صدر ایردوان اور طالبان

صدر ایردوان اور طالبان

ڈاکٹر فرقان حمید
ترک صدر رجب طیب ایردوان اس وقت عالمِ اسلام کے واحد لیڈر ہیں جنہوں نے پورے عالمِِ اسلام کو اپنی صلاحیتوں، رہنمائی اور عملی اقدامات سے نہ صرف متاثر کیا ہے بلکہ عالمِ اسلام اور خاص طور پر کشمیریوں، فلسطینیوں، قبرصی ترکوں، روہنگیا کے مسلمانوں اور آذربائیجان کے باشندوں کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ صدر ایردوان کو 29 جنوری 2009 کو سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر اسرائیل کے اُس وقت کے صدر شمعون پئیرز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے اسرائیل کی بربریت کا جس طریقے سے اظہار کیا تھا اور شدید غصے میں فورم کے ماڈریٹر کو ” ون منٹ”کہتے ہوئے فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی تصویر کشی کی تھی اس سے صدر ایردوان کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک صدر ایردوان مظلوم مسلمانوں کی آواز بنے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ تمام مسلمان اپنی نگاہیں ان پر مرکوز کیے ہوئے ہیں کیونکہ عالمِ اسلام میں موجودہ دور میں ان کے سوا کوئی ایسا رہنما دکھائی نہیں دیتا جو ان کے دکھوں کا مداوا کرسکے یا ان کے زخموں پر مرحم رکھ سکے۔ عالمِ اسلام میں صدر ایردوان ہی میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی لیڈر چاہے وہ امریکی صدر ہوں یا جرمن چانسلر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی بات منوانے کے فن سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ اپنی انہی خصوصیات کی بنا پر اب مسلمان انہیں اپنے دور کا ہیرو تسلیم کرتے ہیں۔
صدر ایردوان نے اپنے ملک کے اندر سے شامی پنا گزینوں کو پناہ دینے کی شدید مخالفت کی پروا کیے بغیر شامی پناہ گزینوں کو نہ صرف پناہ دی بلکہ شامی باشندوں پر بشرالاسد انتظامیہ کے ظلم و ستم کو رکوانے کے لیے انہوں نے پہلے روسی صدر کا قائل کرنے کی کوشش کی لیکن روس کے بھی شامی انتظامیہ کا کھل کر ساتھ دینے پر صدر ایردوان نے روس سے بھی ٹکر لینے سے گریز نہ کیا بلکہ ترکی کی جانب سے روس کے طیارے کو مار گرائے جانے کی وجہ سےدونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بُری طرح متاثر بھی ہوئے لیکن صدر ایردوان کے پاس اللہ جانے کونسی گیڈر سنگھی موجود ہے کہ روسی صدر پوتن صدر ایردوان سے بہت متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں ممالک کے رہنماوں کی یہ دوستی ذاتی دوستی میں تبدیل ہوچکی ہے اور دونوں رہنما ہر ماہ باقاعدگی نہ صرف ٹیلی فون پر بین الاقوامی مذاکرات کرتے ہیں بلکہ اکثر بیشتر ان کی ون آن ون ملاقات بھی ہوتی رہتی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ متحدہ امریکہ کے مسلسل جنگوں میں شکست سے دوچار ہونے کے بعد عالمی توازن تبدیل ہو کر رہ گیا ہے اور اس نئے عالمی تواز ن میں ترکی، صدر ایردوان کی انتھک محنت اور ملک کو اقتصادی، دفاعی صنعت اور ڈرانز کی تیاری میں دنیا کےسپر ممالک کی صف ممالک میں شامل ہونے لگا ہے جس کی وجہ سے دنیا کے کئی ایک ممالک اور خاص طور پر اسلامی ممالک ان کو اپنے لیے نجات دہندہ سمجھنے لگے ہیں۔ دفاعی صنعت اور ڈرانز کی تیاری میں ترکی اس قدر آگے نکل چکا ہے کہ روسی میڈیا ترکی کی دفاعی صنعت اور ڈرانز کے بارے میں تعریفں کرتے ہوئے نہیں تھکتے ہیں۔ ترکی کے ڈرانز کی وجہ سے آذربائیجان نے جو جنگ جیتی ہے اس کے بعد دنیا کو اس بات کا احساس ہوچکا ہے کہ اب بڑے اور جدید طیاروں کی جگہ مستقبل میں جنگ کا پانسہ ان ڈرانز ہی کی وجہ سے پلٹا جاسکے گا۔
طالبان کے ہمیشہ ہی سے ترکی اور صدر ایردوان سے بڑے گہرے تعلقات رہے ہیں اور طالبان صدر ایردوان سے بہت متاثر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ ترکی کے افغانستان کے ساتھ صدر اشرف غنی کے دور میں بھی بڑی قربت قائم رہی ہے اور افغان باشندے ترکی اور صدر ایردوان کے گن گاتے دکھائی دیتے ہیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ افغانستان کےساتھ ترکی کے تاریخی تعلقات ہیں جو موجودہ دور میں بھی اسی طرح قائم ہیں۔ اب طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھی ان تعلقات میں ذرہ بھر بھی کوئی فرق نہیں آیا ہے بلکہ اب طالبان سب سے پہلے ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے حکومتِ ترکی سے مسلسل رابطہ قائم کیے ہوئے ہیں۔ صدر ایردوان اور ان کے ساتھی طالبان کو مشکلات سے نکالنے اور کابل کے ہوائی اڈے کو بین الاقوامی پروزاوں کے لیے کھلا رکھنے کے لیے ہر طرح کا تعاون بھی فراہم کر رہے ہیں۔ اگر طالبان کو اپنے وجود کو برقرا رکھنا ہے اور دنیا کے ساتھ رابطہ قائم رکھنا ہے تو صدر ایردوان اور ان کی حکومت اس وقت طالبان کے لیے پل کا کردار ادا کرسکتی ہے لیکن اس کے لیے طالبان کو صدر ایردوان کے مشوروں پر عمل درآمد کرنا ہوگا کیونکہ وہ اس بار طالبان کو کامیاب ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہیں مشوروں پر کان دھرنا ہوگا۔ اب طالبان کو چاہیے کہ وہ صدر ایردوان ہی کے مشوروں پر عمل درآمد کرتے ہوئے افغانستان میں ایک ایسی حکومت قائم کریں جس پر دنیا کو کوئی اعتراض نہیں ہو۔ طالبان کو موجودہ حالات میں اپنی کامیابی کے لیے اپنی پرانی تمام روشوں سے جس کی وجہ سے ان کی حکومت پر دنیا بھر لعنت ملامت کی گئی تھی سے باز رہنا ہوگا۔ طالبان اچھی طرح جانتے ہیں ترک صدر ایردوان ترکی ہی کے ایک مدرسے “امام خطیب مدرسے” (اگرچہ نصاب میں بہت فرق ہے) ہی سے تعلیم یافتہ اور اسی وجہ سے مذہب اسلام پر بڑی سختی سے کاربند ہیں۔ وہ عالمِ اسلام کے دیگر تمام رہنماوں سے اس لیے بھی بڑے مختلف ہیں کہ وہ عالمِ اسلام کی خدمت کرنے کو اپنا ا اوڑھنا بچھونا سمجھتے ہیں جبکہ دیگر اسلامی رہنما اپنے اقتدار کی بقا کےلیے مغرب کی خدمت کرنا پانا فرض سمجھتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ طالبان کو دنیا سے رابطہ قائم کرنے کے لیے کابل کے ہوائی اڈے کو مستقل بنیادوں پر کھلا رکھنے کی ضرورت ہے اور ترکی اس سلسلے میں قطر کے ساتھ مل کر ہوا ئی اڈے کے نظم و نسق کو انجام دے رہا ہے۔ ترکی ہر لحاظ سے اس ہوائی اڈے کو نہ صرف چلانے کی بھر پور لاحیت رکھتا ہے بلکہ اس ہوائی اڈے کی سیکورٹی (جس کے بارے میں اندرونی طور پر مذاکرات جاری ہیں) نظم و نسق ترکی فراہم کرنے کے بارے میں پہلے ہی درخواست کرچکا ہے اور طالبان اس پر سنجیدگی سے غو ر بھی کررہے ہیں کیونکہ طالبان اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ترکی ہی ایک ایسا ملک ہے جس پر افغانستان کی تمام نسلوں سے تعلق رکھنے وال افراد بھر پور اعتماد کرتے ہیں ۔ افغانستان کے معاملے میں ترکی کو دنیا کے تمام ممالک پر برتری حاصل ہےکیونکہ اس نے نیٹو کے افغانستان میں قیام کے دوران ایسی خدمات سر انجام دی ہیں جو نیٹو کا کوئی بھی ملک سرانجام نہیں دے سکا ہے۔ ترک فوجیوں کی جس طرح پشتون، تاجک، ہزارہ اور ازبک آو بھگت کرتے رہے ہیں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ یعنی دوسرے معنوں میں افغانستان کے تمام ہی عوام صدر ایردوان اور ترکی کے گرویدہ ہیں اور طالبان بھی اس بات کا پوری طرح احساس رکھتے ہیں کوہ وہ ترک صدر ایردوان کو کسی بھی صورت ناراض نہیں کرسکتے ہیں اور ان کا اس بات کا احساس ہے کہ صدر ایردوان کی عالمِ اسلام پرگرفت اور ہر دلعزیزی کی وجہ سے دنیا سے تسلیم کروانے کے لیے وہ صدر ایردوان ہی کے محتاج ہوں گے۔ اس لیے طالبان کو صدر ایردوان کے مشوروں پر عمل درآمد کرتے ہوئے دنیا سے اپنے آپ کو تسلیم کروایں۔ صدر ایردوان واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ طالبان کے اپنے ملک کے رسم و رواج ہیں اور وہ اپنے ملک کے رسم و رواج ہی کی پیروی کرنے اور مذہبی معاملات اور انسانی حقوق کے کی پائمالی سے گریز کرتے ہوئے تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اسی طریقے ہی سے وہ دنیا میں اپنی بات کہنے اور منوانے پر کے قابل ہوسکتے ہیں۔ طالبان کو بھی اس بات کو احساس ہے کہ صدر ایردوان سے بہتر ان کو کوئی مشورہ نہیں دے سکتا۔

furqan61hameed@hotmail.com
Mob: + 90 535 870 06 75

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *