کورٹ نے جمہوریت میں عام شہری کو ’حکومت کے ضمیر کا محافظ‘ قرار دیا، متنبہ کیا کہ محض اس لئے کسی کو جیل میں نہیں ڈالا جاسکتا کہ وہ سرکار کی پالیسیوں سے متفق نہیں ہے
دہلی پولیس اور مرکزی حکومت کو منگل کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں شدید شرمندگی اور سرزنش کا سامنا کرنا پڑا۔ کسانوں کے احتجاج کی حمایت میں جاری کئے گئے ٹول کٹ کے کیس میں ایڈیشنل سیشن جج دھرمیندر رانا نے ماحولیاتی رضاکار دشا روی کو ضمانت پر رہا کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا کہ محض اس لئے کسی کو جیل میں نہیں ڈالا جاسکتا کہ وہ سرکاری پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتا۔
ثبوت کا شائبہ تک پیش نہیں کیا گیا
اختلاف رائے کو جمہوریت کی صحت کی علامت بتاتے ہوئے کورٹ نے ملک سے غداری کی دفعات کے استعمال پر چند انتہائی سخت تبصرے بھی کئے ۔ عدالت نے دشاروی کے خلاف پیش کئے گئے ثبوتوں کو ناکافی قراردیا اور کہا کہ ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جو یہ ظاہر کرتا کہ دشا کا خالصتان حامی رضاکاروں کی تنظیم’پوئٹک جسٹس فاؤنڈیشن ‘ سے کوئی براہ راست تعلق ہے۔ سیشن جج دھرمیندر رانا نے مزید سخت لہجے میں کہا ہے کہ دشا یا پوئٹک جسٹس فاؤنڈیشن اور ۲۶؍ جنوری کے تشدد کے درمیان تعلق کے ثبوت کا شائبہ تک نہیں پیش کیا گیا ہے۔ عدالت نے مزید کہا ہے کہ ایسا بھی کوئی ثبوت نہیں جو یہ ظاہر کرے کہ ملزمہ علاحدگی پسند نظریات کی حامل ہے ، نہ ہی ممنوعہ تنظیم سکھ فار جسٹس سے اس کا کوئی تعلق ہے۔اس کے ساتھ ہی پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے جج دھرمیندر رانا نے دشا روی کوایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے اوراتنی رقم کی ۲؍ ضمانتوں پر رہا کرنے کا حکم سنایا اور کہا کہ ملزمہ کا ’’قطعی کوئی مجرمانہ ماضی نہیں‘‘ ہے۔
’عام شہری حکومت کے ضمیر کے محافظ‘
دشا روی کو ضمانت پر رہا کرنے کیلئے جاری کئے گئے حکم میں حکومت اور دہلی پولیس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’کسی بھی جمہوری ملک میں اس کے شہری حکومت کے ضمیر کے محافظ ہوتے ہیں۔ انہیں صرف اس لئے سلاخوں کے پیچھے نہیں ڈالا جاسکتا کہ وہ حکومت کی پالیسیوں سے متفق نہیں ہیں۔‘‘ ۱۹۴۲ء یعنی آزادی سے بھی قبل کے مقدمے’نہاریندو دت بنام شہنشاہ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کورٹ نے یاد دہانی کرائی کہ ’’حکومت کی مجروح انا کی تسکین کیلئے غداری کے مقدمے کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
اختلاف رائے جمہوریت کی صحت کی علامت
دشا روی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ آزادیٔ اظہار رائے میں عالمی رائے عامہ کی حمایت حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ کورٹ نےحکومت کو نصیحت کی کہ ’’اختلاف رائے، عدم اتفاق، ناراضگی کا اظہار، ناپسندیدگی بلکہ قطعی نامنظوری ، یہ وہ چیزیں ہیں جو حکومت کی پالیسی میں معروضیت پیدا کرنے کے جائز راستے ہیں۔تعارض نہ کرنے والے شہریوں کے مقابلے میں باخبر اوراپنے موقف کا اظہار کرنے والے شہری بلاشبہ صحت مند اور زندہ جمہوریت کی علامت ہیں۔‘‘
ٹول کٹ تیار کرنا کوئی جرم نہیں
کورٹ نے اپنے اہم فیصلے میں واضح کیا کہ ٹول کٹ تیار کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ واضح رہے کہ کسانوں کے احتجاج کی حمایت میں سوشل میڈیا پر تحریک شروع کرنے کیلئے عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی رضاکار گریٹا تھنبرگ نے جو ٹول کٹ شیئر کیاتھا اس ٹول کٹ کوایڈٹ کرنے کا الزام دشا روی پر عائد کیاگیاہے۔ کورٹ نے کہا ہے کہ ’’میری رائے میں وہاٹس ایپ گروپ بنانا یا کسی بے ضرر ٹول کٹ کی تیاری کوئی جرم نہیں ہے۔‘‘ جج نے کہا کہ اس ٹول کٹ کا جائزہ لینے پر اس میں تشدد پر اکسانے یا سازش جیسی کوئی بات نہیں ملتی۔

Leave a Reply