مجرم کو فرار ہونے میں مدد کرنے کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج

مجرم کو فرار ہونے میں مدد کرنے کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج

 کانپور کی سینئر پولیس افسر روینا تیاگی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’وہ منوج سنگھ کو فرار کرنے میں کامیاب رہے۔ ہم نے سخت دفعات کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے لئے تمام کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘‘

کانپور: اتر پردیش کے کانپور شہر میں ایک بی جے پی لیڈر پر مطلوبہ مجرم کو فرار ہونے میں مدد کرنے کے الزام میں مقدمہ کا سامنا ہے۔ کانپور پولیس کمشنر اسیم ارون نے اس کی تصدیق کی ہے کہ پولیس نے بی جے پی لیڈر نارائن سنگھ بھدوریا کا نام ایف آئی آر میں شامل کیا ہے۔ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں بی جے پی لیڈر کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جہاں سے انتہائی مطلوبہ مجرم منوج سنگھ بھاگا تھا۔
منوج پر ایک درجن سے زیادہ مقدمات درج ہیں، ان میں قتل، جبراً وصولی اور عصمت دری جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ بھدوریا کانپور کے بی جے پی لیڈر ہیں اور شہر کی پارٹی تنظیم میں بھی عہدہ سنبھال رہے ہیں۔ اب معاملہ درج کر کے بھدوریا اور اس کے ساتھیوں کی تلاش میں پولیس کی چھاپہ ماری جاری ہے۔
یہ واقعہ بدھ کی دوپہر کانپور کے نوبستہ علاقہ میں پیش آیا۔ یوپی پولیس کی ٹیم نے منوج کو گیسٹ ہاؤس کے باہر پان کی دکان سے گرفتار کیا تھا، گیسٹ ہاؤس میں بی جے پی لیڈر بھدوریا کی سالگرہ کی تقریب چل رہی تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ منوج سنگھ بھی تقریب میں شامل تھا۔ لوگوں کی طرف سے موبائل فونز میں ریکارڈ کی گئی ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو سادے لباس میں دیکھا جا سکتا ہے۔ وردی میں موجود کچھ پولیس اہلکار منوج کو جیپ میں بیٹھا کر لے جا رہے ہیں۔ اس دوران سینکڑوں کی تعداد میں لوگ پولیس والوں سے بحث کرتے اور دھکا مکی کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
ایک ویڈیو میں نظر آ رہا ہے کہ پولیس منوج کو جیپ میں دھکیلنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ ایک دوسرے زاویہ سے نظر آ رہا ہے کہ پولیس کی جیپ کو لوگوں نے گھیرا ہوا ہے۔ اچانک بھیڑ بکھر جاتی ہے اور لوگ اطراف میں بھاگنے لگتے ہیں۔ کچھ پولیس اہلکار ان کا تعاقب کرتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق اسی دوران منوج سنگھ فرار ہو جاتا ہے۔ کانپور کی سینئر پولیس افسر روینا تیاگی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’وہ منوج سنگھ کو فرار کرنے میں کامیاب رہے۔ ہم نے سخت دفعات کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے لئے تمام کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘‘

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *