی ہوئی ہے۔ ملک کاشت کاروں سے چلتا ہے نہ کے امبانی اور اڈانی جیسے لوگوں سے۔ اب مرکزی حکومت کسانوں کی زمین فروخت کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک زرعی قوانین واپس نہیں ہوں گے تب تک ہمار ی تحریک جاری رہے گی۔
سی پی آئی۔ ایم ایل کے قومی جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا کہ کسان تحریک ملک میں نئی اونچائی پر پہنچ رہی ہے۔ 26جنوری کو منعقدہ کسانوں کی پریڈ میں چھوٹے موٹے واقعات کی آڑ میں مودی حکومت تحریک کو کچلنا چاہتی تھی۔ دہلی کی سرحد اور اترپردیش میں کچلنے کی سازشیں بھی شروع ہوگئی تھیں لیکن وزیراعظم نریندر مودی اور اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی تاناشاہی کے خلاف پورا مغربی اترپردیش اٹھ کھڑا ہوا۔

Leave a Reply