فتنۂ ارتداد کے خلاف امارت شرعیہ کی جد وجہد

17

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
(نائب ناظم امارت شرعیہ،پٹنہ)
امارت شرعیہ کے قیام کے بنیادی مقاصد میں ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ پر نظام شرعیہ کے قیام کے ساتھ جس حد تک ممکن ہو اسلامی احکام کو بروئے کار لانا اور اس کے اجراء وتنفیذ کے مواقع پیدا کرنا“ ہے، امارت شرعیہ کے ذمہ داران اور کارکنان نے قیام کے بعد سے ہی اس مقصد کے حصول کے لیے جد وجہد شروع کی، مسلمانوں کو اسلام پر باقی رکھنا اور فتنہئ ارتداد کے خلاف سینہ سپر ہونا ضروری تھا، چنانچہ اس مہم کو ترجیحی بنیاد پر شروع کیا گیا، ابتدائی زمانہ کے رپورٹ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مبلغین امارت شرعیہ نے اپنے دورے کے درمیان بہت سارے ایسے مسلمانوں سے ملاقات کی جو مشرکانہ رسوم میں مبتلا تھے، کچھ گھروں میں مورتیاں تھیں، بعض لوگوں کے سر پر چوٹیاں تھیں، امارت شرعیہ کی محنت سے بت گھر سے نکال کر پھینکے گئے، سروں کی چوٹیاں کاٹی گئیں، ایسے لوگوں کی تعداد چھ ہزار پانچ سو آٹھ (6508) رپورٹ میں درج ہے، بہت سارے علاقوں میں بے نمازی زیادہ تھے، بعض جگہ کے مسلمان نشہ خوری میں مبتلا تھے، ابتدائی دس سالوں میں کارکنان امارت شرعیہ کی محنت سے انتیس ہزار ایک سو تئیس (29123) لوگوں نے نماز کی پابندی شروع کی اور چوہتر ہزار تین سو چوہتر (74374) لوگوں نے تاڑی اور شراب نوشی سے توبہ کیا، سینکڑوں لوگوں نے برضا ورغبت اسلام قبول کیا اور کفر وشرک سے توبہ کرکے ملت اسلامیہ کے فرد بن گئے۔
1925.26ء میں شدھی تحریک نے اپنے پاؤں پھیلائے اور بہت سارے مسلمان اس تحریک کے زیر اثر ارتداد میں مبتلا ہو گئے، مغربی چمپارن کی گدی برادری اس سے زیادہ متاثر ہوئی، بانی امارت شرعیہ ابو المحاسن مولانا محمد سجاد ؒ نے اس فتنہ کے خلاف خود محاذ سنبھالا اور پوری قوت کے ساتھ اس فتنہ کا مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں یہ تحریک ناکام ہوئی، مسلمان اس کے اثرات بد سے محفوظ رہے اور جو لوگ متاثر ہو گئے تھے انہوں نے توبہ کرکے پھر سے اسلام قبول کیا، مغربی چمپارن سے متصل ہی اتر پردیش کا گورکھپور ضلع ہے، یہاں بھی گدی برادری کے چار سو (400) مسلمانوں کو مرتد کرالیا گیا تھا، بانی امارت شرعیہ نے خو دہی وہاں کا دورہ کیا اور امارت شرعیہ کے رفقاء و کارکنوں کے ساتھ اس فتنہ کو ختم کرکے دوبارہ ان حضرات کو داخل اسلام کیا، شدھی تحریک کا اثر ہزاری باغ بھی پہونچا اور کوئی پانچ سو (500) مسلمان اس کی زد میں آئے، وہاں بھی امارت شرعیہ کے مبلغین پہونچے اور اس فتنہ کا قلع قمع کرکے دوبارہ ان لوگوں کو داخل اسلام کیا گیا۔
امارت شرعیہ نے چوتروا تھانہ بگہا اور ہری نگر تھانہ رام نگر چمپارن کے ڈوم برادری پر محنت کی، آریہ سماجی اور عیسائی دونوں اس برادری پر محنت کر رہے تھے، لیکن امارت شرعیہ کی محنت رنگ لائی، اسلام کے تصور مساوات اور ذات برادری، اونچ نیچ کے تصور سے پاک اسلامی تعلیمات نے ان حضرات کو متاثر کیا اور بڑی تعداد میں اس برادری کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا، ان لوگوں نے خود ہی ایک دوسرے کی چوٹی اور مونچھیں کاٹیں اور اسلامی شعار کو اپنالیا۔یہی حالت چھپرہ (سارن) کی بھی تھی، یہاں شدھی تحریک کا اثر بھانٹوں پر ہوا، دو سو (200) بھانٹ جو مسلمان تھے ان کو بہلا پھسلا کر آریہ سماجیوں نے مرتد کرلیا، امارت شرعیہ کی محنت سے یہاں بھی کامیابی ملی اور دوبارہ یہ لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔
ایک موقع سے حکومت نے تعلیمی اداروں میں ان ترانوں کو رائج کرنا چاہا جو مشرکانہ عقائد کے غماز تھے،ان کے مصرعوں اور جملوں میں شرک کی آمیزش تھی،امارت شرعیہ کا ایک وفد وزیر تعلیم سے ملا اور ان ترانوں کی خامیوں سے انہیں آگاہ کیا، چنانچہ وزیر تعلیم نے تعلیمی اداروں کے نام حکم جاری کیا کہ اس طرح کے ترانوں اور پرارتھنا میں کسی بھی مسلم طالب علم کو شریک ہونے پر مجبور نہ کیاجائے اور جہاں اس قسم کے پرارتھنا پر اعتراض ہے وہاں اسے بند کر دیاجائے، اس موقع سے حضرت امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی نور اللہ مرقدہ کا یہ بیان بھی شائع ہوا تھا کہ ”مسلم طلبہ جہاں رام دُھن گایا جا رہا ہو اور وہ اسلام کے منافی ہو، وہاں شریک نہ ہوں، بلکہ پرہیز کریں“۔ مسلمانوں میں جب قادیانیوں کا فتنہ کھڑا ہوا اور بہار کے کشن گنج، سوپول، مظفر پور اور اڈیشہ کے کٹک علاقوں میں قادیانیوں نے عیسائی مشنری کے انداز میں بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے جال میں پھانسنا شروع کیا تو امارت شرعیہ نے کشن گنج کے علاقہ لوہا گاڑا میں اس وقت کے نائب ناظم اور شعبہ تبلیغ کے ذمہ دار مفتی نسیم احمد قاسمی رحمۃ اللہ کی قیادت میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے عنوان سے 18’19مارچ 1999کو دو روزہ کیمپ لگا کر اس فتنہ کی بیخ کنی کا کام کیا، اس کے بعد رئیس المبلغین اور موجودہ معاون ناظم مولانا قمر انیس قاسمی اپنے رفقاء کے ساتھ ایک ماہ قیام پذیر رہے اور ان تمام آبادیوں کا دورہ کیا جو اس فتنہ سے متاثر ہو گئے تھے۔ چنانچہ امارت شرعیہ کی مسلسل محنت سے اس علاقہ سے اس فتنہ کا خاتمہ ہوا۔ اس زمانہ میں شریف عالم قادیانی کشن گنج کا ڈی ڈی سی اور بہار میں قادیانی تحریک کا سر براہ تھا، پھر جب اس کا تبادلہ سوپول ہو گیا اور وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بن گیا تو اس نے سوپول علاقہ کو اپنی تحریک کا مرکز بنایا اور اس نے اپنی پیٹھ مدارس تک میں بنالی تھی، اس کے گرگے استاذ کی حیثیت سے وہاں کام کر نے لگے تھے، امارت شرعیہ نے حکومت تک یہ بات پہونچائی، ڈی ایم کا تبادلہ ہوا، اساتذہ نکالے گئے اور باز پرس کی وجہ سے آئندہ ڈی ایم نے اس قسم کی بے ہودہ حرکت سے باز آنے کا وعدہ کیا، سوپول میں اس فتنہ کو فرو کرنے میں بعض جمعیتوں اور مدارس کا بھی تعاون ملا۔ اڈیشہ میں کٹک کے قاضی شریعت مولانا عبد الحفیظ صاحب نے ان ملعونوں کا تعاقب کیا، جس سے فتنہ کا یہ دروازہ بند ہوا۔اسی طرح بشیرا حمد نامی قادیانی نے مدھوکر چھپرا، پپراہا ہالٹ مظفر پور میں آکر ڈیرہ جما لیا، دھوبی ذات کے کچھ لوگوں کو اپنے دین میں داخل کر لیا، امارت شرعیہ کی ٹیم وہاں پہونچی اور وہاں سے بشیر احمد قادیانی کو بھاگتے بنی۔شیوہر ضلع کے سلیم پور میں بھی اس فتنہ کا آغاز ہوا، امارت شرعیہ کے مبلغین نے وہاں جا کر قادیانیوں کا تعاقب کیا، جس کی وجہ سے وہاں کے مسلمان اس فتنۂ ارتداد سے محفوظ رہے۔
قادیانیت کے بعد ایک نیا فتنہ ارتداد شکیلیت کی شکل میں سامنے آیا، شکیل بن حنیف نے کالج اور یونیورسیٹیوں میں طلبہ کو بہلا پھسلا کر اپنے قریب کیا اور پھر باطل معتقدات سے ان کے ذہن ودماغ کو آلودہ کرکے اپنے مذہب میں داخل کرنے کا کام شروع کیا، سہرسہ کے بعض گاؤں اور پٹنہ کے بعض علاقوں میں اس نے پاؤں پھیلانے شروع کیے، سہرسہ میں ایک موقع سے مولانا محمد قاسم مظفر پوری ؒ کے ساتھ یہ حقیر بھی ایک شکیلی جوان کو سمجھانے میں لگا، اس گاؤں میں تین چار لوگ اس عقیدے کے تھے، سب راہ راست پر تو نہیں آسکے، لیکن تعاقب کی وجہ سے گاؤں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور اورنگ آباد جا کر پناہ لی، جس سے اس گاؤں میں بد عقیدگی پر روک لگی۔
آرایس ایس اور ا س کی حلیف جماعتوں نے مسلم لڑکیوں کو محبت میں پھنسا کر ان کی آبروریزی اور ان سے شادی کرنے کی مہم چلائی تو امارت شرعیہ نے مرحلہ وار اس کے خلاف تحریک چلائی، پمفلٹ، رسائل، کتابچے اور خود نقیب میں مضامین شائع کرکے اس طوفان کو روکنے کا کام کیا گیا، اصلاح معاشرہ کی تحریک چلائی گئی، گارجین حضرات کو متوجہ کیا گیا، تلک جہیز کے بغیر شادی کرنے پر زور دیا گیا، اعلیٰ تعلیم اور ملازمت کے حصول کے نام پر لڑکیوں کی شادی میں تاخیر کے مفاسد بیان کئے گئے، مخلوط تعلیم سے اجتناب کی تلقین کی گئی، ابھی حال میں جب اس تحریک نے دوبارہ زور پکڑا تو امارت شرعیہ نے اس سلسلے میں عوام کو بیدار کرنے کا کام کیا، مختلف سطح پر مٹنگوں کا سلسلہ شروع کیا گیا، جو تا حال جاری ہے، امید ہے کہ اس کے مفید اور مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔ فتنہ ارتداد کے خلاف امارت شرعیہ نے جو جد وجہد کی ہے اور مسلمان کو مسلمان باقی رکھنے کی جو مہم چلائی ہے، یہ صرف اس کا ہلکا سا اشاریہ ہے۔ خدمات کی تفصیلات کے لیے تو کتاب درکار ہے۔