اکبر الہ آبادی کی صوفیانہ شاعری مذہب اور دنیا کے بیچ ایک راہ نکالتی ہوئی نظر آتی ہے: پروفیسر علی احمد فاطمی

9

سہ ماہی ’’ خبرنامہ شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی ‘‘ کا اجرا عمل میں آیا

’’الہ آباد میں خانقاہوں اورآشرموں کی قدیم روایت ملتی ہے اور اردو کی صوفیانہ شاعری خانقاہوں اور آشرموں کی رہین منت ہے۔ اکبر الہ آبادی کی صوفیانہ شاعری میں دنیا کی بے ثباتی، فنا اور بقا اور عذاب و ثواب کے عناصر ملتے ہیں۔ اکبر نے جس دور میں آنکھیں کھولیںوہ عبوری دور تھا۔اس لیے اکبر قدامت پسند نہیں تھے اور اس تغیر و تبدل کے دور میں قدامت پسند ہو بھی نہیں سکتے تھے۔ان کی شاعری میں انفرادیت اور اجتماعی تضادات کے عناصر ملتے ہیں۔ اکبر کوئی باضابطہ صوفی نہ تھے اس لیے ان کی صوفیانہ شاعری مذہب اور دنیا کے درمیان سے ایک الگ راہ نکالتی ہوئی نظر آتی ہے۔‘‘ ان خیالات کا اظہار معروف ناقداور سابق صدر شعبہ اردو الہ آباد یونیورسٹی پروفیسر علی احمد فاطمی نے کیا۔واضح رہے کہ شعبہ اردو پٹنہ یونیوسٹی میں مورخہ ۲۴؍اگست کو ایک توسیعی خطبہ بہ عنوان ’’اکبر الہ آبادی کی غزلیہ اور صوفیانہ شاعری‘‘ منعقد ہوا جس کی صدارت سابق صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی پروفیسر اعجاز علی ارشد نے کی۔ جب کہ نظامت کے فرائض شعبہ کے ریسرچ اسکالر محمد شاہد وصی نے انجام دیے۔ مہمان مقرر کے طور پر پروفیسر علی احمد فاطمی نے اپنا خطبہ پیش کیا۔اِس موقع پر شعبہ ٔ اردو پٹنہ یونیورسٹی سے شایع ہونے والے ’خبرنامہ‘ کے دوسرے شمارے کا اجرا بھی عمل میں آیا۔

پروگرام کا آغاز ریسرچ اسکالر مولانا عارف حسین کے تلاوت کلام اللہ اور پروفیسر رگھونندن شرما ،پرنسپل پٹنہ کالج کے ذریعہ شمع افروزی سے ہوا ۔اس کے بعد صدر شعبہ اردو ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور پروگرام کی غرض و غایت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔اردو کے معروف فکشن نگار اور ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ ادیب پروفیسر عبدالصمد نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور اپنے خطاب میں کہا کہ اکبر الہ آبادی کا بہار سے بہت گہرا تعلق رہا ہے اس لیے اکبر الہ آبادی اور بہار کے حوالے سے بھی باتیں ہونی چاہیے ۔انھوں نے مزید کہا کہ پروفیسر فاطمی کا یہ ہنر ہے کہ خشک سے خشک موضوع کو اتنا دلچسپ بنا دیتے ہیں کہ بڑے سے بڑا ادیب اور دانشور اپنے آپ کو طالب علم سمجھ کر سنتا ہے۔ جناب امتیاز احمد کریمی نے اس طرح کے پروگرام کے انعقاد کے لیے صدر شعبہ کو مبارکباد پیش کیااور طلبہ و طالبات کو مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے کی ترغیب دلائی۔ پروفیسر صفدر امام قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پروفیسر فاطمی زبانی جمع خرچ نہیں کرتے بلکہ جو بھی بات کرتے ہیں سند اور ثبوت کے ساتھ کرتے ہیں۔ صدر مجلس نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ فاطمی کا خطبہ غیر جانبدارانہ تھا اور اس خطبے سے اکبر کے وہ روپ بھی سامنے آئے جو نظروں سے مخفی تھے۔اکبر اپنے زمانے سے آگے کی سوچ رکھتے تھے اس لیے ان کی ظریفانہ شاعری کو جو معیار و وقار ملا ہے وہ اب تک کسی دوسرے شاعر کے حصے میں نہیں آیا۔ آخر میں ریسرچ اسکالر محمد عطاء اللہ نے تمام مہمانان، حاضرین اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

اس پروگرام میں ڈاکٹر نوشاد احمد، ڈاکٹر سورج دیو سنگھ، ڈاکٹر عبد الباسط حمیدی، پروفیسرمسعود احمد کاظمی، ڈاکٹر سرور عالم ندوی، پرویز عالم،ڈاکٹر سعید عالم کے علاوہ شعبہ کے ریسرچ اسکالرز اور ایم اے کے طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ عظیم آباد کی علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی۔