گرفتار جعلی سی بی آئی آفیسر کے پاس سے بی جے پی کی رکنیت کا کارڈ برآمد

گرفتار جعلی سی بی آئی آفیسر کے پاس سے بی جے پی کی رکنیت کا کارڈ برآمد

سناتن چودھری برن نگر کے منڈالپارہ کا رہائشی ہے اور پیشے سے وکیل۔ اس نے خود کو مغربی بنگال حکومت کی اسٹینڈنگ کونسل کے رکن کے طور پر متعارف کرایا۔
خود کو سی بی آئی افسر بتاکر لوگوں کے ساتھ دھوکہ کرنے والے سناتن رائے چودھری سے پوچھ تاچھ کے دوران کئی چونکا والی معلومات پولس کے ہاتھ لگی ہے ۔
پولس کے مطابق جعلی سی بی آئی آفیسر سناتن رائے چودھری کے پاس بی جے پی کی رکنیت ہے ۔اس کے علاوہ اس نے ریاستی حکومت کا قانونی مشیر کا جعلی کارڈ اور بی جے پی کے قومی ایگزیکٹو ممبر کا کارڈ بھی اس کے پاس سے برآمد ہوا ہے۔
وہ ایک لمبے عرصے سے لوگوں کو مختلف طریقوں سے دھوکہ دے رہا تھا۔ 25 جون کو تالتلہ لا پولیس اسٹیشن کے افسران کو پہلی مرتبہ شک ہوا اور وہ ایک ملزم کو رہاکرانے کی کوشش میں خود پھنس گیا ۔ 25 جون کو اس نے وزیراعلیٰ آفس میں مشیر کی حیثیت سے خود کو متعارف کرایا ۔اس کے بعد پولیس کو شک ہوگیا کیوں کہ وزیر اعلی کے دفتر میں کوئی مشاورتی ڈسیک نہیں ہے۔اس کے بعد ہی جانچ شروع ہوئی اور سناتن رائے چودھری کے خلاف پولس نے خوداس معاملے میں ایف آئی آر درج کرلی۔ سی بی آئی کے ڈی آئی جی نے گوڑیاہاٹ پولیس اسٹیشن کو خط بھیج کر کہا کہ سی بی آئی کا سناتن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
دوسری طرف ، 30 جون کو ، منڈویلا گارڈن کے علاقے کی ایک خاتون نے گوڑیاہاٹ پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف پھر مقدمہ درج کیاکہ سناتن سی بی آئی افسر کی آڑ میں گوڑیاہاٹ میں اس کی 10 کروڑ روپے کی جائیداد ضبط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سناتن رائے چوہدری نیلی پتی والی کار کا استعمال کرتا تھا ۔اس کے بعد سناتن کو پیر کی رات گرفتار کرلیا گیا ۔ اس کی استعمال شدہ نیلی روشنی والی کار ضبط ہوگئی۔ کار سے سی بی آئی لوگو والا اسٹیکر بھی برآمد ہوا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ، سناتن برن نگر کے منڈالپارہ کا رہائشی ہے۔ پیشے سے وکیل۔ اس نے خود کو مغربی بنگال حکومت کی اسٹینڈنگ کونسل کے ممبر کے طور پر متعارف کرایا۔ نیلی روشنی کار کا استعمال کرتا تھا ۔دوسری طرف ، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ، اس نے اپنے آپ کو سی بی آئی اسپیشل برانچ کے عہدیدار کے طور پر متعارف کرایا۔ واضح رہے کہ کچھ دن پہلے ہی ایسے ہی ایک جعلی آفیسر آصف الحق کو گرفتار کیا گیا تھا۔وہ بھی نیلی روشنی والی گاڑی کا استعمال کرتا تھا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *