ضرورت رشتہ برائے بیوہ کیا رفیق - رفیقہ حیات کا مقصد صرف جنسی تسکین ہے؟

ضرورت رشتہ برائے بیوہ کیا رفیق – رفیقہ حیات کا مقصد صرف جنسی تسکین ہے؟

تحریر : مسعود جاوید

زیر نظر اسکرین شاٹ کا مفہوم جیسا کہ واضح ہے کہ ایک محترمہ آستھا ورما اپنی بیوہ ماں کے لئے ایک خاوند ڈھونڈ رہی ہیں۔۔ آستھا صاحبہ نے ٹویٹ میں خاوند بننے کے امیدوار مرد کے لئے شرط لکھی ہے کہ وہ مرد 50 کی عمر کا ہو ، گوشت خور نہ ہو، شراب پینے والا نہ ہو (شرابی اور کبابی نہ ہو) اور مالی اعتبار سے آسودہ ہو۔
ان کی اس تلاش یا پوسٹ یا اشتہار پر مختلف لوگوں نے مختلف تبصرے کۓ بعض تو اس قدر غلیظ، نازیبا اور جنسی نوعیت کے ہیں جو نقل کرنے کے لائق نہیں ہیں۔
تبصرے میں دریدہ دہنی، ناشائستہ زبان استعمال کرنا اور ہر عام و خاص پوسٹ میں جنسی تلذذ کا پہلو ڈھونڈ نکالنا تبصرہ کرنے والوں کی ذہنی پستی اور غیر مہذب خاندان اور ماحول میں تربیت پانے کا پتہ دیتا ہے۔
بدتمیزی کی حد پار کرنے والے تبصرہ نگاروں میں دو قسم کے لوگ ہیں۔
ایک وہ جن کے مذہب میں ماضی قریب تک بیوہ خواتین کو فوت شدہ شوہر کی چتا کے ساتھ آگ میں دھکیل کر جلا دیا جاتا تھا گرچہ ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جاتی تھی کہ وہ شوہر کی محبت میں اپنی جان شوہر کی چتا پر نچھاور کر رہی ہے۔ شاید اس غیر انسانی رسم کا محرک یہ ہوتا تھا کہ شوہر کی عدم موجودگی میں جنسی خواہشات پوری کرنے کے لئے بیوہ غلط راہ پر نہ چل پڑے۔ ستی پرتھا یعنی شوہر کے ساتھ بیوی کے مارے جانے کی رسم پر قانونی طور پابندی کے بعد ایسی بیواؤں کو جنسی طور پر راغب کرنے والے لباس اور زیب و زینت کا سامان، سنگھار استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے مثلاً وہ ہمیشہ سادہ اور سفید کپڑے پہنے، چوڑی نہ پہنے اور سیندور نہ لگاۓ یہاں تک کہ کھانے میں بھی گوشت اور گرم تاثیر والی اشیاء مثلاً لہسن ادرک وغیرہ کا استعمال نہ کرے۔ اس ماحول کے پروردہ لوگوں کے لئے مندرجہ ذیل اشتہار ظاہر ہے قابل قبول نہیں ہے۔
دوسرے وہ جو روشن خیال لبرل ہیں جن کے مطابق شادی ایک غیر ضروری بندھن، شوہر اور شوہر کے گھر والوں کی غلامی اور بغیر تنخواہ میڈ بن کر رہنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اگر مالی طور پر عورت آزاد ہے تو اسے شوہر رکھنے کی حماقت نہیں کرنی چاہیے۔ افزائش نسل کے خواہشمند شوہر اور اس کے خاندان کے لئے بیوی اپنا فیگر کیوں خراب کرے، “میرا جسم میری مرضی” ، عورت بچے کو اپنے رحم میں رکھ کر نو مہینے احتیاط کی زندگی کیوں گزارے ، درد زہ کیوں سہے، نارمل ڈیلیوری نہ ہو تو سیزیرین آپریشن اور اس کے بعد کئی مہینوں تک محتاط زندگی گزارنے پر مجبور کیوں ہو ، اف یہ شادی نہیں قید و بند کی زندگی ہوتی ہے۔ حمل قرار پانے سے لے کر ولادت اور اس کے بعد نومولود کی رضاعت اور پرورش !
