” یوم مزدور “

6

عبداللہ ممتاز

آج یکم مئی یعنی یوم مزدور ہے، اس لیے ہمیں پھر سے اپنے سب سے سستے اور مفلوک الحال مزدوروں کی یاد آئی، یعنی عوامی (پرائیویٹ) مدرسوں میں پڑھانے والے اساتذہ ۔
ان کی تنخواہوں سے متعلق دو تین تحریریں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ان کی موجودہ وقت میں جو تنخواہیں ہیں یہ کسی بھی طور پر اکابر کی تنخواہوں کے موازن نہیں ہے؛ بلکہ اکابر سے چار گنی کم تنخواہوں پر یہ کام کر رہے ہیں، ان کی تنخواہوں کا معیار کم رکھنے کے لیے جو لوگ اکابر کا حوالہ دیتے ہیں وہ سراسر تلبیس کرتے ہیں، واللہ موجودہ مولویوں کی مفلوک الحالی اور فقر اضطراری میں اکابر کا کوئی دوش نہیں ہے. وہ بڑے عالی دماغ لوگ تھے، وہ کبھی بھی اپنے علماء کو فقر اضطراری میں مبتلاء کرکے دین کی خدمت پر مجبور نہیں کرسکتے تھے، بعض مسائل کی تلاش کے دوران فتاوی دارالعلوم میں حضرت مفتی ظفیرالدین صاحب (سابق مفتی دارالعلوم دیوبند ومرتب “فتاوی دارالعلوم) کی ایک صراحت نظر سے گزری. مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ “آج کل ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تین روپے تولہ کے حساب سے ایک سو ساڑھے ستاون روپے ہوتی ہے، لہذا ہمارے اس زمانہ سن ۱۳۸۵ ہجری میں نصاب ہوا”۔ (فتاوی دارالعلوم دیوبند:6/88)
یعنی آج سے صرف ستاون سال پہلے جس شخص کے پاس ایک سو ساڑھے ستاون روپے ہو وہ صاحب نصاب ہوتا تھا اور ابھی کی صورت حال دیکھیے کہ صاحب نصاب ہونے کے لیے کم از کم چالیس ہزار روپے ہونا ضروری ہے۔
چاندی اب سے ساون سال قبل تین روپے تولہ کے حساب سے دستیاب تھا اور اب چھ سو پچھتر روپے تولہ کے حساب سے ملتا ہے (جب کہ پہلے زمانہ میں تولہ تقریبا بارہ گرام کا ہوتا تھا اور اب دس گرام کا ہوتا ہے) یعنی ان ستاون سالوں میں چاندی کی قیمت دو سو پچیس گنا بڑھی ہے۔
پچاس ساٹھ سال کا عرصہ بہت بڑا نہیں ہوتا ہے، آج بھی آپ کو کئی ایسے مدرس مل جائیں گے جو پچاس سالوں سے کسی ادارے میں خدمت انجام دے رہے ہوں گے، ان سے پوچھیے کہ پچاس سال پہلے ان کی کتنی تنخواہ تھی، مجھے نہیں لگتا کہ پچاس سال پہلے بھی کسی کی تنخواہ دو ڈھائی سو روپے سے کم رہی ہوگی. میرے والد گرامی آج سے پچیس سال قبل ایک معمولی سے مکتب میں مدرس تھے وہاں ان کی تنخواہ ساڑھے سات سو روپے تھی تو ظاہر ہے پچاس سال پہلے دو ڈھائی سو روپے ہونا عام فہم بات ہے. جب کہ میں نے اپنی ایک تحریر میں مولانا گیلانی کے حوالے سے لکھ چکا ہوں کہ اب سے سو سال پہلے شیخ الہند کی تنخواہ پونے دو سو روپے تھی۔
اب موازنہ کیجیے کہ اب سے پچاس سال پہلے کے مدرس کی تنخواہ اگر صرف دو سو روپے رہی رہی ہو (جب کہ یہ اقل مفروض ہے) تو گویا ہر مہینہ انھیں اتنی تنخواہ ملتی تھی جس سے وہ صاحب نصاب ہوجائیں.
موجودہ وقت میں چالیس ہزار سے زائد کی مالیت آپ کے پاس ہو تب آپ صاحب نصاب ہوتے ہیں جب کہ تنخواہیں اوسطا دس ہزار روپے ہیں. یعنی چار ماہ کی تنخواہ جمع کرنے کے بعد نصاب کے بقدر مال آپ کے پاس ہوگا۔
اب غور فرمائیے کہ اکابر کی تنخواہوں کو بطور حوالہ پیش کرنا کہاں جائز ہے؟ ہمارے یہ اساتذہ ومدرسین تو اکابر کی بہ نسبت چار گونی سے بھی کم تنخواہ پر کام کر رہے ہیں، یعنی اکابر کی تنخواہوں کے مقابل انھیں صرف پچیس فیصد تنخواہ مل رہی ہے، اگر پچاس سال پہلے کسی مدرس کی تنخواہ دو سو روپے تھی تو ان بیچاروں کو صرف پچاس روپے مل رہے ہیں۔
مہنگائی کا یہ حال گزشتہ پچاس سال میں ہوا ہے تو سوچیں آئندہ پچاس سالوں میں کیا ہوگا؟ آپ پچاس سال چھوڑیے، مہنگائی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے کہ آئندہ صرف دس سالوں میں ان کی حالت مزید بدتر ہوگی اور تب جاکر ان کی تنخواہیں پندرہ سترہ ہزار روپے ہوگی جو امسال کے مقابل پانچ ہزار روپے کے برابر ہوگی اور اس طرح ان کی کمر ٹوٹتی چلی جائیگی اور ہم بس رونا روتے رہیں گے کہ پہلے جیسے طلبہ نہیں رہے، پہلے جیسے اساتذہ نہیں رہے، پہلے جیسے اساتذہ وطلبہ پیدا کرنے کے لیے پہلے جیسی تنخواہیں دینا سب سے بنیادی ضرورت ہے کہ “مزدور خوش دل کند کار بیش”۔
آج مدرسوں کے پاس بڑی بڑی عمارتیں ہیں، خوبصورت آفس، پانی کے لیے نل، کمروں میں بجلی وپنکھے اور کھانے کے لیے ڈائننگ ہال کی سہولت اور ہر قسم کے آرائش کے سامان موجود ہیں؛ لیکن تعلیمی زوال روز افزوں ہے، مَدرسوں کا جائزہ لیجیے، ان کے ناظم تعلیمات سے پوچھیے وہ آپ کو بتائیں گے کہ گزشتہ سال کے مقابل امسال کی تعلیمی صورت حال ابتر ہے ، پانچ سال پہلے طلبہ واساتذہ جتنی محنت کرتے تھے اب ویسے طلبہ نہیں رہے اور اساتذہ اتنی محنت نہیں کرتے ہیں. استثناءات ہرجگہ ہوتے ہیں ؛ لیکن مجموعی صورت حال وہی ہے جو میں کہہ رہا ہوں، آپ نوٹ کرلیجیے اور صرف دس مَدرسوں کا جائزہ لے لیجیے، آپ کو احساس ہوجائے گا، میری نظر میں اس کی بنیادی وجہ اساتذہ کی تنخواہوں میں روز بروز گرواٹ ہے، ہر ماہ وہ گزشتہ ماہ کے مقابل اور ہر سال وہ گزشتہ سال کے مقابل حالات کے زیادہ شکار ہیں، ایسے میں آپ ان سے کیا توقع کرسکتے ہیں۔
مہتمم حضرات کے بھی شکوے ہیں کہ عوام انھیں اتنے پیسے نہیں دیتی جن سے ان کا سالانہ بجٹ پورا ہو، پھر تنخواہ کہاں سے بڑھائیں، مجھے لگتا ہے کہ ان کی شکایت بیجا ہے، اگر عوام پیسے نہیں دیتی تو ہندوستان بھر کے ہزاروں مدارس میں کروڑوں کی لاگت والی بڑی بڑی عالیشان عمارتیں اور شاندار مسجدیں کہاں سے تعمیر ہوئی ہیں؟ ظاہر ہے اس کا سارا خرچ اسی قوم نے پورا کیا ہے، جوبائیڈن اور مودی تو خرچ دیتے نہیں ہے. پھر اگر مدرسہ کا بجٹ بناتے وقت اگر وہ آٹھ ہزار تنخواہ کے حساب سے مثلا دس لاکھ روپے کا بجٹ بناتے ہیں اور پھر اس حساب سے چندے پر محنت کرتے ہیں تو دس لاکھ کا بجتٹ پورا ہوجاتا ہے، ہندوستان میں شاید کوئی ایسا مدرسہ ہو جس مے جمادی الاولی/جمادی الاخری میں کہہ دیا ہو کہ اب ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، طلبہ اپنے گھروں کو چلے جائیں، جب کہ شوال میں کوئی بھی اپنا بجٹ پورا کرنے کے بعد اس حساب سے طلبہ کا داخلہ نہیں لیتے پھر اساتذہ کی تنخواہ بڑھا کر دس لاکھ کے بجٹ کو بارہ لاکھ کیوں نہیں کیا جاسکتا۔
اس کا حل کیا ہے؟
ظاہر ہے مرض کی تشخیص کے بعد مرض کی دوا بتلانا طبیب کی ذمے داری ہے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ہندوستان میں مدارس کے نظام کو باقی رکھیں تو ابھی سے اقدامات شروع کردیجیے.
اول: مدرسہ کا بجٹ بناتے وقت اسے مجموعی نہ رکھیں بلکہ بجٹ کو تین حصوں میں تقسیم کردیں.
۱. اساتذہ وملازمین
۲. طلبہ کا کھانا ودیگر بنیادی سہولیات
۳. مدرسہ کی عمارت
بجٹ کے فیصد کی تعیین کردیں کہ اتنا فیصد اساتذہ کی تنخواہوں پر خرچ ہوگا اور اتنا فیصد طلبہ پر اور اتنا فیصد مدرسہ کی تعمیر پر۔
اگر خدا نخواستہ سال بھر میں آپ کا بجٹ پورا نہ ہوا تو آپ اسی ترتیب سے ترجیح اپنائیں کہ اول تعمیر کا بجٹ کم کردیں، تب بھی اگر بجٹ کے مطابق چندہ نہیں ہے تو طلبہ کی سہولیات کم کردیں، اگر تب بھی بجٹ کے مطابق چندہ نہیں ہے تو پھر بلاشبہ اساتذہ کی تنخواہ سے بھی کٹوتی کرلیجیے۔
دوم: تنخواہیں یکبارگی طور پر بڑھاکر اکابر کی تنخواہوں کے متوازن کردیجیے، اگر آپ اتنا نہیں کرسکتے تو کم از کم بیس پچیس ہزار تو کرہی سکتے ہیں۔
سوم: ہر سال اپنی مرضی سے پانچ سات فیصد تنخواہ بڑھانے کے بجائے کسی ماہر اقتصادیات سے رابطہ کرلیں کہ امسال گزشتہ سال کے مقابل کتنے فیصد مہنگائی بڑھی ہے اور پھر ہر سال اتنے فیصد تنخواہ میں اضافہ کیجیے.
آپ یہ بھی کرسکتے ہیں شوال میں نزدیکی جویلری کی دکان پر جاکر سونا/چاندی کی قیمت معلوم کرکے لکھ لیجیے اور پھر اگلے سال شوال میں سونا/چاندی کی قیمت معلوم کرلیں. جتنے فیصد سونا چاندی کی قیمت بڑھی ہو اتنے فیصد تنخواہوں میں اضافہ کیجیے۔
اپنی سہولت کے حساب سے آپ ڈالر/پٹرول کی قیمت کو بھی معیار بناسکتے ہیں۔
ان شاء اللہ اگر ایسا ہوا تو یقینا پھر سے مدارس کے خزاں رسیدہ چمن میں باد بہاری آئے گی، انبیاء کی بعثت کا دروازہ بند ہوچکا ہے؛ لیکن حکیم الامت، حکیم الاسلام، شیخ الہند، شیخ الاسلام اور حجۃ الاسلام، رازی وغزالی اور رومی و حجازی پھر سے پیدا ہوسکتے ہیں۔ وما على الله بعزيز

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں