مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان دینے والا ’رام بھکت گوپال‘ گرفتار

مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان دینے والا ’رام بھکت گوپال‘ گرفتار

جمال پور باشندہ دنیش نے پولیس میں تحریری شکایت دی تھی کہ گوپال شرما نے نہ صرف اشتعال انگیز بیان دیا بلکہ اس نے دو طبقات کے درمیان آپسی محبت کو بگاڑنے کی بھی کوشش کی ہے۔

شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کے دوران جامعہ کے باہر فائرنگ کر موضوعِ بحث بنے رام بھکت گوپال شرما کو ہریانہ پولیس نے آج ایک اشتعال انگیز بیان کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ گوپال شرما پر گروگرام کے پٹودی میں منعقد ہوئے ایک مہاپنچایت کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کرنے کا الزام ہے۔ ایک شخص کی شکایت کے بعد گوپال کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا اور آج گرفتاری کے بعد اسے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق جمال پور باشندہ دنیش نے پولیس میں شکایت دی کہ گوپال نے نہ صرف اشتعال انگیز بیان دیا ہے بلکہ دو طبقات میں آپسی محبت کو بگاڑنے کی بھی کوشش کی ہے۔ کیس درج کر پولیس اب پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق نفرت شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 4 جولائی کو پٹودی کے رام لیلا گراؤنڈ میں ایک مہاپنچایت منعقد کیا گیا تھا۔ یہ پنچایت دہلی-این سی آر اور یو پی کے کچھ شہروں میں نابینا اور بہرے طلبا کے مذہب تبدیلی معاملہ، لو جہاد و دیگر ایشوز کو لے کر ہوئی تھی۔ ہندو تنظیموں کی جانب سے مہاپنچایت بلا کر مذہب تبدیلی کی مخالفت کی گئی تھی اور اسی دوران گوپال شرما نے اپنی تقریر میں متنازعہ بیان دیا تھا۔
’نو بھارت ٹائمز‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق گوپال شرما نے تقریر کے دوران کہا تھا کہ ’’کسی طبقہ کے لوگ اگر تمھاری بیٹیوں کو پریشان کرتے ہیں تو ان کی بیٹی-بہنوں کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک کرو۔‘‘ گوپال اس مہاپنچایت کے وائرل ویڈیو میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی وکالت کرتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ اس نے نفرت میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ جب مسلمانوں کو مارا جائے گا تو وہ بھگوان رام کا نام بلند آواز میں چلّائیں گے۔
خبروں کے مطابق شکایت دہندہ دنیش نے پولیس میں اپنی شکایت کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے یو ٹیوب کے دو لنک بھی دیے ہیں جس میں مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے والی بات کہتا ہوا گوتم صاف دکھائی دے رہا ہے۔ شکایت دہندہ نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے گوپال شرما کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ شکایت کی بنیاد پر پٹودی تھانہ میں گوپال شرما کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153 اے اور 295 اے کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
یہاں قابل ذکر ہے کہ رام بھکت گوپال شرما پر سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کر رہے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا پر گولی چلانے کا الزام بھی ہے۔ اس وقت دہلی پولیس نے اسے گرفتار کیا تھا، لیکن 17 سال کا ہونے کی وجہ سے اسے جلد جیل سے چھٹکارا مل گیا تھا۔ چونکہ اب گوپال شرما بالغ ہو چکا ہے، اس لیے امید کی جا رہی ہے کہ اس کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے گا اور جیل سے باہر آنے میں اسے مشقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
(بشکریہ قومی آواز)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *