طب نبوی کے منظم فروغ کے لیئے طب نبوی کونسل کا قیام








عالمی ادارہ صحت نے بھی طب نبوی کو ایک موثر علاج تسلیم کیا ہے: کونسل صدر ڈاکٹر غفور
نئی دہلی: کیا آپ جانتے ہیں آج کووڈ کی عالمی وبا ء میں جو احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں اس کا تعلق طب نبوی سے ہے؟ تاہم ابتک اس موثر طریقہ علاج کی طرف خصوصی توجہ نہیں دی گئی ہے۔اسی کے پیش نظر ساحلی ریاست کیرلا کے شہر کالی کٹ میں سپریم طب کونسل آف کا انڈیاکا قیام عمل میں آیا جس کا مقصد ملک میں اس طب کو منظم طریقہ سے فروغ اور عام کرنا ہے۔ کونسل نے ملک میں طب نبوی کے ماہرین کو رکنیت دینے اور طب نبوی میں دلچسپی رکھنے والے طبیبوں اور حکمیوں اور ڈاکٹروں کو تربیت دینے کا علان کیا ہے۔
کونسل کے چیر مین ڈاکٹر محمد غفور ثقافی نے یہاں ایک پریس کانفرس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طبی کونسل کا قیام مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود گائیڈ لائن کی روشنی میں عمل میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزار صحت نے روایتی متبادل طریقہ ہائے علاج کی اجازت دی ہے۔ نیز سپریم کورٹ نے بھی اپنے ایک فیصلہ میں متبادل طب کے طریقوں پر عمل کرنے کی اجازت دی ہے۔
اس کے علاوہ روایتی طب نبوی ٹرسٹ (ٹریڈیشنل پروفییٹک میڈسین اسوسی ایشن ٹرسٹ) نے اس سلسلہ میں ایک پیٹشن سپریم کورٹ میں دائر کی تھی اور اس عمل کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ جس کو عدالت نے منظور کرلیا تھا۔
خیال رہے عالمی ادارہ صحت یا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اپنے الٹر نیٹو میڈسین سینیٹ کے توسط سے الما ٓٹا اعلامیہ میں طب نبوی کو ایک معاون طب کا درجہ دیا تھا۔ اس کے بعد عالمی ادارہ صحت کے ہندوستانی دفتر نے اس اعلامیہ کی ایک نقل مرکزی وزارت آیوش کو بھیجی تھی جو روایتی طریقہ ہائے علاج کی نگراں وزارت ہے۔ بعد ازاں 2017 میں مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود نے روایتی متبادل طریقہ ہائے علاج کی فہرست میں طب نبوی کا شامل کیا اور اس کو باضابطہ شائع بھی کیا۔
اس پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر غفور نے بتایا کہ ملک کے مختلف شہروں میں طب نبوی کی تعلیم کے ادارے قائم کیئے گئے۔ چونکہ طب نبوی کو کو متبادل طریقہ علاج تسلیم کیا گیا ہے اس لیئے سپریم کورٹ نے اسے جداگانہ طب کا درجہ اور حیثیت عطا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی بنوی کے تعلیمی اداروں Prophetic Medicine Institutes نے مرکزی حکومت سے متعدد کے تحفظات حاصل کیئے ہیں۔ ان فیصلوں اور صحت کے متعلق 1882 کے ایکٹ کی روشنی میں ٹریڈیشنل پروفییٹک میڈسین اسو سی ایشن ٹرسٹ تشکیل اور رجسٹرڈکیا گیا ہے۔ ڈاکٹر غفور نے مزید بتایا کہ کونسل کے پاس مختلف زمروں میں طب نبوی کے ماہرین اور روایتی معالجین کو رکنیت دینے کا نظم موجود ہے۔ کونسل قومی سطح پر رکن سازی کے لیئے کیمپ لگانے اورطب نبوی کے تعلیمی و تربیتی اداروں کے قیام کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ اس موقع پر و ڈاکٹر د غفور کے علاوہ ڈاکٹر محمد أمیر عرفانی، کو آرڈنیٹر ، ڈاکٹر وی ایچ محمد مولوی اگزیکٹیو ممبر اور طبیب حسین کاشفی ممبر موجود تھے۔
مزید تفصیلات کے لئے رابطہ کرسکتے ہیں: 7736288210 اور 9961188741


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *