نئی دہلی: (پریس ریلیز) خدمت خلق ٹرسٹ انڈیا کے نائب صدر مولانا رضوان الحق قاسمی نے کہاکہ امیر شریعت سابع مولانا سید محمد ولی رحمانی کا انتقال پوری ملت کے لیے ایسا حادثہ ہے ،جسے جلد فراموش نہیں کیا جاسکتاہے ، ایسا لگتا ہے کہ ملت اسلامیہ ہند بطور خاص اہل بہار ایگ گھنے سایہ دار اور ثمر دار پیڑ کے سایہ سے محروم ہو گئے۔انہوںنے کہاکہ مولانابے باک خطیب ،مضبوط صاحب قلم تھے،ان کی پوری زندگی دین و دنیا کے متعین کر دہ اصول کے مطابق گزاری۔اپنے تعزیتی پیغام میں ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری مولانا ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی نے کہا مولانا سید محمد ولی رحمانی ملت کے دوراندیش اور فکر مند قائد تھے ، مسلم پرسنل لاء بوڈ کا پلیٹ فارم ہو یا امارت شرعیہ بہار کا آپ نے بڑی دور اندیشی ، خوش اسلوبی اور منظم طریقہ سے اپنے کام کو آگے بڑھا یا ۔اپنی اصول پسندی میں کبھی مصلحت کو روکاوٹ بننے نہیں دیا ، انہوں نے وہ علمی شان و عظمت کو برقرار رکھی جو انہیں بزرگوں سے وراثت میں ملی تھی، بے شک انہیں کئی بار اس کے لیے لوگوں کی بے جا تنقید کابھی بھی کر نا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اچانک اس دار فانی سے کوچ کر جانے سے ایک بڑا خلاء پیدا ہوا ہے ۔ڈاکٹر قاسمی نےکہاکہ مسلم پرسنل لابورڈ اور امارت شرعیہ کے علاوہ بھی الگ سے ان کی خدمات اور کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے۔جو ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ انہیں دیکھ کر ایک تحریک پیدا ہوتی ہے۔ اور قوم و ملت کی خدمت کا جذبہ موجزن ہوتاہے۔ ڈاکٹر محمد ذوالفقار عالم مدنی یونیورسٹی آف بزنس اینڈٹیکنا لوجی جدہ نے مولاناکے انتقال پر گہرے رنج و غم کا ۔ انہوں نےکہا کہ امیر شریعت کی وفات کا سانحہ ہندوستان ہی نہیں عالم اسلام کے لئے بڑا خسارہ ہے۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔ ٹرسٹ کے رکن مولانا حسان جامی قاسمی، مولانا عمادالدین قاسمی ،حافظ ضیاء الدین، محمد عمران الحق ، نیازالحق، شاداب جامی ، ماسٹر نقی احمد، سماجی کارکن محمد ثاقب ، نورعین ، جسیم القمر شکیب اور حافظ نظام الدین نے حضرت امیر شریعت کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہا ر کر تے ہوئے دعاء مغفرت کے ساتھ ان کی بلندی درجات کیلئے دعا کی ۔

Leave a Reply