مسلمانوں کے ساتھ بھونڈا مذاق

مسلمانوں کے ساتھ بھونڈا مذاق

معصوم مرادآبادی
سیکولر پارٹیوں کی نگاہ میں مسلمانوں کی وقعت کیا ہے، اس کا اندازہ یوں تو آئے دن ہوتا رہتا ہے ، لیکن حال ہی میں کانگریس نے اپنے اقلیتی ڈپارٹمنٹ میں چیئرمین کے عہدے پر جو تقرری کی ہے ، اس نے سبھی کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ پارٹیاں مسلمانوں کو ایک کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتیں اور انھیں ان کی اوقات بتاتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ میں ایک ’شاعر‘ کی تقرری کو مسلمانوں کے ساتھ بھونڈے مذاق سے تشبیہ دی جارہی ہے۔ ایک ایسی پارٹی جس کی قیادت مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمدعلی جوہر، ڈاکٹر مختار احمد انصاری اور حکیم اجمل خاں جیسے عظیم مسلم قائدین نے کی ہو ، وہاں اب جھولا چھاپ لوگوں کو اہم عہدوں پر بٹھایا جارہا ہے، جو کانگریس کے زوال کی آخری نشانی ہے۔
ہندوستانی مسلمانوں کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ انھوں نے آزادی کے بعد جن سیاسی پارٹیوں کو اپنا مسیحا سمجھا ، انھوں نے ہی ان کا سب سے زیادہ استحصال کیا۔ کانگریس چونکہ ملک کی ایسی اکلوتی پارٹی ہے جو سب سے زیادہ اقتدار میں رہی ہے اور مسلمان شروع سے ہی اسے ووٹ دیتے رہے ہیں، لیکن کڑوی حقیقت یہ ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کے ووٹوں پر ہاتھ تو صاف کیا لیکن ان کے مسائل حل کرنے کی راہ میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس عرصے میں مسلمانوں کے سامنے مسائل کا ایسا انبار ہے کہ کوئی بھی گرہ کھلنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ مسلمانوں کوخوش کرنے کے لیے ہمیشہ ایسے نمائشی کام کئے گئے جن کی وجہ سے فرقہ پرست جماعتیں یہ الزام عائد کرتی رہیں کہ کانگریس مسلمانوں کی منہ بھرائی کرتی ہے۔ اس الزام تراشی کے نتیجے میں مسلمان فرقہ پرست طاقتوں کا نوالہ تو بنتے رہے، لیکن ان کا کوئی بھی مسئلہ آج تک حل نہیں ہوپایا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آزادی کے 74 سال گزر جانے کے بعد بھی آج مسلمانوں کی حالت اتنی بدتر ہے کہ وہ اس ملک کی سب سے پسماندہ قوم بن کر رہ گئے ہیں۔ پسماندگی کی حد تک یہ ہے کہ وہ دلتوں سے بھی بدتر پوزیشن میں آگئے ہیں۔ یہ بات ہم اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ اس کی گواہ سچر کمیٹی کی وہ رپورٹ ہے جو کانگریس کے پچھلے دور حکومت میں بڑی جانفشانی کے ساتھ تیار ہوئی تھی۔ جسٹس راجندر سچر کی قیادت میں تشکیل دی گئی اس کمیٹی نے پورے ملک کا دورہ کرنے کے بعدمسلمانوں کی تعلیمی ، سماجی ، معاشی اور سیاسی پسماندگی کا جو ’ لیکھا جوکھا‘ پیش کیا ہے، وہ آنکھیں کھول دینے والا ہے۔ سچر رپورٹ میں نہ صرف مسلمانوں کی حد سے بڑھی ہوئی پسماندگی کے اسباب کا جائزہ لیا گیا ہے بلکہ اسے دور کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ اقلیتی امور کی مرکزی وزارت سچر کمیٹی کی کوکھ سے ہی پیدا ہوئی تھی اور اس نے اپنے ابتدائی زمانے میں کچھ کام بھی کئے ، لیکن موجودہ دور میں وہ محض ایک نمائشی وزارت بن کر رہ گئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کانگریس کی تمام تربے عملی اور نظر انداز کرنے کی روش کے باوجود مسلمان اسے اس لیے ووٹ دیتے رہے کہ ان کے سامنے کوئی متبادل نہیں تھا ۔ کانگریس نے مسلمانوں کی اس مجبوری کا خوب فائدہ اٹھایا اور وہ انھیں لالی پاپ دے کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ اس دوران کچھ گندم نما جو فروش قائدین نے مسلمانوں کے نام پر کانگریس سے خوب فائدے اٹھائے ، لیکن ان سے مسلمانوں کو کوئی فیض نہیں پہنچا ۔ اس پورے عرصہ میں بادل نخواستہ ہی سہی مسلمان کانگریس کو ووٹ دے کر اقتدار تک پہنچاتے رہے، لیکن پانی اس وقت سر سے گزرنے لگا جب 90 کی دہائی میں کانگریس نے بابری مسجد تنازعہ میں دوہرا کھیل کھیلنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنا سیکولر نقاب اتار پھینکا اور بی جے پی کے ہاتھوں سے اس کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو چھیننے کی کوشش کی۔ اسی چھینا جھپٹی میں اس نے اپنے ہاتھ بری طرح جلالیے۔ اسی دوغلے کردار کا نتیجہ ہے کہ کانگریس آج ملک کی سیاست میں حاشیہ پر پہنچ گئی ہے۔ اس کی سب سے بری حالت ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں ہوئی جہاں اس کا تانا بانا بری طرح بکھر گیا ہے۔ وہاں اس کا تنظیمی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کی آمد آمد ہے اور یہاں کی ذمہ داری کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی کو سونپی گئی ہے، جو پارٹی کو نئی زندگی دینے کی کوشش کررہی ہیں، لیکن سیاسی ناتجربہ کاری اور مردم ناشناسی ان کے دامن سے لپٹی ہوئی ہے۔ یوں تو وہ سماج کے تمام ہی طبقوں کو کانگریس کی طرف متوجہ کررہی ہیں، لیکن مسلمان ان کا خاص نشانہ ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ماضی میں جو مسلمان کانگریس سے ناراض ہوکر سماجوادی پارٹی یا بی ایس پی میں چلے گئے ہیں ، وہ واپس آجائیں اور پارٹی کو دوبارہ کھڑا کردیں۔ اپنی ان کوششوں کو پروان چڑھانے کے لیے وہ جو کچھ کررہی ہیں، اس کے بہتر نتائج برآمد نہیں ہورہے ہیں، کیونکہ مسلمانوں کے نام پر جو لوگ ان کے ارد گرد موجود ہیں ، وہ سیاسی سوجھ بوجھ سے عاری ہیں۔ اس کا ایک سراغ پچھلے دنوں اس وقت ملا جب پارٹی کے اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین کے چیئرمین کے طور پر ایک ’ شاعر‘ کی تقرری عمل میں آئی۔ اس کا اعلان یوں تو کانگریس صدر کی طرف سے کیا گیا ہے ، لیکن اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تقرری پرینکا گاندھی کی سفارش پر ہوئی ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہمیں نہ تو کسی سے کوئی ذاتی پرخاش ہے اور نہ ہی ہم شخصیات کو موضوع بناکر گفتگو کرتے ہیں، لیکن اتنا ضرور ہے کہ کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ کی چیئرمین شپ ایک شاعر کو دئیے جانے سے سنجیدہ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ لوگ جو موجودہ حالات میں کانگریس کی واپسی کوضروری خیال کرتے ہیں ، انھیں اس بے جوڑ تقرری سے ضرور صدمہ پہنچا ہے۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ کانگریس میں یا تو افراد کا کال پڑگیا ہے یا پھر کانگریس کی قیادت کوتاہ اندیشوں کے نرغے میں چلی گئی ہے۔ ایسا تو ہرگز نہیں ہے کہ کانگریس کے پاس افراد کی کمی ہے ۔ مسلمانوں کے نام پر ہی اگر آپ شمار کریں تو پارٹی میں سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے ایسے درجنوں تجربے کار مسلمان موجود ہیں، جو اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ان سب کو نظر انداز کرکے سیاسی طورپر ایک قطعی ناتجربہ کار شخص کو عامیانہ شاعری کی بنیاد پر اس اہم عہدے پر فائض کیا گیا۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کانگریس نے مسلمانوں کو ان کی اوقات بتانے کی کوشش کی ہے۔
سبھی جانتے ہیں کہ ماضی میں کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین کے عہدے پر بڑے بڑے تجربہ کار اور سینئر لیڈر فائض رہ چکے ہیں۔ ان میں مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ عبدالرحمن انتولے ، مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ ارجن سنگھ ، ریلوے کے سابق مرکزی وزیر سی کے جعفر شریف اور سینئر کانگریسی لیڈر عمران الرحمن قدوائی کے نام شامل ہیں۔ اگرچہ عمران قدوائی کے بعد یہ عہدہ غیر اہم کانگریسیوں کو دیا جاتا رہا ہے، جنھوں نے اس کی اہمیت کو کم کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا، لیکن اس بار تو حد ہی ہوگئی اور اقلیتی ڈپارٹمنٹ کی قیادت ایک ایسے شاعر کے سپرد کردی گئی جو اپنی عامیانہ شاعری کی وجہ سے جذباتی مسلمانوں میں مقبول ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مذکورہ تقرری ’شاعرانہ کمال‘ کی وجہ سے عمل میں آئی ہے تو ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ شاعری اور سیاست میں کوئی میل نہیں ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے مختلف میدان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب پچھلے لوک سبھا چناؤ میں ان ہی شاعر صاحب کو کانگریس نے ٹکٹ دے کر مرادآباد بھیجا تھا تو وہ بری طرح شکست سے دوچار ہوئے تھے۔ مرادآباد کے عوام نے ان کی مہنگی شاعری مفت میں ضرور سنی ، لیکن ان کی ضمانت ضبط کرا کے پرتاپ گڑھ واپس بھیج دیا۔ اسی واقعہ سے کانگریس کو اندازہ ہوجانا چاہئے تھا کہ شاعری اور سیاست دونوں مختلف میدان ہیں۔ ناکام سیاست داں تو شاعر بن سکتا ہے لیکن ایک ناکام شاعر سیاستداں ہرگز نہیں بن سکتا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت یوپی کا مسلمان سخت کشمکش کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ سماجوادی پارٹی سے بیزار ہے تو دوسری طرف بہوجن سماج پارٹی سے عاجز آچکا ہے۔ پرینکا گاندھی کے میدان میں آنے سے یہ امید بندھی تھی کہ وہ مسلمانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہوں گی اور ایک بہتر سیاسی ماحول پیدا ہوگا۔ لیکن کانگریس کے کارپردازوں نے انھیں جو ٹیم مہیا کی ہے ، وہ ناتجربہ کار اور نمائشی لوگوں کی ٹیم ہے جس کی عوام میں کوئی جڑیں نہیں ہیں۔ اگرواقعی کانگریس اترپردیش میں اپنا کھویا ہوا ووٹ بینک واپس لانا چاہتی ہے تو اسے مسلمانوں کے سنجیدہ اور دانشور طبقہ کو ساتھ لینا ہوگا، ورنہ اس الیکشن میں بھی اس کا حشر پچھلے اسمبلی انتخابات سے مختلف نہیں ہوگا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *