کینیڈا: مسلم خاندان کے مشتبہ قاتل کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ

کینیڈا: مسلم خاندان کے مشتبہ قاتل کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ

وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اس حملے کو نفرت انگیز دہشت گردانہ حملہ قرار دیا تھا جس کے بعد یہ کارروائی ہوئی ہے۔ ایک نوجوان نے پاکستانی نژاد مسلم خاندان پر ٹرک چڑھا کر چار افراد کا قتل کر دیا تھا۔
کینیڈا میں سرکاری وکلاء نے 14 جون پیر کے روز بتایا کہ اس ماہ کے اوائل میں جس بیس سالہ شخص پر ٹرک چڑھا کر ایک ہی مسلم خاندان کے چار افراد کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا اس کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
کینیڈا کے صوبے انٹاریو کے لندن شہر میں چھ جون کی شام کو پاکستانی نژاد ایک مسلم خاندان چہل قدمی کر رہا تھا تبھی ایک نوجوان نے ان پر اپنا ٹرک چڑھا دیا تھا۔ اس حملے میں 46 سالہ ایک مرد، ان کی 44 سالہ اہلیہ، ان کی 15 برس کی بیٹی اور 74 برس کی ماں موقع پر ہی انتقال کر  گئی تھیں۔ حملے میں نو برس کا ان کا بیٹا بھی بری طرح سے زخمی ہوا تھا تاہم وہ بچ گیا ہے۔
متاثرہ کنبے کے رشتہ داروں نے ان کی شناخت  46 سالہ سلمان افضل،  44 سالہ مدیحہ، پندرہ سالہ بیٹی یمنی اور سلمان افضل کی 74 سالہ والدہ کے طور پر کی تھی۔ نو سالہ بیٹے فائز کا اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ متاثرہ کنبے کے دوستوں کا کہنا ہے کہ یہ خاندان چودہ برس قبل کینیڈا آیا تھا۔

کیس کے بارے میں حکام کیا کہتے ہیں؟

محکمہ پولیس نے اس کیس سے متعلق ایک بیان میں کہا، ”وفاقی اور صوبائی اٹارنی جنرل نے یہ الزام عائد کرتے ہوئے دہشت گردی کی کارروائی شروع کرنے کے لیے اپنی رضامندی دے دی ہے کہ قتل اور اقدام قتل کی کوشش کرنے کی وارداتیں بھی دہشت گردی کی ہی سرگرمیاں ہیں۔”
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس قتل کے مبینہ ملزم نتھانیئل ویلٹمین نے قتل کی یہ واردات ایک خاص مقصد کے تحت انجام دی اور وہ دانستہ طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ ان پر دہشت گردی کے مقدمے کے ساتھ ساتھ پہلے درجے کے قتل اور اقدام قتل کے چار الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق ابھی تک کوئی ایسا سراغ نہیں ملا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ ماضی میں ملزم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ رہا ہو یا پھر کسی انتہا پسند گروپ سے ان کا تعلق ہو۔ پیر کے روز انہیں جب عدالت میں پیش کیا گیا تو نیتھانیئل نے بتایا کہ اس کے پاس ابھی کوئی وکیل نہیں ہے۔  عدالت نے اگلی سماعت کی تاریخ21  جون مقرر کی ہے۔

اس حملے پر رہنماؤں کا رد عمل کیا رہا؟

ملک کے بیشتر بڑے رہنماؤں نے اس حملے کی پر زور الفاظ میں مذمت کی۔ وزیر اعظم جسٹن ٹرودو نے پارلیمان سے اپنے خطاب میں اس حملے کو نفرت انگریز دہشت گرادنہ حملے سے تعبیر کیا تھا۔
نائب وزیر اعظم کرسٹیا فری لینڈ نے دہشت گردی کا کیس درج کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا، ”ہمارے لیے اسے دہشت گردی کا نام دینا بہت ضروری ہے…اور ہمارے لیے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ہم اس بات کی شناخت کریں کہ سفید فام بالادستی سے کینیڈا اور کینیڈا کے شہریوں کو کتنا بڑا خطرہ لاحق ہے۔”
کینیڈا میں مسلم تنظیم ‘دی نیشنل کونسل آف کینیڈیئن مسلمز’ (این سی سی ایم) نے بھی دہشت گردی کا کیس درج کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ادارے کا کہنا تھا، ”ہم دہشت گردی اور اسلامو فوبیا کی کارروائیوں سے کبھی بھی گھبرانے والے نہیں ہیں۔”
کینیڈا میں مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے حملے ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ سن 2017 میں ایک نوجوان نے کیوبیک سٹی کی ایک مسجد میں نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی۔ اس حملے میں چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *