دلیپ کمار  (یوسف خان) ” ٹریجڈی کنگ “ جوار بھاٹا سے اثر تک

دلیپ کمار  (یوسف خان) ” ٹریجڈی کنگ “ جوار بھاٹا سے اثر تک

 غفران اسد
ملک عزیز کے ہندی فلموں کی  اگربات کی جائے تو جس فنکار و اداکار کا نام ذہن میں سب سے پہلے آتا ہے وہ کسی اور کا نہیں عظیم اداکار دلیپ کمار (یوسف خان) کا آتا ہے۔
محمد یوسف خان کی پیدائش 11 دسمبر 1922 کو قصہ خانی بازار پشاور (موجودہ پاکستان) میں ہوا تھا۔ اپنے بارہ بھائی بہنوں میں یوسف اپنے والد کا بچپن سے ہی اُنکے کاروبار میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ اُنکے والد کا کینٹین میں ڈرائی فوڈ سپلائی کا کاروبار تھا۔ اسی دوران یوسف خان کی سنسائی دیویکا رانی (جو ہندی سنیما کی پہلی اداکارہ مانی جاتی ہیں) جو بمبئے ٹاکیز کے مالک ہمانشو رائے کی بیوی تھی سے ہو گئی۔ پہلی بار دیویکا رانی نے ہی انہیں بمبئے ٹاکیز کی فلم “جوار بھاٹا” میں بطور اداکار موقع دیا۔ اس طرح محمد یوسف خان کی سپنوں کی دنیا میں انٹری ہوئی۔ دیویکا رانی کے ہی صلاح و مشورے پر انہوں نے اپنا نام محمد یوسف خان سے بدل کر “دلیپ کمار” کر لیا۔
1944 میں آئی فلم جوار بھاٹا کے جگدیش نے بہت کم وقتوں میں اپنی اداکاری سے فلمی دنیا کوروشناس کرایا اور دیکھتے ہی دیکھتے کیا نوجوان کیا بوڑھے سبھی دلیپ کمار کے ادا کے دیوانے ہو گئے۔
1949 میں آئی فلم “انداز” میں دلیپ کمار کے ساتھ مشہور اداکار راج کپور تھے، اپنے اداکاری سے انہوں نے فلمی دیوانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر، اور اُنکے لئے یہ طے کرنا مشکل کر دیا کہ یہ  فلم مشہور اداکار راج کپور کی فلم ہے یہ کل کے اداکار دلیپ کمار کی۔ اس فلم کے بعد دلیپ کمار کا شمار بڑے اداکاروں میں ہونے لگا۔ 1951 میں آئی فلم “دیدار” جس میں وہ شامو کے کردار میں تھے، وہی 1955 میں آئی ویمل کمار کی فلم “دیوداس” میں انہوں نے ایک ایسے عاشق کا کردار نبھایا جو اپنے پیار کو پانے میں ناکام رہتا ہے اور اس وجہ سے غمگین رہتا ہے۔ اس رول میں انہوں نے وہ جان پھونکا کہ دنیا نے اُنہیں “ٹریجڈی کنگ” کے نام سے بلانا شروع کر دیا۔
سن 1960 میں آئی فلم “مغل اعظم” سے فلمی دنیا کو دلیپ کمار نے ایک ایسے عاشق سے پہچان کرائی جس نے اپنے محبت کے خاطر نہ صرف اپنے باپ سے ٹکرایا بلکہ تخت و تاج کو بھی چھوڑنے کو تیار ہو گیا۔ اپنی اداکاری سے اُنہوں نے محبت کو ایک نئی پہچان دی۔ یہ فلم اپنے وقت کا سب سے کامیاب فلم مانا جاتا ہے۔ 1961 میں اُنہوں نے اداکاری کے ساتھ ساتھ فلم “گنگا جمنا” کے پروڈیوسر و کہانی بھی لکھی۔ اس فلم میں اُنکے چھوٹے بھائی ناصر خان نے بھی اپنے اداکاری کے جلوے بکھیرے تھے۔ فلم کامیاب رہی لیکن لوگوں کو ناصر خان کا کام پسند نہیں آیا۔ اس فلم کے بعد دلیپ کمار نے کسی اور فلم کے پروڈیوسر نہیں بنے۔ 1966 میں آپ نے فلم “دل دیا درد لیا” میں بطور اداکار و ہدایت کار کام کیا، یہ فلم کافی پسند کی گئی۔
دلیپ کمار ہندی فلمی دنیا کے پہلے فنکار ہیں جنکو Hollywood کے ہدایتکار “ڈیوڈ لین” نے اپنی مشہور فلم “لورنس آف عریبیہ’ میں شریف علی کے کردار کے لیے آفر دیا تھا۔ چونکہ دلیپ کمار نے ملکی سطح سے باہر خود کو لے جانا نہیں چاہتے تھے اس لیۓ بڑے ہی ادب کے ساتھ انکو اپنی مجبوری بتا منع کر دیا۔ جس کردار کو مصر کے اداکار “عمر شریف” نے پردے پر اتارا۔ جہاں اپنے کامیابی کو کیش کرنے کا رواج عام تھا دلیپ کمار نے کم اور اچھی کہانیوں والی فلمیں کرنے شروع کر دی، لہٰذہ اُنکے چاہنے والوں کو سال میں ایک یا کبھی کبھی دو فلمیں دیکھنے کو ملنے لگیں۔ 1970 سے 1990 کے دور میں اُنہوں نے صرف ایسے فلمیں کی جس کے کہانی میں معاشرہ کو کچھ پیغام دیا جا سکے۔ فلم کرانتی (1981)، شکتی (1982)، کرما (1986)، اور سوداگر (1991) انکی مثال ہیں، جو بہت کامیاب رہی۔ 1998 میں اُنہوں نے فلم “قلعہ” میں دوبارہ ہدایت کار کی زمہ داری نبھائی لیکن یہ فلم ناکام رہی۔ اسکے بعد دلیپ کمار نے پورے طور پر فلموں سے دوری بنا لی، آخری بار وہ اجے دیوگن کی فلم اثر میں دکھائی دیے۔
دلیپ کمار کی ایک فلم ہے “ادا” جو ابتک ریلیز نہیں ہوئی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس فلم میں دلیپ کمار کے مرنے کا رول ہے اور اُنکی آرزو ہے کہ وہ شوٹنگ اُنکے حقیقی موت پر کیا جائے۔ لیکن یہ صرف ایک کہانی ہے
دلیپ کمار کی زندگی ہمیشہ خوشگوار رہی ہے۔ ہمیشہ مسکرانے والا یہ فلمی اداکار انعامات کے معاملہ میں بھی کافی مقبول رہا۔ اُنہیں داغ، آزاد، دیوداس، نیا دور، مدھومتی، پیغام، کوہنور، گنگا جمنا، لیڈر، دل دیا درد لیا، رام اور شیام، سنگھرش، آدمی، گوپی، سگینا، بيراگ، شکتی، مشعل، سوداگر کے لیے فلم فیئر ایوارڈ کے لیۓ اُنکے نام کی چرچا ہوئی جس میں وہ داغ، آزاد، دیوداس، نیا دور، کوہنور، لیڈر، رام اور شیام، اور شکتی کے لیے فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
1994 میں ہندی فلموں کا سب سے بڑا اعزاز “دادا صاحب فالکے” دلیپ کمار کو دیا گیا، تو وہی 1988 میں پڑوسی ملک پاکستان جہاں کے قصہ خانی پشاور میں دلیپ کمار پیدا ہوئے تھے وہاں کا سب سے بڑا اعزاز “نشانِ امتیاز” دلیپ کمار کو ملا۔ یہ اعزاز پانے والے آپ دوسرے بھارتی تھے، اس سے پہلے یہ اعزاز آزاد بھارت کے وزیر اعظم مورارجی دیسائی کو دیا گیا تھا۔
کارگل جنگ کے وقت بالا صاحب ٹھاکرے نے دلیپ کمار کو کہا کہ وہ پاکستانی اعزاز کو لوٹا دیں۔ اس کے جواب میں دلیپ صاحب نے کہا کہ کسی بھی عمل سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ اعزاز مجھے دیا کس لیے گیا ہے، کیا مجھے اس لیے دیا گیا ہے کہ میں نے اپنی پوری زندگی فلموں میں گنوا دی، یا اس لیے کہ میں نے اپنی زندگی دونوں ملکوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی۔ میرے اس اعزاز سے کارگل جنگ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور دلیپ صاحب نے اسے لوٹانے سے انکار کر دیا۔
اگر فلموں سے ہٹ کر دلیپ صاحب کی زندگی پر روشنی ڈالی جائے تو انکا نام سب سے پہلے مدھوبالا کے ساتھ جوڑا گیا۔ 1957 میں فلم نیا دور سے دونوں ایک دوسرے کے قریب آئے اور پیار کرنے لگے۔ لیکن دونوں کی شادی صرف اس وجہ سے نہ ہو پائی کہ مدھوبالا اپنے گھر کے آمدنی کا اکلوتا ذریعہ تھی اور دلیپ کمار یہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ فلموں میں کام کریں۔ مدھوبالا کے والد نے مدھوبالا کو دلیپ کمار کے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیا جس وجہ سے مشہور فلم پروڈیوسر بی آر چوپڑا نے مدھوبالا کو کورٹ تک لے کر آئے۔ دلیپ کمار کے بیچ بچاؤ سے معاملہ رفع دفع ہوا۔ مغل اعظم میں مدھوبالا کے والد نے اس شرط پر کام کرنے کی منظوری دی کہ دونوں کے بیچ کوئی پیار بھرا سین نہیں فلمایا جائیگا۔ اس طرح فلمی پردے کے ساتھ ساتھ دو عاشقوں کی محبت حقیقت میں بھی ختم ہو گئی۔
1966 میں دلیپ کمار نے اپنے ساتھی اداکارہ نسیم بانو کے بیٹی اور مشہور اداکارہ شاعرہ بانو سے نکاح کر لیا۔ نکاح کے وقت شاعرہ دلیپ کمار سے نہ صرف 22 سال چھوٹی تھی بلکہ محض 22 سال کی بھی تھی۔ دلیپ اورشاعرہ کی جوڑی فلمی دنیا کی سب سے کامیاب جوڑی مانی جاتی ہے۔
دلیپ کمار نے فلم کے ہر صوبے میں اپنی حاضری درج کی، 1961 میں فلم گنگا جمنا کی کہانی کے ساتھ ساتھ پروڈیوسر بنے تو وہی لیڈر 1996، اب تو بن جا سجنا ہمار 2006 کی کہانی لکھی، دل دیا درد لیا اور قلعہ کی ہدایتکار کی زمہ داری نبھائی تو فلم مسافر، فر کب ملوگی اور کرما میں اپنی آواز میں گانے بھی گائے۔
دلیپ کمار کو پوری دنیا میں فلموں کے شوقینوں نے بے پناہ محبت و احترام کیا، لیکن قدرت نے اُنہیں اولاد کی خوشی نہیں دی لیکن اسکا اُنہیں کوئی ملال نہ تھا۔ وہ اکثر کہتے تھے میں کچھ ایسا کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا صدیوں تک مجھے پیار سے یاد کریں۔ اپنے لاکھوں کروڑوں چاہنے والوں کو چھوڑ کر 7جولائی2021 کو وہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ اُنکے جانے کا غم منانے سے آسمان بھی خود کو نہ روک پایا۔
موبائل نمبر: 9661585418
E-mail:- ghufranasad@gmail.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *