نئی دہلی سورت: (ملت ٹائمز) 20 سال کے طویل انتظار کے بعد بالآخر عدالت نے127 مسلمانوں کو بے قصور قرار دے دیاہے ۔ ان پر الزام لگایاگیاتھا سیمی سے تعلق رکھنے کا ۔پولس نے انہیں مجرم بناکر پیش کیاتھا لیکن انہیں منہ کی کھانی پڑی ۔ کیاہے پورا معاملہ ۔ سیمی کیاہے اور کیوں ایک ساتھ 127 بے گناہوں پر یو اے پی اے لگاکر جیل میںبند کردیاگیاتھا ۔
28دسمبر 2001 کو گجرات کے سورت میں آل انڈیا مائنارٹیز ایجوکیشن بورڈ کے زیر اہتمام راج شری ہال میں مسلمانوں کے تعلیمی مسائل پر غور و فکر کرنے کیلئے ایک سمینار منعقد کیاگیاتھا ۔سمینار کے شرکاءمسلمان دانشور، ڈاکٹرس ، اینجینئرس اور علماءتھے ۔ ان کا تعلق کسی ایک صوبہ اور شہر سے نہیں بلکہ پورے ملک سے تھا ۔ اس سمینار پر پولس اور خفیہ ایجنسیوں کی سخت نظر تھی ۔ پولس نے اس سمینار کے شرکاءپر سیمی سے تعلق رکھنے کا الزام لگادیا اور سبھی کو گرفتار کرلیا ۔ ۔ یہ کاروائی سورت پولس کے آٹھواں تھانہ نے کی تھی ۔ ان سبھی پر الزام عائد کیا کہ یہ کالعدم اور دہشت گردتنظیم سیمی کے کاز کو آگے بڑھانے کیلئے یہاں جمع ہوئے ہیں ۔ ان کا ایجنڈا اور مقصد سیمی کو دوبارہ لاﺅنچ کرناتھا ۔ فوری طور پر ان کے خلاف یو اے پی اے کے تحت کیس درج کیاگیا اور جیل میں بند کردیاگیا ۔ گیارہ مہینہ بعد ان سبھی کو ضمانت پر رہائی مل گئی لیکن الزام باقی رہا اور کیس چلتارہا۔
20 سالوں کے طویل انتظار کے بعد 6مارچ 2021 کو گجرات کے شہر سورت کی ایک عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے127 مسلمانوں کو غیر قانون سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات سے بری کر دیاہے ۔ ان میں سے پانچ کی وفات ہوچکی ہے ۔ تمام 127 ملزمین تقریباً ایک سال قید میں رہے تھے، اس کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا لیکن گذشتہ 20 سال سے مقدمہ چل رہا تھا اور ہر ماہ تمام ملزمین عدالت میں پیش ہو رہے تھے۔
عدالت نے اپنے فیصلہ میں بتایا کہ ‘استغاثہ مستند، قابل اعتماد اور اطمینان بخش ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا اور یہ بات ثابت نہ کرسکا کہ ملزمین کا تعلق سیمی سے تھا اور کالعدم تنظیم کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کےلیے یہ لوگ جمع ہوئے تھے۔ عدالت نے مزید بتایا کہ ملزمین کو یو اے پی اے کے تحت قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتاہے۔
کیس کے ملزمان نے اپنے دفاع میں کہا کہ ان کا سیمی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ سبھی آل انڈیا اقلیتی تعلیم بورڈ کے بینر تلے پروگرام میں شریک ہویے تھے۔ اس معاملے میں ملزمین مغربی بنگال، تمل ناڈو، مہاراشٹر، راجستھان، مدھیہ پردیش، کرناٹک، بہار اور اتر پردیش کے علاوہ گجرات کے مختلف علاقوں کے رہائشی ہیں۔
سورت کے ایڈوکیٹ ایم ایم شیخ نے بتایا کہ ’چیف جوڈیشنل مجسٹریٹ اے این دیو نے پولیس کی جانب سے کوئی واضح ثبوت فراہم نہ کرنے کے بعد تمام 124 ملزمین کو بری کردیا جبکہ 5 ملزمین کی مقدمہ کے دوران موت ہوگئی۔ انہوں نے بتایا کہ جج نے یہ مانا کہ تمام ملزمین کا سیمی نام کی کلعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
باعزت بری ہونے کے بعد ضیاالدین صدیقی نے ’اللہ کا شکر ادا کیا اور سسٹم پر سوال اٹھایا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’20 سال بعد ہمیں مقدمہ سے بری کردیا گیا لیکن اس عرصہ کے دوران جو تکالیف ہم نے اور ہمارے خاندان نے جھیلی ہیں اسے کیسے دور کیا جاسکتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ قانونی جنگ کے دوران ہماری زندگی کے 20 سال پوری طرح برباد ہوگئے۔ انہوں نے پولیس کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے۔
سیمی کا فل فورم ہے ۔ اسٹوڈینٹ اسلامک موومینٹ آف انڈیا ۔ علی گڑھ میں یہ تنظیم 1977 میں قائم ہوئی تھی ۔یہ اسٹوڈینٹ کی آرگنائزیشن تھی۔ اس کے بانی پروفیسر احمد اللہ صدیقی تھے ۔اس تنظیم کا مقصد آئین اور دستور کی روشنی میں غریبوں ، مزدوروں ،کمزوروں اور مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی لڑنا تھا لیکن اسے دوسرا رنگ دے دیاگیااور میڈیا نے اس میں خوب اپنا کردار ادا کیا اور اس پر کئی سارے الزامات لگادیئے گئے ۔ متعدد بم دھماکوں ، دہشت گردانہ حملوں کے الزام میں سیمی سے تعلق رکھنے والوں گرفتار کرکے جیل میں بندکردیاگیا ۔ حالاں کہ سچ سامنے آئی اور سبھی ایک ایک کرکے باعزت بری ہورہے ہیں ۔ کسی پر الزام ثابت نہیں ہوسکا ۔
ستمبر 2001 میں پہلی مرتبہ اس تنظیم پر پابندی عائد کی گئی ۔الزام یہ لگایا گیا کہ امریکہ کے نائن الیون معاملے سے سیمی کا بھی تعلق ہے ۔ اس وقت سینٹر میں بی جے پی کی حکومت تھی ۔امریکہ کے دباﺅ میں بھارت کی بی جے پی حکومت نے 26 ستمبر 2001 میں سیمی پر پابندی لگادی ۔ 27ستمبر 2001 سے 27ستمبر 2003 تک یہ پابندی برقرار رہی ۔سیمی پر حتمی اور آخری پابندی 8فروری 2006 میں عائد کی گئی اور اسے ایک دہشت گرد اور کالعدم تنظیم کا درجہ دے دیاگیا ۔ سیمی پر یہ حتمی اور آخری پابندی جس وقت لگی تھی اس وقت سینٹر میں کانگریس کی حکومت تھی اور یہ پابندی آج تک برقرار ہے ۔ سیمی کی حیثیت ایک ممنوع اور کالعدم تنظیم کی ہے ۔

Leave a Reply