تعلیم 2050 کو تحریک بنانے کی ضرورت ہے! جدید تعلیمی پالیسی کے مثبت پہلو قابل قبول: ملی کونسل بہار

تعلیم 2050 کو تحریک بنانے کی ضرورت ہے! جدید تعلیمی پالیسی کے مثبت پہلو قابل قبول: ملی کونسل بہار

پھلواری شریف: آل انڈیا ملی کونسل بہار کے ریاستی دفتر پھلواری شریف پٹنہ میں جدیدتعلیمی پالیسی کے مثبت اورمنفی اثرات پر غوروفکر کی غرض سے اس کمیٹی کی ایک اہم نشست منعقد ہوئی،اس نشست میں حکومت ہند کی جدید تعلیمی پالیسی کے مختلف دفعات پر بحث کی گئی،شرکاء کمیٹی کا احساس تھا کہ حکومت ہند کی یہ نئی تعلیمی پالیسی کئی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اپنے اندر منفی پہلو بھی رکھتی ہے۔اس تعلیمی پالیسی کا ایک خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس میں کہاگیا کہ بھارت کی قدیم اورسناتنی روایت کے مطابق نظام تعلیم بنایا جائے گا،ظاہر ہے یہ تعلیم کا بھگوا کرن ہے،جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ بھارت کی تمام اقلیتوں کے لیے سم قاتل ہے۔اقلیتوں کی تعلیم سے متعلق اس پالیسی میں مبہم بات کہی گئی ہے،اسی طرح لازمی تعلیم کی بھی وضاحت نہیں کی گئی،مدارس کی تعلیم نیز اردوزبان سے متعلق یہ پوری پالیسی خاموش ہے،جوخطرناک بات ہے،اس کمیٹی نے یہ طے کی کہ اکتوبر میں اس کی ایک اورمیٹنگ بلائی جائے اوراس وقت تک کمیٹی کے اراکین اس پر تحریری شکل میں اپنا تجزیاتی رپورٹ پیش کریں، پھر ان رپوٹوں کوپیش نظر رکھتے ہوئے مستقبل کالائحہ عمل طے کیا جائے۔اس کمیٹی کے جن ارکان نے شرکت کی ان میں صدر مجلس مولانا انیس الرحمن قاسمی،مولانا ابوالکلام شمسی قاسمی،مفتی محمدنافع عارفی، مولانانجم الہدیٰ ثانی فلاحی اورمولانا سیدعادل فریدی کے نام شامل ہیں۔اسی موقع پر آل انڈیا ملی کونسل کے کمیٹی برائے عصری وتکنیکی تعلیم کی ایک اہم نشست بھی سہ پہر دوبجے منعقد ہوئی،اس نشست کا آغاز مولانا محمدجمال الدین قاسمی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔عصری وتکنیکی تعلیم کی اہمیت وافادیت پرکمیٹی کے ارکان نے کھل کر گفتگو کی اوراپنی قیمتی رائیں پیش کیں۔اس گفتگو میں مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہاکہ آل انڈیا ملی کونسل نے اگلے تیس سال کے تعلیمی ترقی کے لیے مشن تعلیم2050کا منصوبہ رکھا ہے،جس میں ایک دوسرے کے کاموں کی ستائش،باہمی رابطہ،ایک دوسرے کا تعاون اورباہمی اشتراک کے ذریعہ کام کیا جائے گا۔اس کمیٹی نے جوتجاویز منظورکئے ہیں،وہ اس طرح ہیں:
پی آئی پی،یعنی پروجکٹ امپلیمیشن پروگرام مرتب کیا جائے اور اس کے تحت پوری ریاست کا شرح خوانددگی ڈاٹا بناجائے تا کہ یہ معلوم کیا جا کسے کہ ہمارے کتنے بچے اسکول یا مدرسہ میں داخل ہیں،کتنے اسکولس یا مدارس سے دورہیں،کتنے طلبا اسکول چھوڑ چکے ہیں وغیرہ اورپھر اس ڈاٹا کی بنیادپر ان کو تعلیمی اداروں سے جوڑا جائے اورسہولیات مہیا کرانے کی کوشش کی جائے،اسی طرح اس تجویز پر بھی اراکین نے اتفاق کیا کہ ایک ایجوکیشنل تھنک ٹینک بنیاجائے اورملی کونسل کے زیر نگرانی انفارمیشن ڈسک یعنی معلومات عامہ کا ایک شعبہ قائم کیا جائے،جس کے تحت تعلیم کے سلسلے میں مرکزی اورریاستی حکومت کے زیرنگرانی چلائے جارہے مختلف اسکیموں،اسکارشب منصبوں سے متعلق مکمل معلومات عام لوگوں کو فراہم کرایاجائے،کمیٹی کے ارکان نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مشن تعلیم 2050ء کوتحریک کی شکل دینے کی غرض سے ماہ نومبر کو ماہ تعلیم کے طورپر منایا جائے اوراس سلسلے میں مختلف ملی تنظیموں سے بھی تعاون حاصل کیا جائے،نیز ائمہ اورخطباء سے گزارش کی جائے کہ وہ ماہ نومبر کے تمام جمعہ میں علم کو اپنے خطبے اورتقریر کا موضوع بنائیں،کمیٹی کے اراکین نے خواتین کی تعلیم نیز اخلاقی تعلیم وتربیت پر خاص توجہ مرکوزکرنے کی ضرورت پر زوردیا،یہ تجویز بھی طے کی گئی کہ ہر مسجدمیں مکتب کا نظام ہو ساتھ ہی مسجد میں ایک لائنریری قائم کرنے کی کوشش کی جائے،مشن تعلیم 2050ء میں آزادمدارس کے پرائمری درجات کو بھی شامل کرنے کی تجویز پاس کی گئی،نیز یہ طے کیا گیا کہ آل انڈیا ملی کونسل جلد ہی گریٹ انڈیا فاؤنڈیشن مدھوبنی کے تعاون سے اساتذہ کی تربیت کا نظم کرے گی،یہ تربیتی نظام آن لائن اورآف لائن دونوں ہی طریقے پر چلایا جائے گا، کمیٹی کے تمام ارکان نے یہ بات طے کی کہ آئندہ ماہ اکتوبر میں جب اس کمیٹی کی دوسری میٹنگ ہوگی اس موقع پر تمام اراکین تحریر ی شکل میں اپنی اپنی رائے مرتب کر کے پیش کریں گے اورپھر اس رپورٹ کی روشنی میں آل انڈیا ملی کونسل بہار ایک روڈ میپ تیار کرے گی اوراس کے مطابق اس میدان میں کام کیا جائے گا،اس میٹنگ میں جن اراکین نے شرکت کی ان میں ڈاکٹر شمس الحسین کنوینر برائے تعلیمی کمیٹی عصری علوم، نجم الحسن نجمی نائب کنویرنر، مولانا ابوالکلام قاسمی، جناب شکیل احمد، ڈاکٹر فضل اللہ قادری، جناب تنویر رضوی علیگ، مولانا نجم الہدیٰ ثانی فلاحی، جناب شہنواز احمد خان، جناب اعجاز شعیب ہاشمی، مولانا محمد نافع عارفی کے نام شامل ہیں۔واضح ہو کہ اس نشست کی صدارت بھی آل انڈیا ملی کونسل کے قومی نائب صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *