ادارۃ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علماء ہند کا سولہواں سہ روزہ فقہی اجتماع جاری   اسلامی تعلیمات میں ہر دور کے تقاضوں کا اطمینان بخش حل موجود ہے : مولانا قاری محمد عثمان








جمعیۃ علماء ہند کا طریقہ رہا ہے کہ وہ جدید مسائل کی تحقیق کرکے امت کی رہ نمائی کرتی ہے: مولانا ارشد مدنی
نئی دہلی: دور حاضر کے اہم جدید مسائل پر قوم وملت کی شرعی رہ نمائی کے لیے جمعیۃ علماء ہند کے ادارۃ المباحث الفقہیہ کے زیر اہتمام سولہواں اجتماع مدنی ہال صدر دفتر جمعیۃ علماء ہند نئی دہلی میں جاری ہے، اس اجتماع میں سروس کنٹریکٹ کی مختلف شکلیں اور ان کا شرعی حکم، شرکت و مضاربت کی بعض قابل تنقیح شکلیں اور سر پر بالوں کی افزائش و زیبائش کی بعض صورتوں پر بحث و مناقشہ کے بعد اہم تجویز منظور کی جائے گی۔اجتماع میں دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلما، جامعہ قاسمیہ شاہی مراداباد، جامعہ مظاہر علوم سہارن پور سمیت متعدد دینی اداروں کے ارباب افتاء شریک ہیں۔
اس اجتماع کی نشستِ اول کی صدارت مولانا سید ارشد مدنی صاحب صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند و صدر جمعیۃ علما ء ہند نے فرمائی۔  اس موقع پر خطبہ افتتاحیہ پیش کرتے ہوئے امیر الہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء ہند و معاون مہتمم دا رالعلوم دیوبند نے کہا کہ اسلام ایک مکمل اور جامع دین ہے، اس کی تعلیمات دائمی ہیں، اگر اسلام کی تعلیمات کا بغور مطالعہ کیا جائے، تویہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس دور میں ہر دور کے تقاضوں کا اطمینان بخش حل موجود ہے۔نئے صنعتی و تجارتی انقلاب میں لین دین کی ایسی جدید شکلیں وجود میں آچکی ہیں، جن کا پہلے دور میں تصور نہ تھا، اس لیے اہل علم کی یہ ذمہ داری ہے وہ مروجہ معاملات کو شریعت پر منطبق کرنے کی کوشش فرمائیں تاکہ امت کی صحیح رہ نمائی ہو سکے۔انھوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ہندستانی مسلمانوں کی وہ عظیم جماعت ہے جس نے سیاسی و سماجی خدمات کے ساتھ دینی و شرعی رہ نمائی کے فریضے کو بخوبی انجام دیا ہے۔
اپنے کلمات صدارت میں مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ یہ جمعیۃ علماء ہند کا طریقہ رہا ہے کہ مسائل کی تحقیق کرکے امت کی رہ نمائی کرتی ہے حالاں کہ یہ اس کے بنیادی مقاصد میں یہ شامل نہیں ہے، درحقیقت یہ کام تو فقہی مجالس کا ہے۔ مگرجمعےۃ علماء کے اکابر،علم کے پہاڑ تھے، وہ مسائل دینیہ میں دل چسپی رکھتے تھے، بالخصوص سید الملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب ؒکو لکھنے کا بہت ذوق تھا، انھوں نے ادارۃ المباحث الفقہیہ قائم فرمایا اور فقہی مجالس قائم کی۔ ان کے بعد حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی ؒ اس بات کے لیے فکر مند رہتے تھے کہ علماء دیوبند کا ایک موقف ہو، اسی جذبہ کے تحت انھوں نے اس سلسلہ کو دوبارہ شروع کیا۔ اللہ کا فضل یہ ہوا کہ ان کو مولانا معزالدین ؒکی شکل میں ایک قابل اعتبار شخص بھی مل گیا، جنھوں نے ان کے فکر کو قبول کیا۔ اللہ ان کے قبر کو نور سے بھر دے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ مفتیوں کو شامی وغیرہ کا بالاستیعاب مطالعہ کرنا چاہئے، دارالعلوم دیوبند کے مفتیوں میں مفتی محمود صاحبؒ اور مفتی مہدی حسن صاحب ؒنے شامی کا مکمل مطالعہ کیا تھا، اس کے بعد ایسے لوگ ندارد ہیں۔ مولانا مدنی نے اس طرح کے اجتماع منعقد کرنے کے لیے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری صاحب اور جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی صاحب کی تحسین کی۔
اس موقع پر جن حضرات نے خطاب کیا ان میں مذکورہ بالا شخصیات کے علاوہ مولانا عتیق احمد بستوی صاحب استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء  لکھنو، مفتی زین الاسلام صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند، مفتی محمد سلمان منصورپوری،مفتی شبیر احمد قاسمی جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد،،مولانا رحمت اللہ کشمیری صاحب رکن شوری دارالعلوم دیوبند، مفتی احمد دیولہ، مولانا انیس الرحمن قاسمی سابق ناظم امارت شرعیہ بہارشامل ہیں۔
اس موقع پر جو حضرات اکابر اجتماع میں شریک رہے،ان میں بالخصوص صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری صاحب، مولانا سید ارشد مدنی صاحب اور مولانا نعمت اللہ اعظمی، جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی، مفتی شبیر احمد قاسمی جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد، مولانا عتیق الرحمن لکھنو، مولانا ابراہیم تاراپوری،مفتی زین الاسلام، مولانا نذیر احمد کشمیری، مولانا رحمت اللہ کشمیری،مولانا عبداللہ معروفی،مفتی انیس الرحمن قاسمی، مفتی راشد اعظمی، مولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری، مفتی احمد دیولہ، مفتی سید معصوم ثاقب، مفتی اشفاق اعظمی، مفتی اختر امام عادل، مفتی ضیاء الحق، مفتی محمد عفان منصورپوری، مفتی عبدالرزاق وغیرہم کے نام خاص طور سے ذکر کیے جاتے ہیں۔ان حضرات کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں سے اہم مفتیان کرام شریک ہوئے ہیں۔ اجتماع میں دارالعلوم دیوبند کے سابق شیخ الحدیث اور جمعیۃ علماء ہند کے فقہی سیمیناروں کی زینت حضرت مفتی سعید احمد پالن پوری اور ادارۃ المباحث القفہیہ جمعیۃ علماء ہند کے سابق معتمد مولانا معزالدین احمد کو یاد کیا گیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *