آر ایس ایس سربراہ کی مثبت باتیں : مسلمانوں کی طرف سے اقدام کون کرے ؟

آر ایس ایس سربراہ کی مثبت باتیں : مسلمانوں کی طرف سے اقدام کون کرے ؟

 مسعود جاوید
دلوں کی بدگمانیاں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے

معاہدہ حدیبیہ کی ایک اہم حصولیابی یہ تھی کہ مسلم اور کفار ایک دوسرے سے آزادانہ ملنے لگے اور اس طرح غیر مسلم اسلام کے پیغام امن سے روشناس ہونے لگے اور اسلام کے خلاف پھیلائی گئی جھوٹی باتیں اور غلط فہمیاں دور ہونے لگیں۔
آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت جی کی باتوں کو فیس ویلیو پر لیتے ہوئے کیوں نہ قومی یک جہتی کے اجلاس ہر شہر اور گاؤں میں منعقد کئے جائیں !
آر ایس ایس سربراہ کی باتوں کا اصل محرک، حقیقی مقصد اور بین السطور کیا ہے اس کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ؛
کوئی اس کو بین الاقوامی پس منظر میں دیکھنے کی کوشش کر رہا ہے تو کوئی اترپردیش انتخابات کے مدنظر ! کوئی کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران حکومت کی ہر سطح پر بدنظمی کی وجہ سے بگڑی شبیہ کو مرہم پٹی کی کوشش کا نام دے رہا ہے تو کوئی امیج بلڈنگ کا۔
ان تمام قیاس آرائیوں سے قطع نظر کیا مسلمانوں کی کل ہند قیادت آر ایس ایس سربراہ کے ایک قدم کا دو قدم سے مثبت جواب نہیں دے سکتی ؟
کیوں نہیں ان لوگوں کو انگیج کر کے پورے ملک میں یہ پیغام پہنچایا جائے ؟
کیا مسلمانوں کی طرف سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی پیش کش نہیں کی جا سکتی؟
کیا جو باتیں آر ایس ایس سربراہ نے مسلم منچ سے کہی ہیں وہ ان سے اور ان کی تنظیم کے ذمہ داروں سے غیر مسلموں کے منچ پر نہیں کہلائی جا سکتیں ؟
لیکن سوال یہ ہے کہ آر ایس ایس کی سطح کی کل ہند تنظیم کون ہے جو یہ ذمہ داری اٹھاۓ ؟ مسلم تنظیموں کی کوئی امبریلا آرگنائزیشن نہیں جسے بلا تفریق مسلک و مشرب ہر ایک کی تائید حاصل ہو۔
– مسلم پرسنل لاء بورڈ میں اس وقت فعال اور متحرک صدر و سکریٹری نہیں ہیں جو اس کام کے لئے آگے آئیں۔ ایسے موقع پر ان کا جواب یہی ہوگا کہ آر ایس ایس کو انگیج کرنا پرسنل لاء بورڈ کے دائرہ کار میں نہیں آتا ۔ پرسنل لاء بورڈ کا قیام تو مسلمانوں کے پرسنل لاء کے تحفظ کے لئے عمل میں آیا تھا اور دستور العمل میں یہی اس کا دائرہ عمل درج ہے۔ لیکن شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی جماعت اسلامی اور اہل حدیث یعنی ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کا متحدہ پلیٹ فارم یہی ہے ۔
– جمعیت علماء ہند ۔۔۔ یہ خالص دیوبندی مسلک کی تنظیم ہے اس لیے ضروری نہیں بریلوی مسلک کے لوگوں کی تائید ان کے اقدام کو حاصل ہو!
بریلوی مسلک کی تنظیموں میں سے کوئی تنظیم پیش رفت کرتی ہے تو دیوبندی مسلک والوں کی تائید نہیں ملے گی۔
– ایسا ہی کچھ حال جماعت اسلامی ہند اور جمعیت اہل حدیث ہے۔
موہن بھاگوت اور آر ایس ایس کے دوسرے رہنماؤں نے اس قسم کے بیانات ماضی میں بھی دے چکے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ جو باتیں انہوں نے کی ہے وہ آر ایس ایس کے بانیوں کے افکار و نظریات سے تطابق نہیں رکھتیں یہ کہہ کر اس موقع کو ضائع کرنا میرے خیال میں مناسب نہیں ہے‌۔ ویسے بھی کھونے کے لئے بچا کیا ہے۔
بے وقعتی کا عالم یہ ہے کہ کوئی بھی نام نہاد سیکولر پارٹی مسلم ایشوز پر بات کرنے سے گریز کرتی ہے ۔۔۔۔
“دلتوں کو مارنے سے پہلے ہمیں مارو”… اس قبیل کا جملہ کاش کبھی کسی مسلمان کے حق میں بھی کہا جاتا !
دلت اتیاچار قانون کی طرح کاش کوئی مسلم اتیاچار ایکٹ کی کوئی وکالت کرتا !
اور جب نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو آپ کی فکر نہیں تو کیوں بی جے پی کو شکست دینے اور جمہوریت کے تحفظ کا ٹھیکہ مسلمان لیں !

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *