ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی: تعارف و توقعات 

ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی: تعارف و توقعات 

پروفیسر اخترالواسع

 ایران عالم اسلام کے ان چند گنے چنے ملکوں میں سے ہے جہاں 1979 میں اسلامی انقلاب کے برپاہونے کے بعد پابندی سے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ولایت فقیہ کے شیعہ عقیدے کے مطابق 1979-89 تک پہلے رہبر معظم امام آیت اللہ روح اللہ خمینیؒ رہے اور ان کے بعد سے یہ منصب آیت اللہ سید علی خامنہ ای مدظلہ عالی کے پاس ہے۔ رہبر معظم، ملک کی تقدیر اور تصویر بدلنے کے لئے تمام ہدایات دینے اور ہر ممکن رہنمائی کے لئے مکلف اور مجاز ہیں۔ وہ مذہبی، دستوری اور عسکری جیسے تمام اختیارات کے اصل اور مطلق مالک و مختار ہوتے ہےں۔ صدر ہو یا پالیمنٹ، سب عام طور پر ان کے پابند ہوتے ہیں۔

 ابھی حال میں جو شخصیت صدر منتخب ہوئی ہے وہ حجة الاسلام والمسلمین ابراہیم رئیسی کی ہے جو اس سے پہلے بھی صدارتی انتخابات میں ایک دوسرے مذہبی عالم حسن روحانی کا مقابلہ کر چکے ہیں اور جس میں انہیں کامیابی نہیں مل سکی تھی لیکن اس دفعہ انہوں نے تقریباً 62 فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ہے۔

 نئے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی 14 دسمبر 1960 کو مشہد کے صوبے میں ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا اس وقت انتقال ہو گیا جب وہ صرف پانچ سال کے تھے۔ انہوں نے قُم کے شہر میں جو کہ اپنی علمی اور دینی سرگرمیوں کے لئے شیعہ مذہب کا نجف اشرف کے ساتھ سب سے بڑا مرکز ہے اور آٹھویں امام، امام رضاؓ کی بہن سیدہ معصومہؓ کی آخری آرام گاہ ہونے کی سعادت کا بھی مالک ہے، تعلیم حاصل کی اور جید اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔

 منتخب صدر ابراہیم رئیسی کی بیگم محترمہ جمیلہ علم الہدیٰ مشہدِ مقدس میں جمعہ کی نماز کے امام اور عالم احمد علم الہدیٰ کی بیٹی ہیں۔ وہ اپنے علم و فضل کے لئے ایران اور اس کے باہر کے علمی حلقوں میں بخوبی جانی جاتی ہیں۔ وہ تہران کی شہید بہشتی یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامنڈل اسٹڈیز آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی صدر بھی ہیں۔ میں ان کے علم و فضل کا ذاتی طور پر معترف ہوں اس لیے کہ محترمہ جمیلہ علم الہدیٰ کے ساتھ صاحب علم و فضل پروفیسر سید علی محمد نقوی کی دعوت پر مجھے علی گڑہ مسلم یونیورسٹی میں دارا شکوہ سینٹر فار انٹرفیتھ اَنڈر اسٹینڈنگ، جس کے وہ ڈائریکٹر ہیں، کے تحت ہونے والے بین الاقوامی سیمینار بعنوان ”مذاہب عالم کا عائلی نظام“ جس میں وہ مہمان ذی وقار تھیں اور مجھے کلیدی خطبہ پیش کرنے کا موقعہ ملا۔ میں ان کے رکھ رکھاؤ، علمی وجاہت اور شخصی وقار سے بہت متاثر ہوا۔ اُس موقعہ پر ان کی بیٹی بھی ان کے ساتھ آئیں تھیں جنہوں نے خود بھی ایک اجلاس میں ایک مقالہ پیش کیا تھا اور ماں بیٹی دونوں نے ”ہمہ خانہ آفتاب است“ ہونے کو صحیح ثابت کر دیا تھا۔ اس بین الاقوامی سیمینار میں ایران کے سفیر کبیر عزت مآب علی چگنی نے تمام ایرانی مہمانوں سے مع محترمہ علم الہدیٰ کے میرا بڑی محبت سے تعارف کرایا تھا۔ اسی وقت پروفیسر سید علی محمد نقوی نے جو ایران کے علمی اور دینی حلقوں میں بہت معروف بھی ہیں اور مقبول بھی، مجھ سے کہا تھا کہ محترمہ جمیلہ علم الہدیٰ کے شوہر آیت اللہ ابراہیم رئیسی، رہبر معظم کے بڑے معتمد اور قریبی ہیں۔ بعد ازاں مشرق وسطی اور مغرب کے صحافیوں کے ذریعے یہ بات بھی اکثر معلوم ہوئی کہ جناب ابراہیم رئیسی، رہبر معظم کے جانشین بھی ہو سکتے ہیں۔ مستقبل میں کیا ہوگا یہ تو اللہ جانتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای مدظلہ کو صحت و عافیت کے ساتھ لمبی عمر دے کہ وہ ایران کے سربراہ اور عالم اسلام کے نقیب بنے رہیں۔

 انقلاب کے بعد انہیں موجودہ رہبر معظم کی سرپرستی حاصل رہی اور انہوں نے ایران کے مختلف علاقوں میں قانونی خدمات بھی انجام دیں اور وہ اٹارنی جنرل، ڈپٹی چیف جسٹس اور تہران پراسیکیوٹر کے اہم مناصب پر رہے اور 2016 میں جب وہ ایران میں شیعہ دنیا ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے ایک اہم دینی مرکز اور آٹھویں امام، امام رضاؓ کے آستانہ قدس کے چیئرمین بنائے گئے تو رہبرمعظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای مدظلہ نے اس اہم منصب پر ان کی نامزدگی کو منظوری دیتے ہوئے جو اہم ذمہ داریاں انہیں سونپیں ان میں ”خاص طور پر غریبوں اور مقیم افراد کی خدمت اور حجاج کرام کی دیکھ ریکھ“ کو ترجیحی اہمیت حاصل تھی۔ اس کے علاوہ وہ ایران کے چیف جسٹس کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔

 منتخب صدر ابراہیم رئیسی نے بحیثیت صدر اپنے لئے جس ممکنہ مؤقف کا اظہار کیا اس میں ملک کی انتظامیہ میں بنیادی تبدیلی اور ایسی حکومت کی ضرورت کا حوالہ دیا جو ملک کے چلنے کی مذہبی اور انقلابی ذمہ داری قبول کرے، جو غربت اور بدعنوانی سے لڑتی ہو۔ وہ عورتوں اور مردوں کے بیچ میں علیحدگی کے حامی ہیں۔ وہ یونیورسٹیوں میں اسلام ہر جگہ نمایاں ہو، اس کے قائل ہیں۔ وہ انٹرنیٹ کے بے محابہ اور غیر مشروط استعمال کے بھی مخالف ہیں اور مغربی ثقافت جو کہ عریانیت اور بے حیائی کا سبب بنے، اس پر سینسرشپ کے حامی ہیں۔ وہ ایک صحت مند مقابلہ جاتی معیشت میں غربت اور محرومی کے خاتمے کو نہاں سمجھتے ہیں اور زرعی شعبے کی ترقی کی بھی کھل کر حمایت کرتے ہیں۔

 صدر ابراہیم رئیسی نے اپنی مجوزہ خارجہ پالیسی کے بارے میں ایک بات تو صاف کر دی ہے کہ ”اسرائیل کے سِوا ہر ملک کے ساتھ وہ تعلقات استوار کرنا چاہیں گے لیکن ترجیحی بنیاد پر ان کی توجہ کا مرکز مشرقی دنیا ہوگی کیوں کہ مغربی دنیا نے چھل اور کپٹ کے علاوہ ایران اور عالم اسلام کے ساتھ کسی اور چیز کا مظاہرہ نہیں کیا۔ فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھنے اور اسرائیل کی غاصبانہ پالیسیوںکی کھلم کھلا حمایت کرنے میں مغربی استعماریت پسندی آگے آگے رہی ہے۔

 جناب ابراہیم رئیسی کے صدر منتخب ہوتے ہی اسرائیل، امریکہ، مغربی ملکوں اور ان کے حلیفوں میں ایک بھونچال سا آ گیا ہے۔ ان کو انتہا پسند اور دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے لیکن یہ چنداں تعجب کی بات نہیں ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای مدظلہ سے ابراہیم رئیسی تک کسی ایک ایرانی صدر کا نام کوئی بتا دے جسے ایران کے مخالف اسرائیل، امریکہ، ان کے حامیوں اور حاشیہ برداروں نے اسی طرح یاد نہ کیا ہو۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم شری نریندر مودی نے انتہائی تدبر اور فراست سے کام لیتے ہوئے گرم جوشی کے ساتھ منتخب صدر ابراہیم رئیسی کو ان کے انتخاب پر نہ صرف مبارکباد پیش کی بلکہ ہندوستان اور ایران کے بیچ بہتر تعلقات کے لئے بہتر تمناو¿ں کا اظہار بھی کیا۔

 عالم اسلام میں کچھ عرصے پہلے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کی جو بات کہی تھی، ہمیں امید ہے کہ وہ اس پر قائم رہتے ہوئے صدر رئیسی کے ساتھ ایک ایسے نئے دور کا آغاز کریں گے جو کہ نہ صرف سعودی عرب اور ایران بلکہ تمام مشرق وسطی کے ممالک کے لئے فالِ نیک ہوگا۔ اس لئے کہ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر سعودی عرب اور ایران آپس میں بہتر رشتے بنا لیتے ہیں تو اس کا اثر ساری دنیا کے مسلمانوں پر مسلکی اختلافات کے باوجود انتہائی مثبت اور خوشگوار ہوگا۔ فلسطین کے مسئلے کے بہتر امکانات بھی اسی دوستی کی کوکھ سے جنم لے سکتے ہیں۔

 ہمیں امید ہے کہ نومنتخب صدرِ ایران ابراہیم رئیسی بھی اپنے رخ، بیانات اور اقدامات سے اس تمام منفی پروپیگنڈہ کو غلط ثابت کر دیں گے جو صیہونی اور مغربی میڈیا اور سیاست ان کے بارے میں کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ امید ہے کہ وقت کے نمرود ان کے آگے نہیں ٹِک پائیں گے اس لئے کہ بقول علامہ اقبال:

یہ دور اپنی براہیمؑ کی تلاش میں ہے

صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ

(مضمون نگار مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے صدر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے پروفیسر ایمریٹس ہیں۔)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *