مرکزی حکومت قرآن شریف سے متعلق خیالی عرضی پر مضبوط موقف اپنائے !








وسیم رضوی کے خلاف بدعنوانی کے معاملے کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے ، تاکہ حکومت پر لوگوں کا اعتمادمزید مضبوط ہو: وزیر اعظم اور وزیر قانون کو امپار صدر ایم جے خان کا خط 

نئی دہلی: امپار کے قومی صدر ڈاکٹر ایم جے خان نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر قانون روی شنکر پرساد کو وسیم رضوی کی جانب سے قرآن شریف کے سلسلے میں سستی شہرت کے لئے سپریم کورٹ میں داخل کی گئی عرضی سے متعلق خط لکھا ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر قانون کو لکھے اپنے خط میں ڈاکٹر خان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں وسیم رضوی کی جانب سے داخل کی گئی خیالی عرضی کے سلسلے میں مداخلت کرے اور عدالت کے سامنے اپنا مضبوط موقف رکھے ۔ ڈاکٹر خان نے اپنے خط میں کہا ہے کہ “ہم حکومت کی توجہ شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین سید وسیم رضوی کی طرف سےعدالت عظمیٰ میں داخل کی گئی عرضی کی جانب کرانا چاہتے ہیں ، جس میں قرآن سے 26 آیات کو ہٹانے کی معاذ اللہ اپیل کی گئی ہے ـ‘‘۔
ڈاکٹر خان نے کہا ہے کہ وسیم رضوی کا یہ اقدام واضح طور پر سستی شہرت کی ایک کوشش ہے ، لیکن اس کے نتائج ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں آنے والے ہیں۔ اس سے معاشر میں نفرت ،عداوت اور دوریاں پیدا ہوں گی۔ ڈاکٹر خان نے کہا ہے کہ وسیم رضوی کے ذریعہ اس طرح کے کام مستقل طور پر ہورہے ہیں ، جس کی وجہ سے مسلم کمیونٹی میں عدم اطمینان اور غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی ، جن کو پہلے ہی سی بی آئی کے یہاں ملزم ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ ا نہوں نے خود  کو بچانے کے لئے یہ شرارتی قدم اٹھایا ہے ۔
ڈاکٹر خان نے کہا ہے کہ معاشرے میں ایک بہت بڑے گروپ کا یہ خیال ہے کہ وسیم رضوی حکومت کے قریب ہونے کے لئے اس طرح کی شرارتی حرکتیں کررہے ہیں اور انہیں کہیں سے ہدایات مل رہی ہیں ، لہذا ضروری ہے کہ اس درخواست میں مرکزی حکومت جو پہلے سے فریق ہے ، غیر معمولی طور سے مضبوط موقف اپنائے اور وسیم رضوی کے خلاف سی بی آئی اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعہ دائر بدعنوانی کے مقدمے کی بھرپور طریقے سے پیروی ہو تاکہ ان کو اپنے جرم کی سزا ملے ،اگر وہ مجرم ہوں ۔
ڈاکٹر خان نے کہاہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے مسلم برادری کا حکومت میں اعتمادمزید بڑھے گا اور لوگ حکومت کے اس موقف کی تعریف و ستائش بھی کریں گے ۔ ڈاکٹر خان نے کہا ہے کہ مجھے صرف امید ہی نہیں بلکہ کامل یقین ہے کہ حکومت امپار کےخط پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور وسیم رضوی ، جن پر بدعنوانی کا الزام ہے ، اس کی منصفانہ چھان بین ہوگی ، تاکہ لوگوں کا حکومت پر اعتماد اور مضبوط ہو ۔ ڈاکٹر خان نے یہ یقین بھی ظاہر کیا ہے کہ سپریم کورٹ اس عرضی کو سماعت کے قابل نہیں سمجھے گا اور سماج میں نفرت پیدا کرنے کیلئے وسیم رضوی پر بھاری جرمانہ بھی عائد کرے گا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *