صحافت سب سے خطرناک پیشہ ،ربع صدی میں ڈھائی ہزار صحافیوں کا قتل

صحافت سب سے خطرناک پیشہ ،ربع صدی میں ڈھائی ہزار صحافیوں کا قتل

ملت ٹائمز کی خاص رپوٹ
بین الاقوامی سطح پر صحافت اتنا خطرناک پیشہ بن چکا ہے کہ گزشتہ ربع صدی کے دوران دنیا کو جنگوں، انقلابات، جرائم اور کرپشن سے آگاہ کرنے کی کوشش میں مختلف ملکوں میں قریب ڈھائی ہزار صحافی اور میڈیا کارکن مارے جا چکے ہیں۔بیلجیم کے دارالحکومت برسلز سے اتوار 31 جنوری کو موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق یہ بات صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں بتائی ہے۔ اس تنظیم نے بتایا ہے کہ پچھلے 25 برسوں میں دنیا بھر میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران کم از کم بھی 2297 صحافی اور میڈیا ملازمین ہلاک ہوئے۔افغان دارالحکومت میں ایک بس پر سوار ملک کے سب سے بڑے ٹی وی چینل کے ملازمین کو طالبان کے خود کش بمبار نے نشانہ بنایا۔ اس حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے۔ اِن ملازمین کا تعلق طُلوع ٹیلی وژن جینل سے ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق آئی ایف جے نے بین الاقوامی سطح پر صحافیوں کی ہلاکتوں سے متعلق اعداد و شمار جمع کرنے کا کام 1990ء میں شروع کیا تھا۔ تب پہلے ہی سال ان ہلاکتوں کی تعداد 40 رہی تھی۔ لیکن پھر صحافیوں کی ہلاکتوں کے واقعات میں اتنی تیزی آ گئی کہ 2010ء سے لے کر آج تک یہ سالانہ تعداد کبھی بھی 100 سے کم نہیں رہی۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری انتھونی بیلینگر Anthony Bellanger نے اس حوالے سے کہا ہے کہ عالمی سطح پر گزشتہ ایک دہائی صحافیوں کے خطرناک ترین ثابت ہوئی ہے۔ اس ایک عشرے کے آغاز پر 2006 سب سے ہلاکت خیز سال ثابت ہوا تھا۔ ٹھیک دس سال قبل 2006ء میں مارے جانے والے صحافیوں کی تعداد سب سے زیادہ یعنی 155 رہی تھی۔
آئی ایف جے کی اس رپورٹ کو محفوط صحافت کی کوششوں کے پچپیس برس کا نام دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے اداروں تک کی طرف سے صحافیوں کے لیے حالات کار بہتر اور محفوظ بنانے کے وعدوں کے باوجود اس شعبے کی پیشہ ور شخصیات کو دنیا کے بے شمار ملکوں میں خراب ہوتے ہوئے حالات کار اور ان ہلاکتوں کے ذمے دار افراد کے سزاؤں سے بچ جانے کے ماحول کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ وہ عوامل ہیں جن کی بنا پر صحافیوں کے قاتل مختلف ملکوں میں نہ صرف سزاؤں سے باآسانی بچ جاتے ہیں بلکہ میڈیا کارکنوں کو مسلح کارروائیوں کے لیے نرم اہداف بھی سمجھا جانے لگا ہے۔ اس رپورٹ میں آئی ایف جے نے یہ بھی کہا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال جتنے بھی صحافی مارے جاتے ہیں، ان میں سے ہر دس میں سے صرف ایک ہلاکت کی باقاعدہ چھان بین کی جاتی ہے جبکہ قصور وار مجرموں کو سزائیں سنائے جانے کی شرح تو اس سے بھی کم بنتی ہے۔
اس بارے میں صحافیوں کی اس بین الاقوامی تنظیم کے جنرل سیکرٹری بیلینگر نے کہا، یہ ایک سفارتی معاملہ ہے۔ صحافیوں کے قاتلوں کو سزائیں نہ سنانے اور مجرموں کو تحفظ دینے کا سلسلہ اب حتمی طور پر ختم ہونا چاہیے۔
79 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ باقاعدہ طور پر اگے ہفتے جاری کی جائے گی۔ یہ تفصیلات آج اتوار کے روز اس لیے منظر عام پر آ سکیں کہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس اس رپورٹ کی ایک کاپی قبل از وقت ہی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔اسی سلسلے میں کل پیر یکم فروری کے روز برطانوی پارلیمان میں ایک بحث بھی ہونے والی ہے، جس کا موضوع بحران زدہ خطوں میں پیشہ ور اور شہری صحافیوں کی ہلاکتیں ہو گا۔ اسی موضوع پر آئندہ جمعرات چار فروری کے روز فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کا ایک اہم اجلاس بھی ہو رہا ہے، جس میں آئی ایف جے بھی شرکت کرے گی۔اس تناظر میں انتھونی بیلینگر نے کہا، ہم نے یہ رپورٹ اس لیے تیار کی ہے کہ ہر کسی کو دکھا سکیں کہ اب وہ وقت آ چکا ہے کہ ان ہلاکتوں کو روکنے کے لیے لازمی طور پر ہر ممکنہ کوشش کی جانا چاہیے۔

Comments: 1

Your email address will not be published. Required fields are marked with *