عوام کی چوک بنے گی کیا تیسری لہر کے آنے کی وجہ 

عوام کی چوک بنے گی کیا تیسری لہر کے آنے کی وجہ 

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
کورونا سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر کے ساتھ ٹیکہ کاری مہم جاری ہے پھر بھی لوگ اس متعدی وبا سے متاثر ہو رہے ہیں اور مر رہے ہیں ۔ تمام کوششوں کے باوجود کورونا وائرس کنٹرول میں نہیں آ رہا ۔ اس کے بارے میں مکمل معلومات نہیں ہے ۔ شاید اسی لئے اس کا علاج بھی کسی طے شدہ فارمولے کے تحت نہیں ہو پا رہا ہے ۔ آٹھ ریاستوں میں ملے ڈیلٹا ویرینٹ نے لوگوں کی تشویش اور بڑھا دی ہے ۔ اس بیچ تیسری لہر کی آہٹ سے ایک بار پھر عوام پر موت کا خوف مسلط ہو گیا ہے ۔
تیسری لہر کیا دوسری لہر سے بھی زیادہ خطرناک ہوگی؟ یہ کس شکل میں کس طرح آئے گی اور کسے زیادہ متاثر کرے گی؟ یہ ابھی واضح نہیں ہے لیکن اس سے بچوں کے متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ لانسیٹ کووڈ کمیشن انڈیا ٹاسک فورس کی رپورٹ راحت پہنچانے والی ہے ۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ بچوں کو اس متعدی وبا کا خطرہ زیادہ ہے، اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے ۔ حالیہ سیرو سروے کے اعداد بتاتے ہیں کہ 25 فیصد بچے کورونا سے متاثر ہوئے ۔ رپورٹ کے مطابق دس سال سے کم عمر کے بچوں میں بھی بڑی عمر کے لوگوں کی طرح ہی انفیکشن دیکھا گیا ۔ اس حوالے سے قومی اعداد بتاتے ہیں کہ کووڈ کی پہلی لہر میں تین سے چار فیصد بچے متاثر ہوئے تھے ۔ جبکہ دوسری لہر میں بھی بچوں کے متاثر ہونے کی شرح پہلے جیسی ہی رہی ۔ حالانکہ دوسری لہر میں بچوں کے متاثر ہونے کے کل معاملوں میں اضافہ ہوا یعنی بچے زیادہ متاثر ہوئے ۔ کسی خاندان میں ایک یا اس سے زیادہ لوگوں کے کورونا مثبت ہونے پر بچوں کے متاثر ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔
اے ای ایف آئی کمیٹی کے قومی صلاح کار ڈاکٹر این کے اروڑا کا کہنا ہے کہ بچوں میں کورونا کی بہت ہلکی ( asymptomatic) علامات جیسے زکام، بخار اور ڈائریا پائی گئیں ۔ ہلکی علامت والے بچوں کو بخار کے لئے پیراسیٹامول دی جا سکتی ہے ۔ ڈائریا ہونے کی صورت میں ڈی ہائڈریشن فوڈ اور وافر مقدار میں لکوڈ دیا جا سکتا ہے ۔ مگر جو بچے سنگین بیماریوں جیسے دل، ذیابطیس، دمہ، کینسر یا کمزور مدافعتی نظام کے شکار ہیں ۔ ان میں انفیکشن کے شدید ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔ اگر بچے کو سانس لینے میں مشکل ہو، تیز کھانسی جس کی وجہ سے بچہ دودھ نہیں پی رہا ہو، تیز بخار یا جلد پر لال چکدے، زیادہ دیر تک سونا یا کوئی اور غیر معمولی علامت دکھائی دے تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ قائم کیا جائے ۔ ایسے بچوں کا علاج بڑوں کی طرح ہی کیا جائے گا ۔ جوکھم والے بچوں کے والدین کو زیادہ دھیان دینا چاہئے ۔ اگر والدین کو کووڈ نہیں ہے لیکن بچہ کورونا مثبت ہے تو ہو سکتا ہے بچے کو انفیکشن باہر سے ملا ہو ۔ ایسی صورت میں گھر کے سبھی افراد کو جانچ کرانی چاہیے ۔ کووڈ پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے بچہ کو گھر کے دوسرے ممبران سے الگ رکھا جائے ۔
ماں اور نوزائیدہ بچے کو کورونا ہو جائے تو کیا کیا جائے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر اروڑا نے بتایا کہ ان دونوں کی دیکھ بھال کسی ایسے شخص کو کرنی چاہئے جو کووڈ مثبت نہ ہو ۔ بچے کو ماں ڈبل ماسک لگا کر دودھ ضرور پلائے ۔ یہ بچے کی نشوونما کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔ دودھ پلانے کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں اور آس پاس کی جگہ کو سینی ٹائز کریں ۔ کورونا متاثر ماں کے دودھ میں بھی کورونا وائرس سے تحفظ کے لئے اینٹی باڈیز پائی جاتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ دو سال سے کم عمر کے بچے کو ماسک نہیں لگانا چاہئے ۔ انہیں گھر میں رکھیں اور جسمانی سرگرمی میں مصروف رکھا جائے ۔ بچے کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لئے پہلے پانچ سال بہت اہم ہوتے ہیں ۔ گھر میں 18 سال عمر سے زیادہ والے سبھی افراد کو ویکسین لینا چاہئے ۔ بڑے محفوظ رہیں گے تو بچے بھی حفاظت سے رہیں گے ۔
کووڈ کی دوسری لہر کے دوران وائرس کے نئے میوٹنٹ بننے اور کورونا سے ٹھیک ہونے کے بعد دوسری بیماریاں ہونے کے معاملے بھی سامنے آئے ۔ اسے لانگ کووڈ کہا جاتا ہے جس میں انفیکشن کے ٹھیک ہونے کے تین سے چھ ماہ میں ذیابطیس، ہائی پر ٹینشن، ہارٹ اٹیک، بلیک فنگس، بیکٹیریل نمونیا وغیرہ نئی بیماریاں دیکھی گئیں ۔ حکومت نے پورے ملک میں لانگ کووڈ کلینک بنائے ہیں ۔ کورونا سے ٹھیک ہونے والوں کو وہاں خود کو رجسٹرڈ کرانا چاہئے تاکہ ان کی برابر دیکھ بھال ہو سکے ۔ رائے پور ایمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نيتن ناگر کر نے بتایا کہ کورونا انفیکشن کے تناسب میں دوسرے انفیکشن کا آنکڑا دیکھا جائے تو بہت کم رہا ۔ چھتیس گڑھ ہی نہیں دوسری ریاستوں سے بھی بلیک فنگس کے معاملے ہمارے پاس آرہے تھے ۔ حالانکہ ان کی تعداد بہت کم تھی ۔ اسپتال میں بھرتی ہونے والے کورونا کے لگ بھگ 3.5 فیصد معاملوں میں بیکٹیریل نمونیا دیکھا گیا ۔ ان میں ایسے مریض زیادہ تھے جنہیں آئی سی یو میں داخل کرنے کی ضرورت پڑی ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس خطرناک وائرس کو سچ میں قابو کرنا ہے تو لاک ڈاؤن ہٹنے کے بعد زیادہ ہوشیار رہنا ہوگا ۔ لوگوں کو سختی سے کووڈ کے مطابق مناسب رویہ پر عمل کرنا ہوگا ۔ ایسا نہ کرنے پر تیسری لہر کو آنے سے کوئی نہیں روک سکے گا ۔
کووڈ کی تیسری لہر کے آنے سے قبل ملک کا طبی محکمہ، طبی ادارے، متعدی وبا کے ماہرین، امراض اطفال کے ماہرین اور وزارت صحت کے افسران غور و فکر کے ساتھ صحت عامہ سے متعلق بنیادی سہولیات کو مہیا کرانے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ نیتی آیوگ کے رکن وی کے سارسوت نے بتایا کہ کووڈ کی تیسری لہر سے نبٹنے کے لئے تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں ۔ وزارت صحت میں سکریٹری راجیش بھوشن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہ کووڈ متعلق رویہ کو اپناتے ہوئے ماسک کا استعمال کریں، جسمانی دوری بنانے کا خیال رکھیں، بار بار ہاتھ دھوئیں، جانچ، ٹریسنگ، علاج اور ویکسینیشن کے ذریعہ ہم تیسری لہر فتح پا سکتے ہیں ۔ لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ ماسک اور جسمانی دوری کے اصول کو لگاتار نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ گاؤں اور چھوٹے قصبوں کو چھوڑ یئے شہروں تک میں ایسا لگ رہا ہے کہ کورونا ختم ہو چکا ہے ۔
ایمس دہلی کے ایک ڈاکٹر نے دہلی ہائی کورٹ کو تصویریں بھیجی ہیں ۔ جن میں دکھائی دے رہا ہے کہ کس طرح عام مقامات پر جسمانی دوری، ماسک اور کورونا پروٹوکول کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔ بازاروں سے لے کر سڑکوں تک لوگ ماسک کا استعمال نہیں کر رہے ہیں ۔ ہائی کورٹ نے اس پر ازخود کاروائی کرتے ہوئے مرکزی و ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ دہلی کے سبھی بازاروں کو کورونا سے بچاؤ کے لئے عام لوگوں کو اور حساس بنایا جائے ۔ عدالت نے کہا ہے کہ دہلی میں چل رہے ہفتہ واری بازاروں میں بھیڑ نہ ہو، جسمانی دوری کے اصول پر عمل ہو اس کو یقینی بنایا جائے ۔ پبلک ٹوائلٹ کو معمول کے مطابق سینی ٹائز کیا جائے ۔ عدالت نے دونوں سرکاروں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کورونا کو روکنے کی کوششوں میں ذرا بھی چوک ہوئی تو تیسری لہر دوسری لہر سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ۔ ان لاک ہونے پر وائرس کے پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔ خود کو اور اپنے عزیزوں کو بچانے کے لئے عوام کو از خود آگے آکر کورونا کو روکنے کی پہل کرنی ہوگی ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ کووڈ پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے خود بھی کورونا کا ٹیکہ لیں اور ویکسین لینے کے لئے اپنے ملنے والوں کی بھی ہمت افزائی کریں ۔ مل کر ایک دوسرے کا تعاون کریں تو تیسری لہر سے سب کا تحفظ ممکن ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *