گیت

104

کہاں ہو اے نرِ موہی
کہ تجھ بِن کھوئی کھوئی

ایک اکیلی میں بگیا میں، تنہائی آسیب
پگھلا سیسیہ کان میں ڈالے پتوں کی پازیب
وعدہ کرکے نہیں نہ آئے قصداً دیا فریب

کہاں ہو اے نرِ موہی
کہ تجھ بِن کھوئی کھوئی

لاج کا پہرا توڑ کے نکلی، لئے ملن کی آس
من میں کیا کیا ارماں جاگے، تم کو کیا احساس
انتظار کا اک اک لمحہ، لگے رام بن واس

کہاں ہو اے نرِ موہی
کہ تجھ بِن کھوئی کھوئی

عشق ہے کیا پیچیدہ جذبہ، آج یہ میں نے جانا
انتظار کی سولی چڑھ کے، خود کو ہے پہچانا
پیش کروں بولو اب کس کو، اشکوں کا نذرانا

کہاں ہو اے نرِ موہی
کہ تجھ بِن کھوئی کھوئی

شبنم صدیقی

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں