حفاظ وعلماء کو جو مقام عطا ہوتا ہے دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ ڈگری رکھنے والے بھی اس کی گرد کو پا نہیں سکتے: مولانا ڈاکٹر قاری ظفر الاسلام سابق شیخ الحدیث دارالعلوم مئو
مظفر الاسلام کی رپورٹ
گھوسی؛ مئو ناتھ بھنجن: گھوسی قصبہ سے متصل فتح پور تال نرجا واقع مدرسہ انوار العلوم میں منگل کے روز جشنِ دستار بندی کا اجلاس مولانا محبوب اللہ امام مسجدِ نور ڈونگری ممبئی کی سرپرستی و مولانا ڈاکٹر قاری ظفر الاسلام سابق شیخ الحدیث دارالعلوم مئو کی صدارت میں اختتام پذیر ہوا۔مہمانِ خصوصی کے ہاتھوں قرآن مجید حفظ کی تکمیل کرنے والے خوش نصیب مدرسہ ہذا کے 15 طلبہ عزیز کو دستارِ حفظ اور سند سے سرفراز کیا گیا۔ مہمانِ خصوصی مولانا عبدالرب صدر جمعیت علماء ہند اترپردیش نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے ہزاروں مدارس اسلامیہ میں سال کے تعلیمی اختتام پر رجب المرجب اور شعبان المعظم میں سالانہ جلسے منعقد ہوتے اور ان جلسوں میں اداروں کے منتظمین کی جانب سے قرآن مجید حفظ کی تکمیل کرنے اور عالمیت وفضیلت مکمل کرنے والے خوش نصیب طلبہ عزیز کو دستار حفظ اور دستار فضیلت سے نوازا جاتا ہے ،یہ مبارک سلسلہ دور اکابر ہی سے چلا آرہا ہے ،ان جلسوں کا مقصد جہاں طلبہ عزیز کے مجاہدوں سے پُر علمی محنتوں کی قدر کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہوتا ہے تو وہیں عوام الناس جن کے گراں قدر تعاون ہی سے مدارس اسلامیہ کا علمی سفر جاری وساری ہے کہ سامنے مدارس کی تعلیمی کارکردگی پیش کرنا ہوتا ہے نیز علماء وحفاظ کا مقام ومرتبہ، دینی تعلیم کی عظمت و اہمیت اور مدارس اسلامیہ کی ضرورت وافادیت سے عوام الناس کو آگاہ کرتے ہوئے ان سے وابستہ رہنے کی طرف ترغیب دلانا ہوتا ہے ،
خدا کا شکر ہے اور ہمارے اکابر ؒ کے اخلاص وللہیت اور عظیم قربانیوں کا ثمرہ ہے کہ آج ملک کے چپہ چپہ میں ہزاروں مدارس قائم ہیں اور ان میں ملت اسلامیہ کے لاکھوں بچے اور بچیاں اپنی علمی پیاس بجھانے میں مصروف ہیں۔ جلسہ صدر ڈاکٹر قاری ظفرالاسلام نے قرآن کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کی دنیاں میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قرآنِ شریف ہے۔ طلبہ عزیز گھروں سے دور سالہا سال کی محنت شاقہ کے بعد حفظ قرآن عالمیت یا فضیلت کی تکمیل کے بعد جب ان کے سروں پر دستار حفظ یا دستار فضیلت باندھی جاتی ہے تو اس وقت ان کی کیفیت کیا ہوتی ہوگی اسے الفاظ کا جامہ پہنانا مشکل بلکہ بہت ہی مشکل ہے ، یقینا انہیں دیکھ کر جن وبشر ہی نہیں بلکہ ارض وسماء بھی رشک کرتے ہوں گے اور کیوں نہ کریں اس لئے کہ ان حفاظ وعلماء کو جو مقام عطا ہو تا ہے دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ ڈگری رکھنے والے بھی اس کی گرد کو پا نہیں سکتے،گر چہ ان کا لباس وپوشاک سادہ ہو تا ہے اور ان کے جیب مال ودولت سے خالی ہوتے ہیں مگر ان کے دل ایسی عظیم دولت سے مالامال ہوتے ہیںکہ پوری دنیا مل کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ،یہ معمولی سادہ لباس میں ملبوس بچے فرش پر حفظ قرآن میں مصروف رہتے ہیں ادھر آسمانوں پر ملائکہ ان کا تذکرہ کر رہے ہوتے ہیں ، ادھر ان کی قرآن سے نسبت ہوتی ہے اور ادھر خالق کی طرف سے رحمت وشفقت کی چادر ان پر ڈالی جاتی ہے ۔
اس امت کی خوش قسمتی ہے کہ اسے آسمانی کتابوں کا تاج یعنی قرآن مجید عطا ہوا ، یہ صرف قرآن مجید ہی کی خصوصیت ہے کہ ایک طرف یہ کتاب اللہ ہے تو دوسری طرف کلام اللہ اور صفت رحمن بھی ہے۔ اس پورخلوس موقع پر مدرسہ ہذا کے صدر قاری عمیر اسعد، قاری شرافت اللہ، مولنا عبید، مولانا انعام، مولانا راشد، مولانا زاہد، مولانا لطیف الرحمن، مولانا نعیم، ماسٹر غلام صابر, مولانا حامد، محمد یوسف، علی احمد، اساتذہ ملازمین نے اہم قرار آدا کیے پورگرام کے اختتام پر مدرسہ ناظم مفتی ولی اللہ مجید قاسمی نے سبھی لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

Leave a Reply