کورونا بحران کے وقت ’کانوڑ یاترا‘ کو اجازت کیوں دی گئی، سپریم کورٹ کا یوپی حکومت سے سوال

کورونا بحران کے وقت ’کانوڑ یاترا‘ کو اجازت کیوں دی گئی، سپریم کورٹ کا یوپی حکومت سے سوال

جسٹس نریمن نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ ہم نے آج انڈین ایکسپریس میں کچھ پریشان کرنے والی خبر پڑھی ہے کہ یوپی حکومت نے کانوڑ یاترا کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نئی دہلی: کورونا بحران کے باوجود اتر پردیش حکومت کی جانب سے کانوڑ یاترا کو اجازت فراہم کیے جانے پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے لیا ہے۔ جسٹس روہنگٹن نریمن کی سربراہی والی بنچ نے مرکزی حکومت اور یوپی حکومت کو اس معاملہ میں نوٹس جاری کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کورونا بحران کے دوران کانوڑ یاترا کو اجازت آخر کیوں دی گئی؟ عدالت عظمیٰ نے اتراکھنڈ حکومت سے بھی جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ اس معاملہ کی اگلی سماعت آئندہ 16 جولائی کو کی جائے گی۔
جسٹس نریمن نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ ہم نے آج انڈین ایکسپریس میں کچھ پریشان کرنے والی خبر پڑھی ہے کہ یوپی حکومت نے کانوڑ یاترا کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اتراکھنڈ ریاست نے اپنے تجربہ کی بنیاد پر کہا ہے کہ کوئی یاترا نہیں ہوگی۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ متعلقہ حکومت کا موقف کیا ہے!
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے عوام پوری طرح سے حیران ہیں۔ جب وزیر اعلیٰ سے تیسری لہر کے تعلق سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ذرا بھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے۔ ہم مرکز، یوپی اور اتراکھنڈ ریاستوں کو نوٹس جاری کر رہے ہیں کیونکہ یاترا 25 جولائی سے شروع ہونے جا رہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ نوٹس پر جلد جواب دیا جائے تاکہ معاملہ پر جمعہ کے روز سماعت ہو سکے۔
خیال رہے کہ اتراکھنڈ حکومت کی جانب سے گزشتہ روز کانوڑ یاترا پر روک لگا دی گئی۔ اعلیٰ عہدیداران کے ساتھ میٹنگ کے بعد وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا تھا کہ انسانی جانوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے لہٰذا رواں سال کانوڑ یاترا کو اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ قبل ازیں، آئی ایم اے کی اتراکھنڈ یونٹ کی جانب سے اتراکھنڈ حکومت کو مکتوب ارسال کر کے کانوڑ یاترا پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ادھر یوگی آدتیہ ناتھ پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ یوپی میں 25 جولائی سے کانوڑ یاترا شروع ہو جائے گی۔ یوگی نے اس معاملہ پر اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر دھامی کو فون بھی کیا تھا جس کے بعد دھامی نے کہا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید اتراکھنڈ حکومت بھی یاترا کو اجازت دینے والی ہے۔
(بشکریہ قومی آواز)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *