ارول: اگر اس وطن عزیز میں شورش کے وقت ہمارے اکابرین ملک وملت کی حفاظت کےلئے مدبرانہ قدم نہیں اٹھاتے تونہ یہ ملک آزادی کی بہاریں دیکھ پاتا اور نہ ہی شریعت وملت کا تحفظ ممکن ہو پاتا امارت شرعیہ بہار,اڈیشہ و جھارکھنڈ انہیں چند مرکزی نمایاں اداروں میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے آزادی سےقبل اور بعد میں بھی ہر نازک موڑ پر ملت کی بروقت رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے کلمہ وحدت کی بنیاد پر امت کے درمیان اتحاواتفاق پیداکرنے سے لےکر ، انسانیت نوازی، قومی یکجہتی ، مذہبی رواداری کے فروغ ، بڑے پیمانے پر خدمت خلق، مسلم پرسنل لاء بورڈ شریعت مطہرہ کی حفاظت تک اس کے کارناموں کی ایک لمبی فہرست ہے یاد رکھیں یہ تنظیم اللہ کی جانب سےاس سرزمین پر”سرمایۂ ملت کی نگہباں “ہے جس سے دونوں جہان کا رب مسلسل ایک صدی سے انسانیت اور ملت کی خدمت لے رہا ہے آج پھر مخدوم گرامی مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی زید مجدہم امیر شریعت بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ نے نئی قومی تعلیمی 2020 کےمنظر عام پرآنے کے بعد یہ محسوس کیا کہ ملک کے تعلیمی نظام کےتئیں برسر اقتدار حکومت کی پالیسی کچھ حساس پہلو رکھتی ہے جس کی جانب ملت کے خواص طبقے کی توجہ فوری طور پر مطلوب ہے چناں چہ آپ کی ہدایت پریہ طئے کیا گیاکہ ریاست بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ میں تعلیمی تحریک پیدا کی جائےدینی و عصری دونوں میدانوں میں تعلیم کوعام کرنے کیلئے تمام اضلاع کے صدر مقام پر خواص حضرات کے ساتھ ایک تیار شدہ لائحہ عمل کی روشنی میں خصوصی مشاورتی اجلاس کیا جائے ۔ اسی کےپیش نظر پوری ریاست میں فروری کے پہلے ہفتہ کو برائے ترغیب تعلیم و تحفظ اردو کےطور پرپورےتزک و احتشام کے ساتھ منایا جارہا ہے جس بینر کے تحت آج سرزمین ارول پر امارت شرعیہ کا وفد حضرت امیر کے مذکورہ پیغامات وہدایات کو لئے حاضر ہے کہ ہر آبادی میں جہاں مسلمان بستے ہیں ہر ایک مسجد کے تحت مکتب دینیہ کا پختہ نظام جاری کیا جائے اگر آج اس بنیادی دینی تعلیم وتربیت کے نظام کو پوری قوت کے ساتھ برپا نہیں کیا گیا تو ہماری نسل آنے والے پرخطر وپرفتن دور میں بے دینی کی شکار ہوجائے گی اس کا اسلام پر باقی رہنا دشوار ہوجائے گا ظاہر ہے کہ ہماری نسل جب نرسری کلاس سےاعلٰی ڈگری حاصل کرنے تک ایسے دوسرےنظام تعلیم کی بندھن میں ابتداء عمر سے جوانی و شعور کے زمانے تک مسلسل بندھی رہے گی جہاں اسلام کی تعلیم کا نام و نشان نہیں ہے تو وہ کہاں سے سچا مسلمان بنے گی ایک بات ہمیشہ یاد رکھنے کی ہے کہ ہم مسلمانوں کے پاس روٹی کپڑے اور مکان کے علاوہ بھی ایک بڑا سرمایہ ہے اور وہ دین و ایمان کا سر مایہ ہے جو انمول اور بے بدل ہے یہ ہمارے لئے دنیا کی تمام دولتوں سے بڑھ کر ہے ہم اس کی حفاظت کیلئے جملہ ساری دولتیں قربان کرسکتے ہیں، اس کےلئے ایک جانب ملت کےذمہ دار افراد لازمی مکتب دینیہ کا نظام پوری فکرمندی سے ہر چھوٹی بڑی آبادی میں قائم کریں اور دوسری جانب زیادہ سے زیادہ دینیات کے نصاب کے ساتھ معیاری اسکول قائم کریں یہ اسکول ہماری نئی نسل کےلئے ان کھانے کپڑے سے زیادہ ضروری ہیں تیسرا اہم پیغام یہ ہیکہ اردو زبان ہمارے بذرگوں اور اسلاف کا عظیم ورثہ یہ ملت کی صدیوں کی محنت کا مجموعہ ہے یہ صرف ہماری مادری زبان نہیں بلکہ یہ ہماری گنگا جمنی تہذیب ہے اس سے دور ہونے کا مطلب اپنی ملکی و قومی تہذیب و ثقافت سے دور ہونا ہے خوب سمجھ لیں قابل اور لائق اولاد اپنے آباء و اجداد کی علمی وراثت کی حفاظت کیا کرتی ہیں اور نااہل نسلیں ان سرمایوں کو برباد کردیا کرتی ہیں آپ کو اپنی مادری اردو زبان کی حفاظت سے متعلق یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آپ اپنے بذرگوں کے حق میں خود کو کیسا ثابت کرتے ہیں ، امارت شرعیہ اس کےتحفظ وفروغ کی جدوجہد مسلسل جاری رکھے گی ان عزائم اور مقاصد کو زمینی سطح پر انجام دینے کےلئے آپ کو ہر قیمت پر آگے آنا ہوگا امارت شرعیہ نے جو طریقہ کار اس حوالہ سے عمل کیلے پوری ریاست میں پیش کیا ہے اسے حرز جان بنانا ہوگا۔ اس تحریک کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے مذکورہ باتیں امارت شرعیہ کے معاون ناظم مولانا احمدحسین قاسمی مدنی نے کہیں وہیں مکزی دفتر دارالقضاء کے معاون قاضئ شریعت مولانا عبداللہ انس صاحب قاسمی نے دین کی بنیادی تعلیم کی اہمیت پر جامع اور پُرمغز خطاب فرمایا انہوں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کی آخری وصیت کی مثال دےکر مسلم گارجین کی اپنی اولاد کے تئیں بےتوجہی کو نسل نو کےمستقبل کیلئے انتہائی خطرناک عمل بتایا ، ان کاموں کو ضلع کےتمام بلاک میں انجام دینے کیلئے امارت شرعیہ کی جانب سے ایک ضلعی سطح پر تعلیمی مشاورتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جنہوں نے مجمع کے سامنے مذکورہ کاموں کو رضاکارانہ طور پر کرنے کیلئے خود کو پیش کیا ہر بلاک کے ذمہ داروں کو اس کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے ، جو اب مرحلہ وار ہر بلاک میں عملی تحریک پیدا کرے گی۔ اس پروگرام کےاہم شرکاء درج ذیل حضرات ہیں مولانا ابوذر مفتاحی مبلغ امارت شرعیہ ، مولانا زین الحق قاسمی مبلغ امارت شرعیہ ، مولانا محمد مطیع الرحمن قاسمی مدرسہ عظمتیہ بھداسی ارول (سرپرست تعلیمی مشاورتی کمیٹی )، مولانا منت اللہ قاسمی بھداسی (کنوینر )، حاجی انعام الحق، مولانا حفظ الرحمن امام وخطیب ( کلیر) حافظ تصور انور (ہرے چک)، منہاج الدین ( کرپی بلاک) قاری صابر علی امام و خطیب کرتھا ڈیہ (کرتھا بلاک) ماسٹر پرویز عالم اور جمال الدین صاحب ان کے علاوہ سینکڑوں ائمہ، علماء ودانشوران اجلاس میں موجود تھے ۔

Leave a Reply