اسرائیل میں پہلی مرتبہ کوئی عرب وزیر بنا، خواتین وزراء کی تعداد بھی سب سے زیادہ

اسرائیل میں پہلی مرتبہ کوئی عرب وزیر بنا، خواتین وزراء کی تعداد بھی سب سے زیادہ

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نئی اسرائیلی حکومت کے وزرا کے ساتھ روایتی گروپ فوٹو

اسرائیل میں تشکیل پانے والی نئی اتحادی حکومت میں 9 خواتین وزراء ہیں۔ نو خواتین میں سے 5 خواتین عرب نژاد ہیں۔ ان میں 2 کا تعلق مراکش سے اور 3 کا عراق سے ہے۔

تل ابیب: اسرائیل کی تاریخ میں جہاں پہلی بار کسی عرب کو وزیر بنایا گیا ہے وہیں سب سے زیادہ خواتین کو کابینہ میں جگہ ملی ہے۔ اسرائیل میں تشکیل پانے والی نئی اتحادی حکومت میں 9 خواتین وزراء ہیں۔ نو خواتین میں سے 5 خواتین عرب نژاد ہیں۔ ان میں 2 کا تعلق مراکش سے اور 3 کا عراق سے ہے۔
یہ اسرائیل کی تاریخ میں کسی بھی کابینہ کے اندر خواتین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ العربیہ کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق مذکورہ عرب نژاد خواتین میں 58 سالہ وزیر اقتصادیات Orna Barbivai شامل ہیں۔ وہ اسرائیلی فوج میں پہلی خاتون ہیں جو میجر جنرل کے عہدے تک پہنچیں۔ اورنا کی والدہ نے عراق سے اور والد نے رومانیا سے اسرائیل ہجرت کی تھی۔ وائٹ اینڈ بلیو پارٹی سے تعلق رکھنے والی اورنا 2019ء سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ انہوں نے سماجیات میں گریجویشن اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔
اسی طرح عراقی نژاد خواتین وزراء میں 45 سالہ Ayelet Shaked بھی ہیں۔ نئی حکومت میں وزیر داخلہ کے منصب پر فائز ہونے والی ایلت کے والد گزشتہ صدی میں 1950ء کی دہائی میں عراق سے ایران کے راستے اسرائیل ہجرت کر گئے تھے۔ ایلت نے الکٹرک انجینئرنگ میں بیلچرز مکمل کیا اور پھر کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کی۔ وہ اسرائیلی فوج میں بھی خدمت انجام دے چکی ہیں۔
نئی حکومت میں وزیر تعلیم کا عہدہ 48 سالہ Yifat Shasha-Biton کے پاس ہے۔ یفعات شاشا کی والدہ مراکش میں نرس کے پیشے سے وابستہ تھیں جب کہ والد کا تعلق عراق سے ہے۔ اسرائیل ہجرت سے قبل وہ ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ نئی حکومت میں سماجی مساوات کا قلم دان 38 سالہ Meirav Cohen سنبھالیں گی۔ ان کے والدین کا تعلق مراکش سے ہے۔ ان دونوں نے اسرائیل ہجرت کی۔ میراؤ نے اکنامکس اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔
اسی طرح 44 سالہ Karine Elharrar-Hartstein کا تعلق بھی مراکش کے ایک گھرانے سے ہے جو گزشتہ صدی میں 1950ء کی دہائی میں اسرائیل منتقل ہو گیا۔ کیرین نے قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ نئی حکومت میں وزیر توانائی کے طور پر کام کریں گی۔ اسرائیلی حکومت میں وزارت ہجرت کا قلم دان 40 سالہ Pnina Tamano-Shata کو دیا گیا ہے۔ وہ ایتھوپیا میں پیدا ہوئیں اور پھر 3 سال کی عمر میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ اسرائیل ہجرت کر گئیں۔ وہ قانون کے تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ پہلی ایتھوپین نژاد ہیں جنہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں نشست جیتی۔ ان کا تعلق بلیو اینڈ وائٹ پارٹی سے ہے۔
نئی کابینہ میں ہمیں 54 سالہ ریڈیو اور ٹی وی پیش کار اور صحافتی کارکن Merav Michaeli بھی نظر آتی ہیں۔ اسرائیل میں مشہور شخصیت رکھنے والی میراؤ ”ورک پارٹی” کی سربراہ ہیں۔ ان کے خاندان کا تعلق ہنگری سے ہے۔ میراؤ کے پاس ٹرانسپورٹ کی وزارت ہے۔ ماحولیات کے تحفظ کی 44 سالہ اسرائیلی خاتون وزیر Tamar Zandberg پارلیمنٹ میں ”میرٹس پارٹی” کی رکن ہیں۔ وہ اسرائیل کے سابق فٹبالر مائیکل زینڈبرگ کی بہن ہیں۔
اسرائیلی حکومت میں خواتین وزراء میں آخری نام 50 سالہ Orit Farkash-Hacohen کا ہے۔ وہ وزارت سائنس و تخلیق کا قلم دان سنبھالیں گی۔ اوریت گزشتہ حکومت میں سیاحت کی وزیر کے منصب پر کام کر رہی تھیں۔ ان کا تعلق ”بلیو اینڈ وائٹ” پارٹی سے ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *