یوپی: ضلع مجسٹریٹ کے سلوک سے ناراض 17 ڈاکٹروں نے دیا استعفیٰ، ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں افرا تفری

10

ڈاکٹروں نے چیف میڈیکل افسر اور یو پی کے وزیر صحت کو بھیجے اپنے استعفیٰ نامہ میں گونڈا ضلع مجسٹریٹ پر تجزیاتی میٹنگوں میں غیر اخلاقی زبان کا استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
اتر پردیش کے گونڈا ضلع میں ایڈیشنل چیف میڈیکل افسر (اے سی ایم او) ڈاکٹر اجے پرتاپ سنگھ سمیت 17 سرکاری ڈاکٹروں نے ضلع مجسٹریٹ مرکنڈے شاہی پر غیر اخلاقی زبان کا استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے۔ استعفیٰ دینے والوں میں 16 کمیونٹی ہیلتھ سنٹر سپرنٹنڈنٹ شامل ہیں۔
ڈاکٹروں نے ضلع مجسٹریٹ مرکنڈے شاہی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان سبھی سپرنٹنڈنٹس نے چیف میڈیکل افسر اور یو پی کے وزیر صحت کو بھیجے اپنے استعفیٰ میں ضلع مجسٹریٹ پر تجزیاتی میٹنگوں میں غیر اخلاقی زبان کا استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میٹنگ کے دوران شاہی نے انھیں مخاطب کرنے کے لیے قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کیا اور وہ ضلع جسٹریٹ کے رویہ سے بہت مایوس ہوئے۔
ڈاکٹروں نے کہا کہ ’’ہم طویل مدت سے اس تکلیف سے گزر رہے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ تجزیاتی میٹنگوں مین ہمارے لیے نازیبا زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے باوجود کووڈ وبا و ٹیکہ کاری کو دیکھتے ہوئے ہم مریضوں کو بلارکاوٹ خدمات فراہم کر رہے تھے۔‘‘
ڈاکٹروں نے اپنے استعفیٰ میں کہا ہے کہ 6 جولائی کو ہوئی تجزیاتی میٹنگ کے دوران اے سی ایم او نے میڈیکل کِٹ اور دواؤں کی تفصیلات طلب کی تھی، لیکن ضلع مجسٹریٹ نے انھیں ڈانٹتے ہوئے خاموش کر دیا اور کہا کہ ’’کھاتہ پوچھنے والے آپ کون ہوتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹروں کے مطابق ’’کورونا جنگجوؤں کی شکل میں عزت پانے کی جگہ ہماری بے عزتی کی جا رہی ہے۔‘‘
ان الزامات کو لے کر گونڈا کے ضلع مجسٹریٹ مرکنڈے شاہی سے رابطہ کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور حکومت کی جانب سے بھی اس معاملے پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس درمیان خبر ہے کہ بڑے پیمانے پر ڈاکٹروں کے استعفیٰ سے ضلع میں نظامِ صحت پوری طرح سے خستہ حالی کے دہانے پر ہے۔ اس تعلق سے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں بھی افرا تفری کا عالم دیکھنے کو مل رہا ہے۔