بجٹ اجلاس میں خواتین بل منظور کرائے جانے کا مطالبہ








لوک سبھا میں بی جےپی کی اکثریت ہے اس لئے حکومت کو اب خواتین ریزرویشن بل کے منظور کرانے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہئے۔

ایک طرف کسان بل واپسی کے اپنے مطالبہ کو لے کر سڑکوں پر ہیں تو دوسری طرف بیجو جنتادل (بی جے ڈی) نے حکومت سے مانگ کی ہے کہ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں خواتین ریزرویشن بل منظور کیا جائے۔

وزیراعظم نریندرمودی کی قیادت میں سنیچر کو بجٹ اجلاس پر بلائی گئی کل جماعتی میٹنگ کے دوران لوک سبھا میں بی جے ڈی کے لیڈر پناکی مشرا نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل کو راجیہ سبھا سے منظور ہوئے دس سال ہوگئے ہیں۔ ایسے میں وقت آگیا ہے کہ اب یہ بل لوک سبھا سے بھی منظور ہو۔ لوک سبھا میں بی جےپی کی اکثریت ہے اس لئے حکومت کو اب خواتین ریزرویشن بل کے منظور کرانے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے ڈی کے صدر اور اوڈیشہ کے وزیراعلی نوین پٹنائک نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ بجٹ اجلاس میں خواتین ریزرویشن بل منظور ہو۔

مسٹر مشر ا نے کہا کہ بی جے ڈی واحد جماعت ہے جس نے 2019 لوک سبھا انتخابات میں اوڈیشہ کی 21میں سے سات لوک سبھاسیٹوں پر خواتین امیدوار اتارے تھے، جن میں سے پانچ بی جے ڈی اور دو بی جے پی کی خواتین امیدواروں کو جیت ملی۔ اس لحاظ سے اوڈیشہ واحد ریاست ہیں جہاں ایک تہائی خواتین اراکین پارلیمان کی نمائندگی ہے۔

مسٹر مشرا نے کہاکہ بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی اہم جماعتوں کے علاوہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور تلنگانہ راشٹر سمیتی (ٹی آر ایس) جیسی جماعتوں نے کھل کر ماضی میں خواتین ریزرویشن بل کی مسٹر پٹنائک کی مانگ کی حمایت کی ہے۔اس لئے اس بل کے منظور ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *