ہندوستان کے پہلے شہید صحافی مولوی محمد باقر کو پریس کلب آف انڈیا نے خراج عقیدت پیش کیا

16

نئی دہلی: (اسرار احمد) ہندوستان کے پہلے شہید صحافی مولوی محمد باقر کی 164ویں برسی پر 16 ستمبر کو شام 4 بجے پریس کلب آف انڈیا میں ایک کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ مولوی محمد باقر ہندوستان کے پہلے صحافی تھے ، جنہیں برطانوی حکومت نے توپ میں باندھ کر گولے سے اڑا دیا تھا ، انگریزوں نے انہیں اس بے دردی سے قتل کیا جس کی مثال آج تک نہیں ملتی۔
اس پروگرام میں کئی سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر سینئر صحافی معصوم مراد آبادی کی کتاب ” 1857 کی کرانتی اور اردو صحافت” کا رسم اجرا بھی عمل میں آیا۔یہ کتاب مولوی باقر کی مہم کارناموں پر لکھی گئی ہے۔ اس موقع پر دو نوجوان صحافیوں (ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی اور ٹائمز آف انڈیا کی صحافی سواتی ماتھر) کو پریس کلب کی جانب سے امر شہید مولوی باقر ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
سینئر صحافی اور سابق راجیہ سبھا رکن میم افضل کہا کہ قیام پاکستان کے بعد اگر کسی کو سب سے زیادہ تکلیف ہوئی ہے تو وہ ہندوستان کے مسلمان ہیں۔ مولوی باقر ایک ایسے صحافی تھے جو ہندو اور مسلمان دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتے تھے ، اس لیے آج بھی ایسے ہی صحافیوں کی ضرورت ہے جو ملک کو نفرت سے بچا سکیں۔
پریس کلب کے صدر اومکانت لکھیرا نے کہا کہ ایک صحافی کیوں مارا جاتا ہے کیونکہ وہ لوگوں کی آواز اٹھاتا ہے اور خونخوار کا ظالمانہ چہرہ دنیا کے سامنے لاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہمیں محسوس کرنا چاہئے کہ مولوی باقر کی کیا قربانیاں ہیں؟ ہر سال مولوی باقر کی برسی کے موقع پر ایک پروگرام کا اہتمام کیا جانا چاہیے اور ہم اسے یقینی بنائیں گے تاکہ باقر کی برسی کے موقع پر ہر سال پروگرام کو ضروری سمجھا جائے۔
مولوی باقر کے یوم پیدائش کے موقع پر بی بی سی کے سینئر صحافی ستیش جیکب نے کہا کہ مولوی باقر کی شراکت کو ملک کے سامنے لانا چاہیے اور پریس کلب نے اس کا آغاز کیا ہے جس کی تعریف کی جانی چاہیے تاکہ آنے والی نسل جان سکے مولوی باقر کا کردار کتنا اہم ہے؟
پریس کلب کی منیجنگ کمیٹی کے رکن اور سینئر صحافی اے یو آصف نے کہا کہ ہم مولوی باقر جیسی عظیم شخصیت کو کیسے بھول سکتے ہیں ، مولوی باقر ہماری صحافت کی دنیا کے پہلے صحافی ہیں جنہیں انگریزوں نے توپ کے گولوں سے قتل کر دیا تھا ، ہم انہیں کبھی نہیں بھول سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مولوی باقر نے ہمیشہ ملک کو متحد کرنے کی بات کی ، ان کی نڈر صحافت کی وجہ سے برطانوی حکومت خوفزدہ تھی کہ اگر ہندو اور مسلمان اکٹھے ہو گئے تو ہم ہندوستان پر زیادہ عرصے تک حکومت نہیں کر سکتے۔ برطانوی حکومت کو خدشہ تھا کہ ان پر گولی چلائی جائے گی۔
بی بی سی کے صحافی قربان علی نے کہا کہ آج مسلمانوں کو اس ملک کا ماننے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کی فصیل سے کہا تھا کہ ہم صدیوں سے غلامی کی زندگی جینے پر مجبور تھے ہم اب آزاد ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پریس کلب کو ہر سال ایسا پروگرام کرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو معلوم ہو کہ مولوی باقر نے ملک کی آزادی میں کیا کردار ادا کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ آج مولوی باقر اور 1857 کو یاد کرنا ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ اب ایک ایسا نظریہ ملک میں جنم لے رہا ہے جو مجاہدین آزادی کو بھلا دینا چاہتی ہے اور عوام کو شہریت کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتی ہے آج ہم بھول گئے ہیں صحافت کی دنیا کا پہلا شہید کون تھا۔سینئر صحافی ارمِلیش ارمِل نے کہا کہ مولوی باقر کی صحافت ہمیشہ سے ملک کو جوڑنے کے لیے رہی ہے ، وہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کے طور پر لکھتے تھے ، اسی بنیاد پر برطانوی حکومت نے خوف کھاکر انہیں مار ڈالا۔
اس موقع پر صحافی ایس کے پانڈے نے کہا کہ آج ملک کو مولوی باقر کی قربانیوں کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ صحافی اور پریس کونسل آف انڈیا کے رکن جئے شنکر گپتا نے کہا کہ پریس کلب نے جو آغاز کیا ہے یہ ہمیشہ ہونا چاہیے تاکہ ملک مولوی باقر یاد رکھ سکے۔ اس موقع پر ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے کہا کہ مولوی باقر جس قسم کی صحافت کرتے تھے آج کے دور میں اس طرح کی صحافت بہت کم ہو گئی ہے ، ہر کسی کو ان سے سیکھنا چاہیے اور بلا خوف حکومت سے سوال کرنا چاہیے۔ تہذیب ٹی وی کے چیف ایڈیٹر معروف رضا نے کہا کہ آج ملک کو مولوی باقر کی شہادت کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔
ملت ٹائمز کے ایڈیٹر ان چیف شمس تبریز قاسمی نے کہا کہ آج مجھے جو اعزاز دیا گیا ہے اس کا پورا سہرا ملت ٹائمز کی پوری ٹیم کو جاتا ہے ، ملت ٹائمز کے قیام کا مقصد ایک آزاد اور مضبوط میڈیا ہاؤس کا قیام ہے جس کے ذریعہ ہم ان ایشوز کو اٹھاتے ہیں جسے مین اسٹریم میڈیا کے ذریعہ نظر انداز کیا جاتا ہے ۔

ملت ٹائمز نے شاہین باغ کی تحریک سب سے زیادہ زیادہ اسپیس دیا ، جس کی وجہ سے دنیا کو معلوم ہوا کہ مسلم خواتین صرف اپنے گھروں کو ہی نہیں سنبھالتی ہیں بلکہ وہ اپنے حقوق کیلئے لڑنا بھی جانتی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہاکہ ہمیں فخر محسوس ہورہا ہے کہ مولوی باقر سے منسوب ایوارڈ دئیے جا رہے ہیں، جنہوں نے اپنے قلم کاسودا کرنے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی ، میں بھی ایک مولوی اور عالم دین ہوں اور میری رگوں میں بھی وہی خون دوڑتا ہے ۔ ہم کبھی بھی اپنے قلم کا سودا نہیں کریں گے ۔ سچ اور حقیقت لکھنا اور دکھاناہی ہماری شناخت اور پہچان ہے ۔
اس موقع پر سینئر صحافی شاہین نظر ، جاوید رحمانی ، چشمہ فاروقی ، رضواں خالد ، کاشف حسن ، شیان عسکر ، معصوم ، رخسار احمد ، صدیقہ یاسمین ، اسرار احمد وغیرہ موجود رہے۔