اردو زبان کو کسی خاص مذہب سے جوڑنا غلط: ایم پی محبوب علی قیصر








المسلم ایجوکیشن اینڈ ویلفیرسوسائٹی کے زیر اھتمام منعقد سیمینار سے شرکاء کا خطاب
سہرسہ:(جعفرامام قاسمی) المسلم ایجوکیشن اینڈ ویلفیر فاؤنڈیشن، تریاواں کے زیر اہتمام آج انٹیگرل اسکول رانی باغ،سمری بختیار پور میں اردو ادب کے فروغ میں بہار کے ادباء و شعراء کا کردار کے عنوان سے ایک سیمیرنار کا انعقاد کیا گیا قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان حکومت ہند نئی دہلی کے مالی تعاون سے منعقد اس سیمنار کی صدارت بی این منڈل یونیورسٹی مدھےپورہ کے سینیئر استاذ ڈاکٹر ابوالفضل نے کی۔جب کہ نظامت کے فرائض علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نوجوان اسکالر مولانا لطف الرحمٰن قاسمی علیگ نے کی۔سیمینار کا آغاز قاری سالک امام کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی چودھری محبوب علی قیصر رکن پارلیمنٹ پارلیمانی حلقہ کھگڑیا نے کہا کہ اردو زبان کسی خاص مذہب کی زبان نہیں بلکہ ہر ہندوستانی کی زبان ہے، اس کے فروغ و بقاء میں ہم سب کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ تقسیم ہند کے بعد اس زبان کو ایک خاص مذہب سے جوڑ دیا گیا جو انتہائی تکلف دہ بات ہے۔انہوں نے اس سیمینار کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کیا۔پٹنہ یونیورسٹی کے اسسٹینٹ پروفیسر مولانا عبدالباسط حمیدی قاسمی نے کہا کہ اردو ادب کے فروغ میں بہار کے ادباء و شعراء کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، بلکہ عالمی سطح پر بہار کے ادباء و شعراء نے اردو کی بقاء کے لیے جو خدمات انجام دیے ہیں وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے مفتی سعید الرحمن قاسمی نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ اردو ہماری شناخت پہچان اور رابطے کی زبان ہے اس لیے امانت داری کے ساتھ نئی نسل تک پہونچانا ہماری زمہ داری ہے۔آر جے ڈی کےضلع صدر پروفیسر محمد طاہر نے کہا کہ اردو کی بقاء کے لیے عملی جد جہد کی سخت ضرورت ہے۔سینیئر صحافی وجیہ احمد تصور نے سیمنار کے متعلقہ موضوع پراپنا تفصیلی مقالہ پیش کیا ۔وژن انٹرنیشنل اسکول سہرسہ کے ڈائریکٹر شاہنواز بدر قاسمی نے کہاکہ اردو کے فروغ اور بقاء کے لیے اب ضروری ہے تبلیغی جماعت کے طرز پر تعلیمی اور اردو جماعت بنا کر کام کیا جائے۔ پروفیسر ڈاکٹرابوالفضل بی این منڈل یونیورسٹی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ذریعے آج ہمیں اس موضوع پر سر جوڑ کر کچھ بولنے اور سوچنے کا موقع ملا ہے،ہمیں چاہیے کہ اپنی ذمہ داری کو بحسن خوبی نبھائیں۔اس یک روزہ ریاستی سیمینار سے ان کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹراحسان سونبرسہ کالج ،مولانا افسر امام قاسمی پرنسپل مدرسہ اسلامیہ تریاواں اور ریسرچ اسکالر بی این منڈل یونیورسٹی فرقان عالم نے بھی مقررہ موضوع پراپنے مقالات پیش کر بہار کے ادبا و شعراء کی ادبی و شعری خدمات کو تفصیل سے پیش کیا،وہیں ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسٹی عبدالباری قاسمی،ڈاکٹر سیف اللہ سیفی جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی اور پروفیسر امتیاز انجم بی این منڈل یونیورسٹی کے قیمتی مقالات نے بھی اس سیمینار کے حسن کو دوبالا کیا، اس موقع پر مدرسہ اشرفیہ تریاواں کے پرنسپل مولانا مظاہرالحق قاسمی، اسلامیہ ہائی اسکول کے پرنسپل ماسٹر تنویر عالم، تنظیم ائمہ مساجد کےصدر حافظ ممتاز رحمانی، مولانا ضیاالدین ندوی، ماسٹر نور عالم پرنسپل انٹگرل اسکول رانی باغ، مدرسہ فضل رحمانی بھلاہی کے ناظم تعلیمات مولانا محب الحق رحمانی، فاصلاتی نظام تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مرکز مطالعہ سہرسہ کے کوآرڈینیٹر جناب حافظ کوثر امام، اسلامیہ ہائی اسکول کی سوسائٹی کے صدر علی امام، ،سکریٹری غلام فخرالدین ، معراج عالم، مفتی فیاض عالم، صحافی جعفر امام قاسمی، محمد اسامہ پورینی وغیرہ موجود رہے، آخر میں سیمینار کے کنوینر مفتی ظل الرحمٰن قاسمی نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *