نئی دہلی: (پریس ریلیز) معروف تھنک ٹنیک انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے زیر اہتمام امیر شریعت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی کی وفات پر آن لائن تعزیتی جلسے کا انعقاد ہوا، جس میں ملک کی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا درس وتدریس کے رموز سے بھی واقف تھے۔ سیاسی مسائل اور ملکی حالات پر ان کی گہری نظر تھی۔ وہ ملت کے مسائل کو حل کرنا بخوبی جانتے تھے اور مشکل وقت میں پوری اولوالعزمی اور ثابت قدمی کے ساتھ ملت کی رہنمائی اور قیادت کرتے تھے۔ مشکل ترین حالات میں بھی انھوں نے سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہمیشہ اعتدال کو سامنے رکھا۔ خواتین کو بھی انہوں نے بھر پور اہمیت دی. ان کی وجہ سے مسلم خواتین کی مثبت تصویر دنیا کے سامنے آئی۔ بے خوفی، بیباکی اور جرأت جو اُن کی ذات میں پائی جاتی تھی، اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ وہ حکمت و بصیرت سے کام لیتے تھے۔ سیاست، سماجی امور اور ملی میدان کے علاوہ تعلیم کے شعبے میں ان کا کارنامہ قابل فخر اور مثالی ہے۔ وہ سب کو ساتھ لے کر چلتے تھے اور اتحاد امت کو پروان چڑھانے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ بلاشبہ مولانا رحمانی کی وفات ایک عہد کا خاتمہ ہے۔
تعزیتی اجلاس کی صدارت معروف عالم دین حضرت مولانا حکیم محمد عبد اللہ مغیثی (صدر آل انڈیا ملی کونسل) نے فرمائی جب کہ اس کی سرپرستی ڈاکٹر محمد منظور عالم (چیئرمین آئی او ایس) نے فرمائی، حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا کے انتقال سے ایسا لگ رہا ہے کہ میرا ایک بازو شل ہوگیا ہے اور ذاتی طور پر مجھے جو رنج پہنچا ہے اسے بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر محمد منظور عالم (چیئرمین آئی او ایس) نے فرمایا کہ مرحوم حالات کی نبض شناسی بہت خوبی کے ساتھ انجام دیتے تھے. زمانے کی نبض پر انگلی رکھتے تھے اور بین السطور پڑھنے کے بہت ماہر تھے. ہم سب کو چاہیے کہ حالات کے تقاضے کو سمجھتے ہوئے عظمتِ انسانی کے پیغام کو عام کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کریں. مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (قائم مقام سکریٹری جنرل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے کہا کہ مولانا نے پوری ہمت اور اولوالعزمی کے ساتھ اپنی تمام ذمہ داریاں نبھائیں اور سیاست، تعلیم، سماجی امور اور قیادت سبھی شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے. سابق مرکزی وزیر حکوت ہند جناب کے رحمان خان نے کہا کہ اوقاف اور دیگر مسائل پر بھی مولانا کی گھری نظر تھی اور جن دنوں میں یو پی اے حکومت میں وزیر تھا اس وقت مولانا نے مسلسل میری رہنمائی کی۔ اس کے علاوہ علاوہ تعزیتی اجلاس میں ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی (ممبر مسلم پرسنل لا بورڈ)، سید سعادت اللہ حسینی (امیر جماعت اسلامی ہند)، مولانا انیس الرحمن قاسمی (نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل)، مولانا سید شاہ مصطفی رفاعی جیلانی ندوی (معاون جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل)، مولانا خالد رشید فرنگی محلی (ممبر مسلم پرسنل لا بورڈ)، پروفیسر اختر الواسع (چانسلر مولانا آزاد یونیورسٹی، جودھ پور)، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مدنی (امیر جمعیت اہل حدیث ہند)، مفتی ارشد فاروقی (چیئر مین فتویٰ آن لائن)، مولانا شمشاد رحمانی (نائب امیر شریعت امارت شرعیہ بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ)، جناب نوید حامد (صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت)، ڈاکٹر اسماء زہرا (سربراہ شعبہ خواتین آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)، پروفیسر حسینہ حاشیہ (معاون سکریٹری جنرل آئی او ایس)، ایڈوکیٹ یوسف حاتم مچھالہ (رکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)، جناب محمد عارف مسعود (ایم ایل اے بھوپال)، ڈاکٹر خالد انور (ایم ایل سی، مشرقی چمپارن)، جناب اختر الایمان (ایم ایل اے، کشن گنج) نے اپنے خیالات کا اظہار کیا.
قبل ازیں مولانا اطہر حسین ندوی کی تلاوت سے آغا ز ہوا اور مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی نے نظامت کا فریضہ انجام دیا۔ آئی او ایس کے اسسٹنٹ فائننس سکریٹری محمد عالم اور خالد حسین ندوی نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں خصوصی طور پر محنت کی۔

Leave a Reply