مذکورہ بالا دونوں سوچ غیر فطری ہیں۔ یہ دنیا روز ازل سے آدم و حوا ، شوہر بیوی سے آگے بڑھی اور قیامت تک اسی طرح چلتی رہے گی۔
جنسی خواہشات اللہ کی ودیعت کی ہوئی ایک ایسی جبلت ہے جسے پوری کرنے کے لئے انسان ہر جائز و ناجائز راہ ڈھونڈتا ہے تاہم جائز طریقہ سے اس کی تکمیل کے لئے دین اور سماج نے طور طریقے بناۓ ہیں جو عموماً بلا تفریق مذہب قوم ذات برادری علاقہ مسلمہ طور پر پوری دنیا میں رائج ہیں۔ اس جنسی ضرورت کو کچل کر زندگی گزارنا محال اور خلاف فطرت ہے۔ تاہم رفیق حیات رفیقہ حیات شوہر کے لئے بیوی اور بیوی کے لئے شوہر یعنی ازدواجی زندگی کا مقصد صرف جنسی خواہشات پوری کرنا نہیں ہے اور نا ہی صرف افزائش نسل ہے۔ اس کا ایک اہم مقصد قرآن کریم کی زبان سکینت ، اور باہمی مودت اور رحمت ہے۔
: ومن آياته أن خلق لكم من أنفسكم أزواجا لتسكنوا إليها وجعل بينكم مودة ورحمة. ۔۔۔ اس آیت سے یہ بات بھی صاف ہو جاتی ہے کہ بیوہ کے عقد ثانی کے تعلق سے جنسی اینگل سے طنز کرنا قطعاً درست نہیں ہے۔ شادی کا مقصد جنسی ضرورت سے ہٹ کر اور بھی ہیں اور وہ ہیں ایک دوسرے سے دوستی کرنے والے ایک دوسرے کے لئے مہربان ساتھی کی معیت، اور ایک دوسرے کے لئے سکون کی آماجگاہ۔
دین اسلام ایک فطری مذہب ہے اسی لئے رہبانیت مجرد زندگی غیر ازدواجی زندگی ناپسندیدہ ہے۔ ازدواجی زندگی گزارنے کی تلقین ہر ایک تندرست جنسی فریضہ ادا کرنے کے اہل انسان کے لئے ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت عام آدمی عورت ہو یا مذہبی پیشوا ، مولوی مولانا، شیخ، صوفی۔۔۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ چرچ اور آشرم پادری اور پجاری کے برعکس ہمارے مذہبی پیشوا حضرات اور مذہبی مقامات جنسی اسکینڈلوں سے محفوظ ہیں۔
عفت پاکدامنی صرف عورتوں سے مطلوب نہیں ہے مردوں سے بھی مطلوب ہے یہ اور بات ہے کہ مرد برتر معاشرتی نظام نے عفت پاکدامنی خواتین کے ساتھ مخصوص کردیا ہے جس طرح پردہ حجاب یاد رکھا مگر مردوں سے متعلق نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم بھول گئے۔
بیوہ کو عقد جدید سے روکنا اسی اصول کے تحت اسلامی نقطہ نظر سے غلط ہے۔ مرد ہو یا عورت اسلام اسے مجرد اکیلے کی زندگی بسر کرنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔
بدقسمتی سے برصغیر – ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں نے ہندوؤں کے ساتھ اختلاط اور دین سے ناواقفیت کی وجہ سے بعض ہندو رسم و رواج کو اپنا لیا ان ہی میں سے یہ رواج بھی ہے کہ بیوہ سے شادی کرنا معیوب سمجھا جاتا رہا ہے۔ جیسے جیسے تعلیم عام ہوتی گئی ہندوانہ رسم و رواج کو مسلمانوں نے ترک کرنا شروع کیا لیکن ابھی بھی بعض علاقوں میں ان رسومات کے گہرے اثرات پاۓ جاتے ہیں۔
زیرنظر اشتہار میں مالی آسودگی کی فرمائش پر بعض لوگوں کو اعتراض ہے۔ حالانکہ میرے خیال میں وہ فرمائش غلط نہیں ہے اس لئے کہ لڑکی اپنی والدہ کے لئے شوہر تلاش کر رہی ہے ، ایسا مفت خور بے کار انسان جو اس کی ماں کے گھر میں رہنے اور اس کی دولت پر عیش کرنے کا متمنی ہو وہ شادی کے لئے پیش کش نہ کرے۔ ۔۔۔ اسلام نے خواہ بیوی صاحبہ ثروت ہو اس کا نان نفقہ اور سکن شوہر کے ذمے مقرر کیا ہے۔
یورپ میں جنگ عظیم اول و دوم کے دوران بہت بڑی تعداد میں مرد مارے گئے اور عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ وہ مالی اعتبار سے آسودہ بھی تھیں پھر بھی پرسکون زندگی کے لئے ترستی تھیں۔۔۔ چنانچہ اخبارات میں اشتہار چھپنے لگے ضرورت رشتہ براۓ بیوہ۔۔۔ مردوں کی کمی تجارتی مراکز اور فیکٹریوں میں بھی محسوس کی گئی، کام کے مواقع کو دیکھتے ہوئے مختلف ممالک سے لوگ یورپ ہجرت کرنے لگے ان میں سے کئ لوگوں نے ان بیواؤں سے شادی کی یا ساتھ رہنے لگے لیکن جن کے مطمح نظر رفاقت نہیں بیواؤں کی دولت پر عیش کرنا تھا آگے چل کر ایسی شادیاں یا لیو ان ریلیشن شپ معاشرے میں کئ قسم کے سماجی اور قانونی مسئلے کے سبب بنے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو بیٹی نے اگر اپنی بیوہ ماں کے ہونے والے شوہر کی حیثیت یقینی بناتی ہے تو اس میں حرج کیا ہے۔
ہمارے یہاں نہ صرف بیوہ عورتوں کی دوسری شادی کا مسئلہ ہے بلکہ بیوہ مرد کا عقد ثانی بھی معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ ایسے شوہروں کو جن کی بیویاں وفات پا گئیں یا جو طلاق شدہ ہیں انہیں بھی دوسری شادی وقت پر کر لینی چاہیے مگر افسوس ہم نے بہت سے پڑھے لکھے بیٹوں اور بیٹیوں کو دیکھا جنہوں نے اپنے 40، 45 کی عمر کے بیوہ باپ کا عقد ثانی نہیں ہونے دیا۔ رشتہ داروں نے عجیب و غریب قسم کے عدم تحفظ کا احساس sense of insecurity بچوں کے ذہن میں ڈال دیا، سوتیلی ماں اور سوتیلا باپ کا ایسا بھیانک ہیولیٰ پیش کیا گیا کہ بچے عقد ثانی کی راہ میں حائل ہوتے رہے۔
اس کے برعکس عرب ممالک میں عقد ثانی عام بات ہے۔ عورت کا شوہر انتقال ہو گیا یا طلاق ہو گئی، عدت گزرنے کی دیر ہوتی ہے اس کے بعد عقد ثانی کے لئے پیغامات آنے لگتے ہیں۔ اور یہی صحیح روش ہے۔
کورونا وباء کے نتیجے میں ان دنوں ہمارے یہاں، بلکہ پوری دنیا میں کم و بیش، بیوہ عورتوں، بیوہ مردوں اور یتیموں کا مسئلہ درپیش ہے ان کے بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *