اے پی سی آر گلبرگہ یونٹ کا مستحسن اقدام؛ سزا مکمل ہونے کے باوجود جرمانہ کی رقم ادا کرنے سے قاصر چھ قیدیوں کو دلائی آزادی ، پانچ جیل سے آچکے ہیں باہر

اے پی سی آر گلبرگہ یونٹ کا مستحسن اقدام؛ سزا مکمل ہونے کے باوجود جرمانہ کی رقم ادا کرنے سے قاصر چھ قیدیوں کو دلائی آزادی ، پانچ جیل سے آچکے ہیں باہر

بنگلور: انسانی حقوق کی حفاظت، مظلوموں اور سماج کے دبے کچلے طبقوں کو انصاف دلوانے، جیلوں میں بند  بے قصور نوجوانوں  کی رہائی، فرضی  مقدمات میں پھنسے افراد کی  مدد کرنے اور اُنہیں قانونی رہنمائی فراہم کرنے سمیت عوام میں قانونی بیداری پیدا کرنے  کے  مقصد سے قائم اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس (اے پی سی آر)  کی گلبرگہ یونٹ نے گلبرگہ سینٹرل جیل کا دورہ کرتے ہوئے پانچ ایسے قیدیوں کو رہا کرانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جو  جیل کی سزا کاٹنے کے باوجود محض جرمانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے مہینوں جیل میں بند تھے۔

اے پی سی آر کے ریاستی کو۔آرڈی نیٹر جناب شیخ   شفیع احمد نے بتایا کہ اسی سال مارچ کو بنگلور میں  ہوئی اے پی سی آر کی انتظامیہ میٹنگ میں یہ طئےپایا تھا کہ ضلع بھر  کی جیلوں کا دورہ کرتےہوئے ایسے قیدیوں کا پتہ لگانا چاہئے جو اپنی سزا کاٹنے کے باوجود جرمانہ کی رقم نہ بھرنے سے ہنوز جیلوں میں بند ہیں، میٹنگ میں اس  ایک سال میں  ریاست کی مختلف جیلوں میں بند  کم ازکم ایسے سو لوگوں کو  جیلوں سے رہا کرانے کا نشانہ  مقررکیا گیا تھا، مگر کووڈ وباء کے چلتے اور لاک ڈاون کی وجہ سے کام نہ ہوسکا۔ مگر  لاک ڈاون  میں چھوٹ ملتے ہی اے پی سی آر گلبرگہ یونٹ نے  پہلے  گلبرگہ سینٹرل جیل کا دورہ کیا اور چیف سپرنٹینڈینٹ مسٹر رمیش اور ان کے اسسٹنٹ کرشنا مورتھی سے ملاقات کرتے ہوئے ایسے قیدیوں کی تفصیلات  حاصل کرلیں، اس کے بعد بھی کئی بار جیل کا دورہ کرنے اور مسلسل کوششوں کے بعد  اے پی سی آر کی جانب سے  چھ ایسے لوگوں کو جیل سے چھڑانے کا فیصلہ کیا گیا جو اخلاقی طور پر بھی بہتر ہوں۔ جناب شفیع احمد نے بتایا کہ  شریشیل گُنڈپا جسے چھ سال کی سزا اور  بیس ہزار روپئے کا جرمانہ  عائد کیا گیا تھا، اس کی سزا 25  اپریل کو ختم ہوچکی تھی،  شرنپّا بسپّا ڈوڈّا منی کو چار سال کی سزا اور بیس ہزار روپیہ جرمانہ  عائد کیا گیا تھا، اس کی سزا  اگست 2019 کو ہی ختم ہوچکی تھی،  محمد رفیق محبوب صاب  دس سال کی سزا اور دس ہزار روپیہ  جرمانہ عائد کیا گیا تھا اس کی سزا اسی سال اکتوبر کو ختم ہورہی ہے اور  شیخ محبوب کو  آٹھ سال کی سزا اور دو ہزار روپیہ جرمانہ عائد کیا گیا تھا اور اسے اسی سال مئی کو رہا ہونا تھا۔ یہ سبھی لوگ بے حد غریب گھرانا کے ہونے کی وجہ سے جرمانہ کی رقم بھرنے سے قاصر  تھے اور اب تک جیل میں ہی بند تھے۔ ابتدائی مرحلے میں  اے پی سی آر کی جانب سے 52 ہزار روپیہ جرمانہ  ادا کرتےہوئے چار میں سے تین لو گوں کو جیل سے رہا کرایا گیا، چونکہ  محمد رفیق کی سزا اکتوبر کو  ختم ہورہی ہے اس لئے اس کی بھی رقم ادا کردی گئی ہے تاکہ  سزا کی میعاد ختم ہوتےہی  اُسے اکتوبر میں رہا کیا جاسکے۔
چار لوگوں کا جرمانہ ادا کرنے کے بعد اےپی سی آر گلبرگہ یونٹ نے 5 جولائی کو پھر ایک بار سینٹرل جیل کا دورہ کرتےہوئے مزید دو لوگوں تھمپّا اور سُریش لکشمن کی بھی جرمانہ کی رقم   ادا کردی  جن کو بالترتیب سات سال اور دو سال قید کی سزا کے ساتھ  25 ہزار اور 15 ہزار روپیوں کا جرمانہ عائدکیا گیا تھا، ان کی قید کی سزا بھی 21 جون اور  28 مئی کو ختم ہوچکی ہے، مگر جرمانہ نہ بھرنے سے اب تک جیلوں میں بندتھے۔ اے پی سی آر نے اب ان دونوں کو بھی  جیل سے رہا کرادیا ہے۔ اس طرح گلبرگہ سینٹرل جیل سے  چھ لوگوں کی جیل سے رہائی کےلئے جرمانے کی رقم بھرنے کے بعد پانچ لوگ رہا ہوچکےہیں، ایک کا  رہا ہونا باقی ہے۔
جناب شیخ شفیع احمد  نے بتایا کہ اے پی سی آر گلبرگہ یونٹ کی جانب سے  جیلوں میں بند ان قیدیوں کی رہائی کےلئے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ  کافی غیر مسلم برادران نے بھی مالی طور پر مدد کی  اور اس کام کی اہمیت کو سمجھتےہوئے اے پی سی آر کا بھرپور ساتھ دیا۔
قیدیوں کو جیل سے رہائی دلانے میں شیخ شفیع احمد صاحب کے ساتھ اے پی سی آر گلبرگہ یونٹ کے صدر ایڈوکیٹ عبدالقدیر، خزانچی امتیاز حُسین ، راج کمار آنند اور  تُراب علی سمیت دیگر لوگ بھی پیش پیش  تھے۔ جناب شفیع احمد نے بتایا کہ جیل میں مزید بہت سارے قیدی ہیں جن کی سزا کی مدت ختم ہوچکی ہے مگر رہائی کےلئے اُن پر دولاکھ سے لے کر ڈھائی لاکھ تک کا جرمانہ عائد ہے، جس کی ادائیگی کے بغیر اُن کی رہائی ممکن نہیں ہے۔ اگر صاحب خیر حضرات مالی تعاون پیش کرنے کے لئے سامنے آتے ہیں تو ایسے  لوگوں کو  بھی جیل سے چھڑایا جاسکتا ہے۔
اے پی سی آر گلبرگہ یونٹ کے اس اہم اقدام پر  اے پی سی آر کرناٹک کے صدر ایڈوکیٹ عثمان پی اور جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ محمد نیاز نے تمام  گلبرگہ کے ذمہ داران کی ستائش کی ہے اور اُنہیں مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے  دیگر اضلاع کے ذمہ داران پر بھی زور دیا ہے کہ وہ بھی اپنے اپنے اضلاع کی  جیلوں کا دورہ کرتےہوئے ایسے قیدیوں کو رہا  کرانے کی کوشش کریں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *