شرم کرو ’ گودی میڈیا ‘

46

احمد شہزاد قاسمی
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہندوستانی میڈیا ہندو قومیت کی بالادستی کے جذبے کو فروغ دینے والی فاشسٹ تنظیموں کی نمائندگی کر رہا ہے اسے اپنے فرضِ منصبی اور صحافت کے اصول وقواعد اور جمہوری قدروں سے کوئی مطلب نہیں۔
پورے ملک میں ایک گٹھ جوڑ لگاہوا ہے میڈیا اور ہندو احیا پرستی سے سرشار فسطائیت کے نمائندوں کا؛سنگھی آقا کے حکم و اشارہ پر فرضی خبریں چلانا نفرت انگیز مواد نشر کرنا یہاں کے ٹی وی چینلوں کا روز کا معمول بن چکا ہے۔
ان کی اس شر انگریزی سے ہندو ذہنیت رکھنے والی عوام تو جنون کی حد تک پاگل ہو چکی ہے جس کے لرزہ خیز نتائج مآب لنچگ اور مسلمانوں کے خلاف احتجاجی نعروں اور تقریروں کی شکل میں سا منے آتے رہتے ہیں اب تو پولیس اور عدالت کا بھی اس فرضی مہم سے متاثر ہو جانا کوئی نئی بات نہیں ہے گزشتہ سال دہلی میں ہوئے فسادات کی حقیقت ہی دیکھ لیجئے “ری پبلک ٹی وی” اور “نیوز 18″ پر عمر خالد کے خلاف خبریں نشر کی گئیں ” این آر سی” کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی جلسوں میں عمر خالد اور ان کے ساتھی بطور مقرر شرکت کرکے لوگوں کو حقائق سے واقف کر رہے تھے گودی میڈیا نے اس طرح سے خبریں چلائیں جیسے فسادات پھوٹ پڑنے کا سبب عمر خالد کی یہی احتجاجی تقریریں ہوں اور دہلی پولیس نے انہی خبروں کی بنیاد پر عمر خالد کے خلاف مقدمہ درج کر کے جیل کی سلاخوں میں بند کردیا اب عدالت میں سماعت کے دوران فاضل جج نے جب دہلی پولیس سے تقریر کی پوری اور اصل ویڈیو طلب کی تو دہلی پولیس کے طوطے اڑگئے اور معاملہ کچھ اس طرح بنا
جج؛ عمر خالد پر مقدمہ کس بنیاد پر کیا؟
دہلی پولیس؛ ان کی تقریر کی ویڈیو کی بنیاد پر
جج؛ پوری تقریر کہاں ہے؟
دہلی پولس؛ ہم نے تو ری پبلک ٹی وی اور نیوز 18پر دیکھا تھا
جج؛ پوری ویڈیو دیجئے
پولس؛ ہم نے دونوں نیوز چینلوں سے پتہ کیا وہ کہ رہے ہیں کہ ان کے پاس پوری ویڈیو نہیں ہے انہیں ویڈیو کی وہ کلپ بی جے پی آئی ٹی سیل کے امت مالویہ سے ملی تھی۔
ہندوستانی میڈیا پورے ملک میں یہی کھیل کھیل رہا ہے ان کی جھوٹی خبروں اور زہریلی نشریات کی بنا پر ہزاروں لوگ جیلوں میں ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں اور ہزاروں تشدد کا شکار ہو چکے ہیں
مہنگائی بے روزگاری سر کار کی عوام مخالف پالیسی اور ترقی کے نام پر ملکی اثا ثوں کو گروی رکھنے جیسےاہم عوامی مسائل پر بات کر نے اور مثبت مباحثے اور ڈیبیٹ کر نے کا تو جیسے انہیں خیال بھی نہ آتاہو
اپنے آق کو خوش کرنے اور ایک خاص طبقے کو تکلیف دینے کے لئے کبھی ایسی خبریں بھی چلادیتے ہیں جو عالمی پیمانے پر رسوائی کا سبب بن جا تی ہیں ایسا بارہا ہو چکا کہ ہندوستانی گودی میڈیا کو عالمی سطح پر اپنے ایجنڈے کی وجہ سے سبکی کا سامنا کرنا پڑا اب تو گودی میڈیا کو شرم آنی چاہیے کہ قومی وبین الاقوامی سطح پر رسوائی ہو رہی ہے۔
حکومت تو اس طرح کے ہر پروپیگنڈہ کو جس سے نفرت کا ماحول بڑھے اور ہندو احیا پرستی کا جذبہ فروغ پائے زندہ رکھنے میں معاون ومددگار کے طور پر کام کر رہی ہے اور کرے گی لہذا اہل اقتدار سے اس شر انگیز میڈیا کی سر زنش کی امید فضول ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ کیا عدالت از خود نوٹس لے کر ملکی مفاد میں میڈیا کی اس سرکشی کو لگام لگانے کی کوشش کرے گی اگرچہ اب عدالتوں پر بھی بہت زیادہ اعتبار نہیں کیا جا سکتا لیکن جب صورتِ حال ایسی ہے کہ ایک سے زائد مرتبہ میڈیا کا یہ گھناؤنی چہرہ سامنے آچکا اور عدالت کی طرف سے دبی زبان میں اس حرکت کی مذمت بھی ہو چکی ہو تو کچھ نہ کچھ امیدیں وابستہ رکھی جا سکتی ہیں۔

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں