نئی دہلی: 20مارچ 2021 (پریس ریلیز) اتر پردیش کے ضلع غازی آباد کے ڈاسنا علاقے کے ایک مندر میں پانی پینے کے جرم میں ایک معصوم کو بے دردی سے پیٹا گیا تھا جس کی رپورٹنگ کرنے گئے ملت ٹائمز کے دو رپورٹر ،اکرم ظفیر اور اسرار احمد کو مندر سے رپورٹنگ نہیں کرنے دیا گیا۔ واضح طور پر کہا گیا کہ تم دونوں مسلم صحافی ہو جس کی وجہ سے آپ لوگوں کو مندر کے اندر سے رپورٹنگ کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ دوسری طرف دوسرے چینلوں اور اخبارات کے غیر مسلم صحافیوں کو مندر میں جانے دیاگیا ۔
جب ان سے کہا گیا کہ آپ باہر آجاو¿ ہم آپ کا موقف جاننا چاہتے ہیںتو انہوں نے کہا کوئی بھی مسلم صحافی ہمیں منظور نہیں، مندر کا گیٹ بند کرکے وہ لوگ اندر چلے گئے۔
صحافیوں کے ساتھ ہوئی بد سلوکی کی کی بنیاد پر ملت ٹائمز کے سی ای او شمس تبریز قاسمی نے پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین جناب سی کے پرساد کو ایک خط بھیجا ہے اور اس مسئلہ پر غور کرنے اور ضروری ایکشن لینے کا مطالبہ کیاہے۔ کیونکہ ملت ٹائمز کے دونوں صحافی صحافت کے اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے وہاں رپورٹنگ کرنے پہنچے تھے ،آصف کی بات جاننے کے بعد مندر کے پجاری کی بھی بات جاننا چاہتے تھے، لیکن انہیں مسلم ہونے کی وجہ سے اجازت نہیں دی گئی اور ایک مذہب سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر بھید بھاﺅ کامعاملہ پیش آیا ۔
ملت ٹائمز ہندی کے ایڈیٹر اسرار احمد اور بیورو چیف اکرم ظفیر گذشتہ 17 مارچ کو ڈاسنا رپوٹنگ کرنے گئے تھے ،جہاں وہ 13سالہ محمد آصف اور اس کے اہل خانہ سے بات چیت کرنے کے بعد مندر گئے تاکہ وہاں لوگوں کا بھی موقف سامنے لاسکے لیکن مسلمان ہونے کے بنیاد پر انہیں اجازت نہیں دی گئی اور صاف کہاکہ ہم مسلمانوں سے بالکل بھی بات نہیں کریں گے خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔
پریس کلب آف انڈیا کے صدر آنند کے سہائے نے اس معاملے میں شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرارد یاہے اور کہاہے کہ ملت ٹائمز کے صحافی جرنلزم کے اصولوں کی پابندی کررہے تھے اور یکطرفہ رپوٹنگ کے بجائے وہ دونوں فریق کی بات سامنے لانا چاہتے تھے تاکہ سچ سامنے آئے لیکن مندر کی انتظامیہ کا مذہب کی بنیاد پر بھید بھاؤ کرنا شرمناک ہے اورپریس کلب آف انڈیا اس کی شدید مذمت کرتاہے ۔

Leave a Reply