فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کا جسدِ خاکی آج شام پہونچے گا دہلی، جامعہ کے قبرستان میں ہوگی تدفین

فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کا جسدِ خاکی آج شام پہونچے گا دہلی، جامعہ کے قبرستان میں ہوگی تدفین

معروف فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی لاش آج افغانستان سے دہلی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل 3 پر شام 5:45 منٹ پر پہنچے گی۔ جہاں سے اسے اوکھلا کی غفار منزل میں ان کے گھر لایا جائے گا۔
دانش صدیقی کا شمار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ان بہترین طالب علموں میں کیا جاتا ہے جنہیں ایلمنائی ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ دانش کے والد پروفیسر اختر صدیقی شعبہ تعلیم میں اور این سی ٹی ای ڈپارٹمنٹ میں ڈین کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس لیے شیخ الجامعہ پروفیسر نجمہ اختر نے ان کی جسد خاکی کو جامعہ کے مخصوص قبرستان میں تدفین کرنے کی درخواست کو منظور کر لیا ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اس قبرستان میں محض اس کے ملازمین، اہلیہ اور نابالغ بچوں کو ہی تدفین کی اجازت ہے۔ لیکن دانش صدیقی کے اہل خانہ کی درخواست پر شیخ الجامعہ نے خصوصی طور پر اس کی اجازت دی ہے۔
واضح رہے کہ قومی دارالحکومت دہلی میں گزشتہ روز پلٹزر ایوارڈ سے سرفراز فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی یاد میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گیٹ نمبر 17 کے باہر موم بتی جلا کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا جبکہ پریس کلب آف کے باہر بھی تمام صحافی برادری نے انہیں موم بتی جلا کر خراج عقیدت پیش کیا۔
فوٹو جرنلسٹ کی حیثیت سے ، دانش نے ایشیاء ، مشرق وسطی اور یورپ میں کئی اہم کہانیوں کا احاطہ کیا ہے۔ ان کے کچھ کاموں میں افغانستان اور عراق کی جنگوں ، روہنگیا پناہ گزینوں کے بحران ، ہانگ کانگ کے مظاہرے ، نیپال کے زلزلے ، شمالی کوریا میں بڑے پیمانے پر کھیلوں اور سوئٹزرلینڈ میں سیاسی پناہ کے متلاشیوں کے حالات زندگی شامل ہیں۔ انہوں نے انگلینڈ میں لوگوں کے مذہب اسلام قبول کرنے پر ایک فوٹو سیریز بھی تیار کی ہے۔ ان کا کام بہت سارے رسالوں ، اخبارات ، سلائیڈ شوز اور گیلریز میں بڑے پیمانے پر شائع ہوا ہے۔
اس میں نیشنل جیوگرافک میگزین ، نیویارک ٹائمز ، دی گارڈین ، واشنگٹن پوسٹ ، وال اسٹریٹ جرنل ، ٹائم میگزین ، فوربز ، نیوز ویک ، این پی آر ، بی بی سی ، سی این این الجزیرہ ، ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ ، دی اسٹریٹ ٹائمز ، بینکاک پوسٹ ، سڈنی مارننگ ہیرالڈ ، دی ایل اے ٹائمز ، بوسٹن گلوب ، دی گلوب اور میل ، لی فگارو ، لی مونڈے ، ڈیر اسپیگل ، اسٹرن ، برلنر زیتونگ ، دی انڈیپنڈنٹ ، دی ٹیلی گراف ، گلف نیوز ، لبریشن اور دیگر مختلف اشاعتیں شامل ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *