ون نیشن، ون راشن کارڈ‘ اسکیم 31 جولائی تک نافذ کی جائے، سپریم کورٹ کی ہدایت

6

جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایم آر شاہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے غیر مقیم مزدوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے لئے متعدد رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ’ون نیشن ون راشن کارڈ‘ اسکیم کو 31 جولائی تک نافذ کریں۔ جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایم آر شاہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے غیر مقیم مزدوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے لئے متعدد رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔
سپریم کورٹ نے حکومت سے غیر منظم اور غیر مقیم مزدوروں کے رجسٹریشن کے لئے نیشنل انفارمیٹکس سنٹر (این آئی سی) کی مدد سے ایک ویب پورٹل تیار کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ مہاجر مزدوروں کی نقل مکانی اور کورونا وبا کی وجہ سے دگرگوں صورتحال کی اصلاح کے لئے ازخود نوٹس لینے سے متعلق اپنے حکم میں عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ حکومتیں غیر مقیم مزدوروں کے لئے راشن مہیا کرے اور وبا جاری رہنے تک کمیونٹی کچن جاری رکھا جائے۔
بنچ نے ریاستوں کو ان کے مطالبہ کے مطابق اضافی غلہ فراہم کرنے کی ہدایت کی اور ریاستی حکومتوں سے بھی کہا کہ وہ غیر مقیم مزدوروں میں راشن کی تقسیم کے لئے موزوں منصوبے بنائے۔ خیال رہے ’ون نیشن ون، ون راشن کارڈ‘ اسکیم کے تحت راشن ملک کے کسی بھی حصے سے لیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ دہلی کے علاوہ اس اسکیم کو ابھی تک مغربی بنگال اور آسام کی ریاستی حکومتوں نے نافذ نہیں کیا ہے۔