پانچ ممالک کے گروپ برکس سے صدر روس کا خطاب، کہا - افغانستان پڑوسی ممالک کے لئے خطرہ نہیں ہونا چاہیے!

پانچ ممالک کے گروپ برکس سے صدر روس کا خطاب، کہا – افغانستان پڑوسی ممالک کے لئے خطرہ نہیں ہونا چاہیے!

برکس کو آئندہ 15 برسوں میں مزید موثر ہونے کی ضرورت، مودی کا اجلاس سے ورچوئل خطاب

نئی دہلی: پانچ ممالک کے گروپ برکس (برازیل ، روس ، انڈیا ، چین ، ساؤتھ آفریقہ) کا ہندوستان کے زیرصدارت آج 13 واں اجلاس ہوا ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ورچول خطاب میں کہا کہ برکس نے گزشتہ 15 برسوں کے دوران بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ برکس کو آئندہ 15 برسوں میں مزید موثر ہونے کی ضرورت ہے ۔ اس پلیٹ فارم کو ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات پر توجہ دینے کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اپنے خطاب میں روس کے صدر ولادیمیر پوٹین نے افغانستان کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ افغانستان ، اپنے پڑوسی ممالک کیلئے خطرہ نہیں ہونا چاہئیے اور نہ ہی منشیات کی اسمگلنگ کے علاوہ دہشت گردی کا ذریعہ بننا چاہئیے ۔ افغانستان کے شہریوں نے گزشتہ دو دہائیوں سے لڑائی اور جدوجہد کی ہے اور اب انہیں اپنے ملک میں طالبان کی نئی حکومت میں آزادی سے جینے کا حق حاصل ہونا چاہئیے ۔ اس اجلاس کا نظریہ ’ تسلسل ، استحکام اور اتفاق رائے کیلئے تعاون‘ رکھا گیا ۔ اجلاس میں مخالف دہشت گردی عمل آوری منصوبہ بھی اختیار کیا گیا ۔ صدر روس نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کی جانب سے افغانستان سے انخلاء کے نتیجہ میں نیا بحران پیدا ہوا ہے ۔ یہ بات ابھی غیر واضح ہے کہ اس کا علاقائی اور عالمی سکیورٹی پر کیا اثر ہوگا ۔برکس قائدین نے افغان صورتحال کو پر امن طریقہ سے حل کرنے پر زور دیا اور قرار داد بھی منظور کی کئی جس میں انسانی حقوق کی برقراری پر بھی زور دیا گیا ۔ یہ دوسرا موقع ہے جب وزیراعظم نریندر مودی نے برکس چوٹی اجلاس کی صدارت کی ہے ۔ اجلاس سے برازیل کے صدر جیربولسانائرو ، جنوبی آفریقہ کے صدر سائرل راما فوسا اور چین کے صدر ژنگ جن پنگ نے بھی خطاب کیا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *