امریکہ میں ایشین کمیونٹی کی جانب سے شاندار پروگرام کا انعقاد، ڈاکٹر نور امروہوی اور ڈاکٹر شمسہ قریشی کی منفرد جدوجہد

امریکہ میں ایشین کمیونٹی کی جانب سے شاندار پروگرام کا انعقاد، ڈاکٹر نور امروہوی اور ڈاکٹر شمسہ قریشی کی منفرد جدوجہد

امریکہ میں ایشین کمیونٹی کی جانب سے شاندار پروگرام کا انعقاد، ڈاکٹر نور امروہوی اور ڈاکٹر شمسہ قریشی کی منفرد جدوجہد
ڈیلس امریکہ: (ملت ٹائمز) امریکی ریاست ٹیکساس کا شہرڈیلس ادبی سرگرمیوں اورشعرو شاعری اور اردو زبان کے حوالے سے ہمیشہ سرخیوں میں رہتاہے اور موقع بہ موقع یہاں ادبی پروگرام منعقد ہوتے رہتے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں ایک مرتبہ پھر کرونا وائرس سے کچھ مہلت ملنے کے بعدمعروف شاعر ڈاکٹر نور امروہوی اور ڈاکٹر شمسہ قریشی کی نگرانی میں النور انٹر نیشنل کی جانب سے ایک کامیاب تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق یہاں کے مشاعروں کی تعریف پوری دنیا کے عاشقانِ اُردو اس لئے بھی کرتے ہیں کہ یہ مشاعرے ہمیشہ کچھ انفرادیت اور جدّت لئے ہوئے ہوتے ہیں۔جو نئی نسل کو اپنی تہذیب و ثقافت سے متاثر کرنے کا بہترین کردار ادا کر رہے ہیں۔لیکن گزشتہ تقریباً دو سال سے وبائی مرض کرونا کے باعث چہار سوں سناٹا ہے اور تمام ادبی و سماجی تقریبات پر جمود طاری ہے اور اس جمود کو توڑنے کی بھی سعادت ڈاکٹر نور امروہوی و ڈاکٹر شمسہ قریشی کے حصہ میں آئی۔ جمعہ/2جولائی2021?ئ کی شام گارلینڈ کے خوبصورت بینکوئیٹ ہال روما پیلیس میں یہ تقریب ”جشن صحت و سلامتی“ کے عنوان سے منقعد ہوئی یہ تقریب Covid-19 کے بعد کی دنیائے اُردو کی کوئی پہلی شام رنگین تھی۔
یہ تاریخی شام بغیر کسی اسپانسرشپ اور کسی بھی قسم کے تعاون کے بغیر صرف ڈاکٹر نور امروہوی و ڈاکٹر شمسہ قریشی کے ذاتی خرچ پر شہر کی تقریباً تین سو فیملیز کے ساتھ مع لذیز کھانوں کے منقعدہوئی، جو کہ شام ساڑھے سات بجے شروع ہو کرشب کے تقریباً ایک بجے اختتام کو پہنچی۔ یہ حسین شام جو جشن صحت و صلامتی کے نام سے سجائی گئی تھی اور ہر اعتبار سے جدید انداز میں سجائی گئی تھی۔ مشاعرے کے اختتام پر اوپن ٹیلینٹ کے نام پر ایک شو تیار کر کے 25-25 ڈالر کے گفٹ کارڈ 10 بچوں کو اچھا شعر سنانے پر دئیے گئے۔ اس کے علاوہ بیشمار قیمتی انعامات سامعین کو دئیے
گئے۔سب سے اچھوتا اور قیمتی سرپرائز اور چونکا دینے والا ڈاکٹر نور امروہوی و ڈاکٹر شمسہ قریشی کی جانب سے ہر شریک تقریب کے لئے POLOًًًً برانڈ کی Wrist Watch تھی جوآخر میں تقسیم کی گئی، ابھی تک صرف مہمانوں یا اسٹیج کی حد تک ہی تحفے تحائف دینے کی روایت قائم تھی لیکن تاریخ میں ہر شریک محفل کو قیمتی تحفہ دینے کی روایت بھی النور انٹرنیشنل نے قائم کی۔ گویا مشاعرے کی تاریخ میں بلا شبہ سب سے قیمتی اور منفرد شام منقعد کرنے کا اعزاز بھی ڈاکٹر نور امروہوی و ڈاکٹر شمسہ قریشی کو ہی حاصل ہواان دونوں کی کمیونٹی کے لئے خدمات کو سراہتے ہوئے اہلیان ڈیلس نے بھی انہیں ایک قیمتی سرپرائز ایوارڈ کی شکل میں عرفان علی صاحب کے دستِ مبارک سے اور شہر کی نمائندگی کرتے ہوئے کارکنانِ تقریب پر مودر اجپوت،شوکت محمد و شازیہ خان کے تعاون سے پیش کیا گیا۔ یہ ایوارڈ پیش کرنے کے دوران تمام حاضرین محفل نے تالیوں کی گڑگڑا ہٹ میں Standing Ovation کے ساتھ ان دو عظیم ہستیوں کو گلہائے عقیدت پیش کیا۔ کسی خوش نصیب کو اپنے ہی شہر میں یہ مقبولیت یہ اعزاز،محبت و خلوص کے نذرانے حاصل کرتے ہوئے پہلی مرتبہ دیکھاگیا۔ اس تقریب کا پہلا حصہ مشاعرہ تھاجس کو داد و دہش سے بامِ عروج تک پہچانے میں طنز و ظرافت کے معروف شاعر خالد عرفان کا بڑا ہاتھ رہاجنہیں کافی دیر تک سنا گیا۔جبکہ صدارت پاکستان کے نامور شاعرکرامت گردیزی صاحب نے فرمائی۔ ہیوسٹن کے بزرگ شاعر عقیل اشرف نے مہمان اعزازی کے فرائض انجام دئے مہمان خصوصی خالد عرفان صاحب تھے۔ مہمانان میں ہیوسٹن سے معروف منتظم مشاعرہ اور تقدیس ادب کے چیر مین فیاض خان اور تقدیس ادب کے اہم رکن عنایت اشرف صاحب اور شکاگو سے مشہور پروگرام پر موٹر آصف سلیم خصوصی طور پر تشریف لائے۔
افتتاحیہ تقریر پر مودراجپوت کی ہندو مسلم دوستی کے حوالے سے رہی،نظامت کے فرائض نہایت خوبصورتی سے معروف ریڈیو اینکر اور النور انٹرنیشنل کی جنرل سیکریٹری شازیہ خان نے اپنی خوبصورت اور دلنشیں آواز میں ادا کئے۔مہمان شعرائ میں ہوسٹن سے احمد شاہ غزالی و سلمان جلالی نے اپنا رنگ جمایا اور بہترین کلام سنایا۔میزبان شعرائے کرام میں نادردانی، مسعودقاضی، شیح اعجاز، ناہید شاد، شاہ عالم اثر، آصف ناتھانی، پر مود راجپوت، رضوان حسنی، ڈاکٹر نور امروہوی، ڈاکٹر شمسہ قریشی کو بھی خوب سنا گیا۔
پرتکلف ڈنر کے بعد دوسرے حصے میں ٹیلنٹ شو کی میزبانی ریڈیو ہوسٹ کرن حیات کے ذمہّ رہی جنہوں نے کچھ کوئیز اور سوالات کرکے ڈاکٹر نور امروہوی و ڈاکٹر شمسہ قریشی کی جانب سے قیمتی تحائف پیش کئے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ لوگوں کا جم غفیر اخیر تک رہا اور لوگ لطف اندوز ہوتے رہے۔ معروف شاعر خالد عرفان صاحب نے فرمایا کہ میں نے مشاعروں کے حوصلے سے پوری دنیا کا سفر کیا ہے لیکن جو سلیقہ جو انداز اور شان و شوکت ڈاکٹر نور و ڈاکٹر شمسہ کے مشاعروں میں دیکھی وہ کہیں نہیں دیکھی اس تقریب کو سجانے سنوارنے میں ایشین کمیونٹی کی نمایا شخصیت شوکت محمد معروف شاعر پرمود راجپوت و دلنشیں آواز کی مالک ریڈیو اینکر شازیہ خان تھیں۔اس طرح یہ تاریخی اور انفرادی محفل” جشنِ صحت و سلامتی“ مدتوں ایشین فیملیز کے ذہنوں پر یادوں کے نقوش چھوڑتی ہوئی رات کے تقریباً ایک بجے اختتام کو پہنچی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *