قاضی شریعت مولانا عبد الجلیل قاسمی نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک








پوری اُمت ایک عظیم فقیہ اور ایک با صلاحیت عالم دین سے محروم ہوگیا: شبلی القاسمی 

مغربی چمپارن: (فضل المبین) امارت شرعیہ بہار اڈیشہ جھارکھنڈ کے قاضی شریعت حضرت مولانا عبد الجلیل قاسمی آج جمعہ کو اپنے آبائی وطن مغربی چمپا رن کے دھوبنی گاؤں میں اپنے ہزاروں شاگردوں اور متعلقین و متوسلین اور بے شمار محبین کے درمیان نم آنکھوں کے ساتھ سپردخاک کر دیئے گئے ۔
اُنکی نماز جنازہ امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا شبلی القاسمی نے پڑھائی ۔ اس موقع پر انہوں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ : آج امارت ہی نہیں بہار اڑیسہ جھارکھنڈ کے مسلمان ایک عظیم فقیہ اور ایک با صلاحیت عالم دین سے محروم ہوگیا ۔ قاضی صاحب کی پیدائش ڈھوبنی میں ضرور ہوئی لیکن انکی فقہ و فہم سے پورا ہندوستان مستفیذ ہوا ۔
وہیں اس موقع پر امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا سہیل احمد ندوی نے سوانح خاکی پیش کرتے ہوئے کہا کہ: قاضی عبدالجلیل قاسمی 1942 میں دھوبنی میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی ابتدائی تعلیم سرکاری لور پرائمری اسکول میں ہوئی۔ چچا مولانا محمد یعقوب مرحوم سے فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ مولانا 1959 میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے – دورۂ حدیث کی تعلیم کے بعد مزید ایک برس فن ہیت اور عربی ادب کی بھی پڑھائی کی ۔ اس بعد آپ 24 دسمبر 1964 کو مدرسہ اسلامیہ آورپور مشرقی چمپارن میں صدر مدرس بنے ۔ اس کے بعد 1966 میں گھر آکر روزی روٹی کے لئے تجارت کی ، آپ نے تقریباً 2 سال تک تجارت کا مشغلہ جاری رکھا پھر 1968 میں مدرسہ اسلامیہ بیتیا میں درس و تدریس کا کام شروع کیا اور وہاں چودہ سالوں تک خدمات انجام دیں۔
جب بیتیا میں دارالقضاء قایم ہوا تو قضاء کی ذمہ داری بھی مولانا عبدالجلیل کے سر آئی ۔ مولانا نے اپنی زندگی درس و تدریس اور فلاحی کاموں کے لئے وقف کر دیں۔ مولانا کے انتقال سے ملت اسلامیہ ہند ایک زیرک اور مخلص قائد سے محروم ہو گئی ۔

وہیں امارت شرعیہ کے وفد نے بھی قاضی شریعت کے آخری سفر میں شرکت کرتے ہوئے نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا ۔
نماز جنازہ سے قبل مفتی وصی قاسمی نے کہا کہ : حضرت کے جانے کا غم حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی پر بہت زیادہ ہے ۔ اور انکی رحلت سے اہل خانہ سمیت پورا امارت کا کنبه سوگوار ہے ۔
امارت شرعیہ پٹنہ کے وفد میں قائم مقام ناظم مولانا شبلی القاسمی ، نائب ناظم مفتی ثنا الہدی قاسمی ، نائب ناظم مولانا سہیل احمد ندوی ، نائب قاضی مفتی وصی قاسمی ، نائب قاضی مفتی سہیل اختر قاسمی ، مولانا عبد الباسط ندوی سمیت دیگر کئی اسماء شامل ہیں ۔
جنازہ کی نماز کے بعد جمیعت علماء مشرقی چمپا رن کے وفد نے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ : آج آپکے غم میں ہم سب برابر کے شریک ہیں ، قاضی صاحب کا تعلق ہم سبھوں سے بڑا مشفقانہ تھا ۔ قاضی صاحب انتہائی خلیق اور ملنسار ہوئے کے ساتھ ایک با صلاحیت عالم دین تھے ۔ اس موقع پر جمیعت علماء مشرقی چمپا رن کے وفد میں قاری جلال الدین قاسمی ، مولانا نذر المبین ندوی ، مولانا صدر عالم ندوی ، مولانا بہاؤ الدین قاسمی ، قاری بشیر احمد جامعی، مفتی نثار احمد قاسمی ، مولانا مجیب الرحمن مظاہری ، مولانا جاوید مظاہری شریک رہے ۔
نماز جنازہ میں شرکت کر رہے امارت شرعیہ کے سابق صدر مفتی و دار العلوم الاسلامیہ مجھولیا کے سیکریٹری مفتی جنید عالم ندوی قاسمی نے کہا کہ : قاضی صاحب کی وفات سے علمی دنیا کا عظیم خسارہ ہواہے، وہ ہندوستان کے ایک معتبر عالم دین اور مشہور فقیہ تھے، وہ امارت شرعیہ جیسے باوقار ادارہ میں چیف قاضی کی حییثت سے اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔قاضی صاحب کی سادگی اور علمی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ نماز جنازہ میں شرکت کرنے والوں میں جمعیت علماء مغربی چمپارن کے جنرل سکریٹری مولانا عامر عر فات قاسمی، صدر مفتی نوشاد عالم قاسمی، امارت شرعیہ مغربی چمپارن کے سکریٹری ایڈوکیٹ ذاکر بلیغ، نائب صدر مولانا نیاز احمد قاسمی، مولانا عبدالکریم قاسمی، مولانا یوسف مدنی، مولانا مشتاق احمد قاسمی، مولانا علی احمد قاسمی، مولانا انوارالحق قاسمی ،قاری بشیر احمد جامعی ،مفتی عمران، مفتی سالم مظاہری مفتی قمرالہدی قاسمی، پروفیسر نو عالم، ذکی احمد،مولانا عمر فاروق غفرانی، مولانا مظاہر حسین، جامع مسجد موتیہاری کے امام قاری جلال الدین قاسمی ، مولانا نذرالمبین ندوی امام وخطیب جامع مسجد ڈھاکہ، مفتی ضیاء الحق قاسمی سکریٹری جمعیت علماء رکسول مولانا رضوان احمد سمیت ہزاروں کی تعداد میں علماء، ائمہ اور عوام الناس شریک تھے ۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *