گنگا کے گھاٹوں پر دفن لاشوں سے متعلق عرضی الہ آباد ہائی کورٹ سے خارج، عرضی گزار کو تحقیق کرنے کی صلاح

4

الہ آباد اور کانپور میں گنگا کے مختلف گھاٹوں پر دفن لاشوں کو نمٹانے سے متعلق مفاد عامہ کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ مفاد عاملہ کی ایسی عرضیوں پر غور نہيں کیا جائے گا 

لکھنؤ: الہ آباد ہائی کورٹ نے الہ آباد اور کانپور میں گنگا کے مختلف گھاٹوں کے قریب دفن لاشوں کو نمٹانے سے متعلق مفاد عامہ کی عرضی کو جمعہ کے روز خارج کر دیا۔
ہائی کورٹ نے اس سلسلے میں سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گنگا کے مختلف گھاٹوں کے قریب دفن لاشوں کو ہٹانے کے لئے دائر پی آئی ایل عرضی کی نوعیت صرف تشہیر نظر آتی ہے۔ اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ عوامی مفاد کی ایسی عرضیوں پر غور نہيں کرے گی۔
چیف جسٹس سنجے یادو اور جسٹس پرکاش پاڈیا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے درخواست گزار کے اس مؤقف کو بھی مسترد کردیا کہ مذہبی رسومات کے مطابق لاشوں کو جلانا اور احترام کے ساتھ لاشوں کی آخری رسومات ادا کرنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے درخواست گزار سے پوچھا ہے کہ اس میں اس کی ذاتی رول کیا رہا ہے اور کیا اس نے خود ہی لاشیں کھودا اور اس کی آخری رسومات ادا کی ہیں۔
ہائی کورٹ نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا ہے کہ درخواست گزار نے مناسب معلومات حاصل کئے بغیر ہی عدالت میں عوامی مفاد کی عرضي ہ درج کرنے کی کوشش کی ہے۔ عدالت نے یہ درخواست خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس طرح کی درخواستوں پر جرمانہ عائد کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ درخواست گزار نے ان رسومات پر کوئی تحقیق نہیں کی ہے جو گنگا کے قریب رہائش پذیر مختلف برادریوں میں پائی جاتی ہیں۔ تاہم عدالت نے اجازت دی ہے کہ درخواست گزار پوری معلومات اور تحقیق کرنے کے بعد دوبارہ درخواست دائر کرسکتا ہے۔

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں